حذیفہ رحمان کا شمار ان خوش نصیب نوجوانوں میں ہوتا ہے جس نے اپنے علم،قابلیت اور محنت کی بدولت نہ صرف قومی سطح پر خود کو منوایا بلکہ سیاست و صحافت جیسے دو الگ الگ میدانوں میں بیک وقت اپنی پہچان قائم کی۔۔۔۔ایسے وقت میں جب نوجوان نسل مایوسی،بے راہ روی اور معاشرتی دباو ٔکا شکار دکھائی دیتی ہے،حذیفہ رحمان جیسے کردار معاشرے کے لیے نہ صرف امید کی کرن ثابت ہوتے ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے مشعل راہ بھی بنتے ہیں۔۔۔۔اس نوجوان کی شخصیت کا پہلا تعارف ایک تحقیقاتی صحافی کے طور پر سامنے آیا۔۔۔۔وہ ایک غیر روایتی صحافی تھا جس نے محض خبروں کی رپورٹنگ پر اکتفا نہ کیا بلکہ صحافت کو ایک باقاعدہ مشن کے طور پر اپنایا۔۔۔۔اس کی انویسٹی گیٹو رپورٹس میں نہ صرف گہرائی اور تحقیق شامل ہوتی بلکہ ان میں موجود سچائی کی روشنی اتنی تیز ہوتی کہ وہ حکومتی ایوانوں سے لے کر عدالت عظمیٰ تک اپنی بازگشت رکھتی تھیں۔۔۔حذیفہ رحمان کی صحافت کا محور عوامی مفاد، شفافیت اور احتساب تھا۔۔۔اس کی رپورٹس نے کئی مواقع پر بڑے بڑے سکینڈلز کو بے نقاب کیا،اداروں کو جھنجھوڑا اور حکومتوں کو احتساب پر مجبور کیا۔۔۔۔اس نوجوان کے تجزیے نجی ٹی وی چینلز پر بھی خوب سنے گئے۔۔۔۔اکثر ٹاک شوز میں جب بڑی بڑی شخصیات اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہوتیں،حذیفہ رحمان اپنی دلیل،تحقیق اور اعتماد کے ساتھ گفتگو کرتا اور اکثر اس کی بات سب پر حاوی ہو جاتی۔ ۔۔۔ناظرین اسکے اندازِ بیان،معلومات کی وسعت اور تجزیے کی پختگی سے متاثر ہوتے۔۔۔وہ بلاوجہ جذباتیت میں مبتلا نہیں ہوتابلکہ ہر موضوع کو منطقی بنیادوں پر سمجھاتا۔۔۔اس کی یہ خوبی اسے صرف صحافت تک محدود نہ رکھ سکی بلکہ اس کے سیاسی سفر کی بنیاد بھی بنی۔۔۔حذیفہ رحمان کی مسلم لیگ ن سے فکری وابستگی وقت کے ساتھ نمایاں ہوتی گئی۔۔۔اگرچہ وہ ایک صحافی کے طور پر غیر جانبداری کا دعویٰ کرتا رہا لیکن اس کے تجزیوں اور بیانات سے یہ واضح ہوتا رہا کہ اس کی سوچ ن لیگ کے بیانیے سے ہم آہنگ ہے مگر یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس نے اپنی سیاسی وابستگی کو کبھی اپنے صحافتی فرائض پر حاوی نہ ہونے دیا۔۔۔۔اس نوجوان نے سچ لکھا، درست بات کی اور جہاں ضرورت پڑی،اپنی پسندیدہ جماعت پر بھی تنقید کی،یہی پیشہ ورانہ دیانتداری اس کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب بنی۔۔۔اس نوجوان کی بڑھتی ہوئی شہرت اور فکری بلوغت نے مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی توجہ حاصل کی۔۔۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف جیسے رہنماوں کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ہوئیں،جنہوں نے ان کی بصیرت،فہم و فراست اور جذبے کو سراہا۔۔۔ان ملاقاتوں نے جلد ہی ایک نئے سفر کی بنیاد رکھی۔۔۔حذیفہ رحمان محض ایک صحافی نہ رہا بلکہ ن لیگ کے مشاورتی حلقے میں شامل ہو گیا۔۔۔لندن میں اکثر وہ میاں صاحب کے ساتھ بیٹھکوں میں دکھائی دینے لگے،اہم معاملات پر رائے دیتے اور پالیسی سازی میں شریک ہوتے۔۔۔جب 2022 ء میں پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئی اور شہباز شریف نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو انہوں نے حذیفہ رحمان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں وفاقی انفارمیشن کمشنر کا عہدہ سونپ دیا۔۔۔اس پر کشش عہدے پر انہوں نے بغیر کسی تنخواہ یا مراعات کے چند ماہ خدمات سر انجام دیں۔۔۔اس سے ان کے جذبہ خدمت اور اخلاص کا اندازہ ہوتا ہے مگر جلد ہی انہیں یہ ادراک ہوا کہ سرکاری عہدہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے تو انہوں نے کسی دقت یا تاخیر کے بغیر یہ عہدہ چھوڑ دیا اور اپنی مکمل توجہ ن لیگ کی سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز کر دی۔۔۔سیاسی میدان میں ان کا کردار وقت کے ساتھ مزید فعال ہوتا گیا۔۔۔وہ نہ صرف میڈیا پر پارٹی کا بیانیہ موثر انداز میں پیش کرتے بلکہ ن لیگ کی سوشل میڈیا مہمات،پالیسی سازی اور نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے مختلف پلیٹ فارمز پر متحرک کردار ادا کرنے لگے۔حذیفہ رحمان نے پارٹی میں وہ خلاء پر کیا جو جدید میڈیا اور نوجوانوں سے رابطہ کاری کے حوالے سے اکثر نظر آتا ہے۔۔۔وہ ایک جدید دماغ رکھتے تھے،ان کی سوچ نئی نسل کے قریب تھی اور ان کا اندازِ گفتگو اس قابل تھا کہ وہ ن لیگ کے دیرینہ ووٹرز کو بھی مطمئن کرتا اور نوجوانوں کو بھی متاثر کرتا۔۔۔2024 ء کے انتخابات میں جب ن لیگ نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی اور شہباز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے تو انہوں نے حذیفہ رحمان پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے انہیں وفاقی وزیر مملکت برائے ثقافت کا قلمدان سونپ دیا۔۔۔ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کے لیے یہ ایک بہت بڑی پیش رفت تھی۔۔۔ یہ نہ صرف ان کے لیے ایک ذاتی کامیابی تھی بلکہ جنوبی پنجاب جیسے پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال بھی تھی۔۔۔حذیفہ رحمان نے وزیر بننے کے بعد اپنی تمام تر توانائیاں ثقافت،فنون اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے وقف کر دی ہیں۔۔۔وہ نوجوان فنکاروں کی حوصلہ افزائی،مقامی ثقافت کے تحفظ اور ادبی میلوں کے انعقاد کے لیے کئی اقدامات کرنے کی پلاننگ کر چکے ہیں جبکہ ان کی وزارت میں پہلی بار پاکستان کی علاقائی ثقافتوں کو قومی سطح پر وہ نمائندگی ملتی دکھائی دے گی جس کی وہ ہمیشہ سے مستحق تھیں۔۔۔وہ اپنی وزارت کو روایتی افسر شاہی کے کلچر سے نکال کر ایک متحرک اور فعال ادارے میں بدلنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ وہ وزیر بننے کے باوجود اپنی عوام کے ساتھ مسلسل جڑے ہوئے ہیں۔۔۔ڈیرہ غازی خان میں اپنے حلقے اور قرب و جوار میں وہ کئی ایسے معاملات سلجھا چکے ہیں جو عشروں سے حل طلب تھے،کئی دیرینہ دشمنیوں اورخاندانی و قبائلی جھگڑوں کو انہوں نے اپنی دانشمندی اور حکمت سے ایسے دنوں میں نمٹایا ہے کہ بڑے بڑے سردار اور جغادری بھی اس نوجوان وزیر کو حیرت سے تک رہے ہیں۔۔۔حذیفہ رحمان اکثر سوشل میڈیا پر براہ راست سیشن کرتے،عوام کے سوالات کے جوابات دیتے،نوجوانوں کو مشورے دیتے اور عوامی مسائل پر کھل کر بات کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔ان کا لب و لہجہ آج بھی وہی عاجزانہ اور خالص ہوتا جو صحافت کے دور میں تھا۔۔۔۔ان کی گفتگو میں نہ گھمنڈ ہے نہ خود پسندی بلکہ ایک خالص اندازِ فکر اور عوام سے جڑت کا احساس نمایاں ہے۔۔۔ان کے مخالفین بھی اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ حذیفہ رحمان نے اپنی قابلیت،علم اور اصولوں کی بنیاد پر وہ مقام حاصل کیا جس کے لیے اکثر لوگ کئی دہائیاں صرف کر دیتے ہیں۔۔۔انہوں نے صحافت کو سیڑھی نہیں بنایا بلکہ مشن سمجھ کر اپنایا اور سیاست کو طاقت کا کھیل نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ بنایا۔۔۔ان کی کامیابی کسی اقربا پروری،دولت یا خاندانی پس منظر کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص محنت،مطالعے،استقامت اور مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔۔۔اگر ہم نوجوانوں کو سیاست،صحافت یا سماجی خدمات کے میدان میں آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں تو حذیفہ رحمان جیسی شخصیات کی کہانیوں کو سامنے لانا ہو گا۔۔۔ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں ان جیسے کرداروں کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہو گا تاکہ ہمارے نوجوان محض شکایتیں کرنے کے بجائے عملی میدان میں اتر کر تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔۔۔حذیفہ رحمان کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت نیک ہو،علم ہو،اخلاص ہو اور انسان خود پر یقین رکھتا ہو تو کوئی مقام دور نہیں۔۔۔انہوں نے دکھایا کہ پاکستان کا نوجوان اگر چاہے تو نہ صرف خود کو سنوار سکتا ہے بلکہ ملک و قوم کے لیے بھی اثاثہ بن سکتا ہے۔۔۔یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔۔۔حذیفہ رحمان کا سیاسی،فکری اور ادبی کردار اب بھی نشو و نما کے مراحل میں ہے۔۔۔ان کے پاس وقت ہے،وژن ہے اور ارادے بھی۔۔۔وہ پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی کی علامت بن چکے ہیں۔۔۔وقت کے ساتھ ان کی اہمیت اور بڑھتی جائے گی اور شاید آنے والے وقت میں وہ ان لیڈرز میں شامل ہوں گے جو صرف عہدوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار اور ویژن سے پہچانے جاتے ہیں۔۔۔۔حذیفہ رحمان کا یہ سفر نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام ہے کہ منزل انہی کو ملتی ہے جو منزل کا حق ادا کرتے ہیں۔۔۔۔