Wed, September 16, 2026

تقسیم آب: سندھ طاس معاہدے کی کہانی

تقسیم آب: سندھ طاس معاہدے کی کہانی

برصغیر پاک و ہند میں پانی ہمیشہ سے زرخیزی، تمدن اور سیاست کا محور رہا ہے۔ دریا نا صرف زمین کو سیراب کرتے ہیں بلکہ تہذیبوں کی تشکیل، معیشتوں کے فروغ اور سیاسی توازن میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب 1947 میں برطانوی راج کا اختتام ہوا اور پاکستان و بھارت دو الگ ریاستیں بنیں تو نہ صرف زمین، افراد اور اثاثے تقسیم ہوئے بلکہ فطرت کے دھارے، دریائوں کی روانی اور حیات ِ انسانی کے سر چشمے بھی نرغہ سیاست میں آ گئے۔ پانی جو ازل سے انسان کے لیے رحمت و راحت کا استعارہ رہا، اچانک قومی حدود کا اسیر ہوا اور تقسیم کا یہ پہلو بعد ازاں ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر گیا، جسے دنیا سندھ طاس معاہدے کے ذریعے حل ہوتے دیکھتی ہے۔ ایک معاہدہ جو بظاہر پانی بانٹنے کا انتظامی اقدام تھا لیکن یہ تہذیبوں کے مابین اعتماد، چالاکی اور مجبوری کا مظہر ثابت ہوا۔ برطانوی استعمار کی رخصتی کے بعد وجود میں آنے والے پاکستان کو نہ صرف سیاسی و اقتصادی چیلنجز درپیش تھے بلکہ آبی بقا کا سوال بھی سروں پر منڈلا رہا تھا۔ پنجاب کی سرزمین جسے دنیا کا زرخیز ترین خطہ کہا جاتا تھا ہندوستانی سرحد کے پار سے آنے والے پانی کا محتاج تھا۔ اپریل 1948 میں بھارت نے اچانک پانی کی روانی روک دی۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے سیاسی حلقوں کو خوابِ غفلت سے جگایا اور سفارتی تدابیر کو متحرک کیا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی جب ایک سنگین رخ اختیار کرنے لگی تو ورلڈ بنک نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ نو سالہ طویل اور صبر آزما مذاکراتی عمل کے بعد 1960 میں لاہور کی فضا نے وہ لمحہ دیکھا جب ایوب خان، پنڈت نہرو اور یوجین بلیک نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے۔ کہا جاتا ہے کہ دریا کبھی مرتے نہیں وہ زمین کی رگوں میں ہمیشہ بہتے رہتے ہیں۔ مگر سندھ طاس معاہدے کے بعد یوں لگا جیسے دریائوں کی روح چھین لی گئی ہو۔ سندھ طاس معاہدہ کوئی معمولی سیاسی کاغذ نہ تھا، یہ صدیوں سے بہتے پانی کے بیچ کھینچی گئی وہ لکیر تھی جس نے تہذیبوں کو یتیم کر دیا اور ثقافت کو اجاڑ دیا۔ معاہدے کے تحت بھارت کو تین دریا راوی، ستلج اور بیاس مکمل طور پر دے دئیے گئے۔ جبکہ پاکستان کے حصے میں سندھ، 
چناب اور جہلم آئے مگر بھارت کو ان پر مخصوص حد تک استعمال کی اجازت دے دی گئی۔ اس فنی تقسیم کے پیچھے صرف سیاسی حکمت ہی نہیں تھی بلکہ اقتصادی اضطراب اور جغرافیائی حقیقتوں کی تلخ مجبوری بھی تھی۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مشرقی دریائوں سے محرومی کا سامنا تھا، معاہدے کے تحت پاکستان کو اپنے زرعی نظام کی تعمیرِ نو کے لیے بین الاقوامی مالی معاونت فراہم کی گئی اور ورلڈ بنک کی زیر نگرانی ایک ایسا نظام ترتیب دیا گیا جس کے ذریعے مغربی دریائوں کا پانی نئے نہری ڈھانچے کے ذریعے مشرقی علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان میں منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، چشمہ بیراج اور نہروں کا نظام ترتیب دیا گیا۔ ان منصوبوں کی وجہ سے پاکستان نے نا صرف پانی کی ترسیل کو ممکن بناتے پنجاب اور سندھ کی زرعی معیشت کو سہارا دیا بلکہ اپنی بجلی کی ضروریات کو بھی کیا۔ سندھ طاس کا معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا مسئلہ نا تھا، بلکہ یہ مسئلہ قومی خود مختاری اور بقا سے بھی جڑا تھا۔ پاکستان کی قیادت نے اس معاہدے کو ایک نا گزیر حقیقت تسلیم کرتے ہوئے قبول کیا مگر اندرونِ ملک اس پر کئی حلقے سوال اٹھاتے رہے۔ ایوب خان کی حکومت نے اس معاہدے کو اپنی دانش و حکمت کا مظہر قرار دیا مگر قومی حلقوں میں یہ سوال جنم لیتا رہا کہ آیا پاکستان نے اپنی آئندہ نسلوں کا پانی بیچ کر وقتی اطمینان حاصل کیا؟ سیاسی دانشوروں کا ایک حلقہ اس معاہدے کو کثیر نقصان اور قلیل فائدہ کی مثال قرار دیتا رہا۔ سندھ طاس معاہدہ بظاہر تو ایک سفارتی فتح تھا جسے عالمی سطح پرآبی تنازع حل کرنے کی کامیاب مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔اس معاہدے کا ایک بڑا فائدہ یہ رہا کہ گزشتہ چھ دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان مکمل آبی جنگ نہیں ہوئی۔ ورلڈ بنک اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین اسے اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ اگر فریقین نیک نیتی سے کام لیں تو متنازع آبی وسائل کو بھی باہم افہام و تفہیم سے بانٹا جا سکتا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک مستقل کمیشن قائم کیا گیا جو باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے ہوئے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس معاہدے کی خامیاں نمایاں ہو گئیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں بے جا اضافہ اور پانی کی کمی نے معاہدے کی افادیت پر سوالات اٹھا دئیے۔ انگریزوں کی نقشہ کشی میں کہیں بھی اس امر کا لحاظ نہ رکھا گیا کہ دریا اک قدرتی وحدت ہیں اور ان کی تقسیم انسانی زندگی کے تسلسل کو تاراج کر سکتی ہے۔ یوں پاک و ہند کے وجود میں آنے کے بعد پانی کا سوال ایک ایسی خاردار حقیقت بن کر ابھرا جس نے دونوں ممالک کے بیچ ابدی بدگمانی کے بیج بو دئیے۔ بھارت نے اگرچہ معاہدے پر دستخط کیے مگر بعد ازاں اس نے مغربی دریائوں پر بگلیہار ڈیم، کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ، رتلے پروجیکٹ جیسے منصوبے شروع کیے جن پر پاکستان کو شدید اعتراضات رہے۔ پاکستان نے ان منصوبوں کو معاہدے کی روح کی منافی قرار دیا اور عالمی ثالثی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا کیونکہ ان سے بہائو میں کمی، زراعت میں نقصان اور سیلابی خطرات کے بڑھنے کا اندیشہ تھا۔ بگلیہار کیس میں بھارت کو جزوی طور پر رعایت ملی مگر پاکستان کی آبی تشویش ایک عالمی صدائے احتجاج بن کر ابھری۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کرۂ ارض پر موسمیاتی تغیرات نے نئی صورتیں اختیار کر لیں۔ گلیشیئرز کی پگھلاہٹ، برسات کی بے ترتیبی اور دریائوں کی بے رحم طغیانی نے واضح کر دیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک جامد دستاویز ہے جو وقت کے تغیرات کا سامنا کرنے سے قاصر ہے۔ اس میں ماحولیاتی اثرات کا کوئی بندوبست نا تھا اور نہ ہی پاکستان کی داخلی وحدتوں کو اعتماد میں لیا گیا۔ نریندر مودی کے دورِ حکومت میں پانی ایک تذویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے لگا۔ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے جیسے بیانات نے واضح کیا کہ بھارت اب سندھ طاس معاہدے کو بھی سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر برتنا چاہتا ہے۔یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا سندھ طاس معاہدہ اپنی افادیت کھو چکا ہے یا اسے مزید بہتر بنانے کی گنجائش ہے؟ سندھ طاس معاہدہ اگرچہ اپنے وقت کا دانشمندانہ فیصلہ تھا مگر آج کی دنیا میں یہ جزوی اور تکنیکی بنیادوں پر قائم ایک پرانا سانچہ بن چکا ہے، جسے اب نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پانی اب صرف ایک وسائل نہیں بلکہ جغرافیائی ہتھیار اور ماحولیاتی بقا کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ اب اس تلوار کی مانند ہے جسے اگر بروقت نا سنبھالا جائے تو اپنوں پر بھی چل سکتی ہے۔ پاکستان کو نہ صرف اس تلوار کو دشمن کے ہاتھ میں جانے سے روکنا ہے بلکہ اس کی دھار کو اپنی قوم کی فلاح، اتحاد اور بقا کیلئے بھی استعمال کرنا ہے۔

ٹیگز: