Wed, September 16, 2026

ہندوستان اور پانی کی تقسیم

ہندوستان اور پانی کی تقسیم

برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد دریاؤں کی تقسیم بھی لازم تھی۔ ہندوستان کی تقسیم نے دریائے سندھ کے پانیوں کو بھی تقسیم کر دیا۔ انڈس واٹر سسٹم کے ہیڈ ورکس ہندوستان میں جبکہ نہریں پاکستان میں تھیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق بہاؤ کی اجازت کے لیے سٹینڈ سٹل معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اپریل 1948 میں جب یہ معاہدہ ختم ہوا تو بھارت نے پاکستان جانے والی نہروں کا پانی روک لیا۔ بھارت تقسیم کے بعد سے ہی جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے معاملہ پر کشیدگی کی وجہ سے عالمی برادری بھی متحرک ہوئی۔ پھر دہلی میں مئی 1948 میں انٹر ڈومینین ایکارڈ پر دستخط ہوئے، جس کے تحت بھارت کو سالانہ ادائیگیوں کے بدلے پاکستان کے دریاؤں کو پانی فراہم کرنا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے معاملہ کا مستقل حل ناگزیر تھا۔ 1951 میں ڈیوڈ لیلینتھل نے عالمی بینک کی مداخلت کے ساتھ دریائے سندھ کے نظام کو مشترکہ طور پر چلانے کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ تجویز کیا۔ اگلے سال ہندوستان اور پاکستان کے انجینئرز اور ورلڈ بینک کی ایک ٹیم نے ایک ورکنگ کمیٹی بنائی، اس کمیٹی نے اقتصادی ترقی کے لیے پانی کی فراہمی کو بڑھانے کے میکنزم پر بات چیت کے لیے میٹنگ کی۔ سال 1954 میں ورلڈ بینک نے بھارت اور پاکستان کے درمیان معاہدے پر تعطل کو حل کرنے کے لیے اپنی تجویز پیش کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 19 ستمبر 1960 میں انڈیا کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے کراچی میں سندھ طاس معاہدہ پر دستخط کیے۔ اس اہم معاہدے کے نتیجے میں مستقل انڈس کمیشن تشکیل دیا گیا۔ بعد ازاں اس کمیشن کے ذریعے کئی تنازعات کو حل بھی کیا گیا۔ دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ پہلے بھی تنازعات، اختلافات اور جنگوں کی نذر ہو چکا ہے، بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی تو کئی بار کی گئی، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ یہ معاہدہ یکطرفہ معطل کر دیا گیا ہو۔ یہ پہلی بار ہوا کہ بھارت نے اپنی انٹیلی جنس کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کر دیا۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک کامیاب معاہدہ ہے، جسے مودی حکومت گزشتہ کئی برس سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب 2017 میں پاکستان نے کشن گنگا ڈیم اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن پر ہندوستان کے کام پر اعتراض کیا تو ورلڈ بینک نے 2022 میں ڈیموں کے تنازع کو حل کرنے میں مدد کے لیے ایک غیر جانبدار ماہر اور ثالثی عدالت کا تقرر کیا۔ تاہم پاکستان کے اعتراضات کے باوجود انڈیا نے اپنے متنازع منصوبے جاری رکھے۔ بات یہیں تک نہیں رکی، 2023 میں بھارت نے معاہدے میں دو طرفہ ترمیم کی درخواست کی لیکن پاکستان نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ جس کے بعد 2024 میں بھارت نے مستقل انڈس کمیشن کی تمام میٹنگز منسوخ کر دیں۔ اب پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو جواز بناتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا۔ تاہم معاہدہ کے مطابق بھارت ایسا نہیں کر سکتا۔ اس معاہدے کی پاسداری دونوں فریقین پر لازم، جسے کوئی بھی یکطرفہ ختم نہیں کر سکتا۔ اگر بھارت ضدی بچے کی مانند ایسا کرتا بھی ہے تو جہاں پاکستان کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا وہیں انڈیا کو بھی سیلاب سے تباہی کا سامنا کرنا ہو گا۔ سندھ کے پانی میں پاکستان کا حصہ انڈس ریور سسٹم سے 133 ملین ایکڑ فٹ ہے جبکہ ہندوستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی جو سہولیات ہیں، اس سے بھارت صرف 3 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ بھارت 130 ملین ایکڑ فٹ پانی پاکستان پہنچنے سے کیسے روکے گا؟ اور اگر روکتا ہے تو خود بھی تباہ ہوتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ قدرتی اور جغرافیائی لحاظ سے دونوں ممالک کی مجبوری ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی منشا سے نہیں نکل سکتا۔ اگر بھارت ایسا کر کے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے یا پھر وہ انڈس واٹر ٹریٹی میں اپنی مرضی کے مطابق رد و بدل کا خواہاں ہے تو بھی اس کا یہ خواب پورا نہیں ہونے والا۔ پاکستان کو اپنا بھرپور مقدمہ لڑنا ہو گا۔ پاکستان اس سال پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے، دوسری طرف سندھ سے نہریں نکالنے کے مسئلے نے پاکستانی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سونے پر سہاگا کہ اب بھارت نے بھی دریائے سندھ کے پانی کو روکنے کی چال چل دی ہے۔ بھارت میں انتہا پسند عناصر کا موقف ہے کہ چونکہ 
دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا 80 فیصد پانی پاکستان کو جاتا ہے لہٰذا اس معاہدے کو منسوخ کر دیا جائے۔ بھارتی جنتا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس 80 فیصد پر پاکستان کا حق ہے جس طرح بھارت کو دریائے راوی، بیاس اور ستلج پر حق دیا گیا۔ بھارتی صحافی گارگی برسائی کے مطابق سندھ طاس معاہدہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا، دریاؤں کی تقسیم ان کے بہاؤ اور ہائیڈرولوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی۔ ہم اگر پاکستان جانے والے دریاؤں کا رخ موڑنا بھی چاہیں تو بھی نہیں موڑ سکتے، کیونکہ وہ ڈھلان کی طرف اتریں گے جو کہ پاکستان کی طرف ہے۔ نہ جانے کیوں مودی حکومت تکنیکی معاملات کو بھی اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ آبی جارحیت سے بھارت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنے کی دھمکی کام نہیں آئے گی، معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں بین الاقوامی کنونشن اور اصول و ضوابط موجود ہیں جو ملکوں کے آبی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ تاہم بھارت کی اس دھمکی سے پاکستان کے اندر جاری آبی لڑائی کیا رخ اختیار کرتی ہے، یہ ایک اہم نقطہ ہے۔ بلاول بھٹو نے بھارت کو تو سندھ کا پانی روکنے کی صورت میں سخت للکارا ہے لیکن طاقتور حلقوں اور شہباز حکومت جس کے ساتھ وہ اتحاد میں ہیں، ان سے ڈیل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ابھی تک نہروں کے معاملے پر کچھ خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے، سندھ میں عوام سڑکوں پر ہے، عوامی دباؤ سے پیپلز پارٹی اپنے لب و لہجے میں سختی لانے کا ڈرامہ رچا رہی ہے، ورنہ صدر زرداری تو گذشتہ سال ہی دستخط کر چکے ہیں۔ سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں اس سال پانی کا بحران ہے۔ جس سے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم ایک تنازع کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ارسا نے اپنے اجلاس میں رواں ماہ صوبوں کو صرف پینے کے پانی کی تقسیم کا فیصلہ کیا۔ پاکستان تو پہلے سے ہی 50 فیصد سے زائد پانی کی کمی کا شکار ہو چکا ہے۔ آبی ذخائر میں پانی کی کمی کا اثر فصلوں پر پڑے گا جو کاشتکاروں کے لیے بھی خطرناک ہے، آئندہ برسوں میں غذائی بحران اور خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے پانی کی ایک ایک بوند اس کی اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کو دیر کیے بغیر پانی کے مسئلے پر اندرونی اور بیرونی جارحیت پر قابو پانے کی ضرورت ہے، ورلڈ بینک اور دیگر چینلز کو بروئے کار لاتے ہوئے انڈس واٹر ٹریٹی کی بحالی اور اس کو مزید محفوظ بنانے پر زور دینا ہو گا۔ پاکستان کو اپنے حق کے لیے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا مقدمہ سنجیدگی سے لڑنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: