Wed, September 16, 2026

پاسپورٹ کی قدر و منزلت کیلئے نئی حکمت عملی

پاسپورٹ کی قدر و منزلت کیلئے نئی حکمت عملی

کسی بھی ملک کا پاسپورٹ اس ملک کی عالمی سطح پر معاشی و سیاسی طاقت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پاسپورٹ کو طاقت  اس ملک کی معیشت، جمہوریت، انسانی حقوق کے تحفظ، آزادی رائے، امن، سیاسی استحکام اور سفارتی تعلقات کی وسعت فراہم کرتی ہے۔ رواں برس ہینلے پاسپورٹ انڈیکس نے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں  پاکستانی پاسپورٹ بدترین پاسپورٹ کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ مسلسل پانچ سال سے پاکستانی پاسپورٹ میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ ملک کو قائم ہوئے تقریباً آٹھ دہائیاں ہو گئیں مگر پاکستان کا پاسپورٹ دنیا میں اپنا مقام بلند کرنے کے بجائے پستی کی طرف گامزن ہے۔
قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں ملکی پاسپورٹ مضبوط حیثیت رکھتا تھا۔ طاقتور ممالک پاکستانیوں کو آمد پر ویزا جاری کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ کئی دہائیوں تک ہندوستان نے بھی یہ سہولت دیئے رکھی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ 1970 آیا تو امریکہ نے پاکستان کے لیے یہ پالیسی ختم کر دی۔ سوویت یونین نے 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ و یورپ کو اپنی سلامتی خطرے میں دکھائی دی۔ امریکہ و یورپ کی سرپرستی میں پاکستان، سویت ہونین کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کیلئے میدان میں اترا۔ جس کے نتیجے میں افغان پناہ گزینوں کا اک سیلاب پاکستان اُمڈ آیا۔ ملک بھر میں غیر قانونی اسلحے، منشیات کی فراوانی ہو گئی۔ افغان پناہ گزینوں کو کسی ایک جگہ محدود کرنے کے بجائے پورے ملک میں پھیلنے کی اجازت دی گئی۔ اس جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کا یہ صلہ ملا کہ 1983 میں برطانیہ اور دیگر بڑے یورپی ممالک نے پاکستانیوں کو آمد پر ویزا جاری کرنے کی پالیسی ختم کر دی۔ جن کی جنگ لڑ رہے تھے انہی ملکوں نے اپنے ملک آمد کے راستے تنگ کر دیئے۔
آج حالات یہ ہیں کہ پاکستانی پاسپورٹ کئی درجے تنزلی کے بعد اب عالمی درجہ بندی میں 103ویں نمبر پر ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز اب دنیا کے صرف 30 ممالک میں آمد پر ویزا حاصل کر سکتے ہیں جن میں قطر، مالدیپ، نیپال، سری لنکا، کمبوڈیا، تیمور لیسٹے شامل ہیں، جبکہ افریقہ کے جن ممالک میں آمد پر یہ سہولت میسر ہے ان میں برونڈی، کومورو جزائر، کیپ وردے جزائر، جبوتی، گنی بساؤ، کینیا، مڈغاسکر، موزمبیق، روانڈا، سینیگال اور سیرا لیون وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح سے کچھ کیریبین ممالک کا ویزا بھی آمد پر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس لسٹ پر نظر دوڑائیں تو ان میں سوائے قطر کے کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں پاکستانیوں کی اکثریت رہنے یا سیر کرنے میں دلچسپی رکھتی ہو گی۔
پاکستان کی پاسپورٹ عالمی رینکنگ میں تنزلی کی بڑی وجہ پاکستان میں سیاسی و معاشی عدم استحکام اور بیڈ گورننس ہے، خیر سے جب سے وطن عزیز معرضِ وجود میں آیا ہے اس کو استحکام نصیب نہیں ہوا۔ پاکستان کا زیادہ تر سفر مارشل لا کے زیر سایہ رہا اور جب کبھی جمہوریت آئی تو اس وقت بھی اصل طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی تھی۔ سیاستدانوں کا کردار محض کٹھ پتلیوں کا رہا۔ عوام بھی سوچتے ہوں گے کہ حالیہ سفارتی کامیابیاں پاسپورٹ کی رینکنگ کو کیوں بہتر نہیں کر سکیں۔ تو وجہ یہ ہے کہ صرف امریکا کے صدر کی تعریف ہمیں وہ مقام نہیں دلا سکتی۔ ملکوں کو عزت و احترام ان کا مستحکم گورننس ڈھانچہ، مضبوط معیشت، تجارت، سفارت کاری، سکیورٹی اور ثقافتی تبادلے سے حاصل ہوتا ہے۔
خبر آئی ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی تشویشناک عالمی رینکنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے پاسپورٹ کا ڈیزائن بدلنے، اس کو رنگ روغن اور تاریخی عمارتیں شامل کر کے، جدید پرنٹنگ کے ذریعے پاسپورٹ کی عزت بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس سیانے  نے یہ مشورہ دیا ہے اسے تمغہ عقلمندی ملنا چاہیے۔ پاسپورٹ کا رنگ روپ بدلنے سے کسی پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر ہوتی تو امریکی پاسپورٹ پہلے نمبر پر ہوتا۔ قرضوں پر چلنے والے ملک کا پاسپورٹ کو خوبصورت بنانے پر پیسہ ضائع کرنے کی سوچ سے حکمرانوں کی ترجیحات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک پاکستانی پاسپورٹ میں متعدد بار تبدیلیاں کی گئیں، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ پاسپورٹ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قدر کھوتا ہی چلا گیا۔
پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات سے دنیا بخوبی واقف ہے اور وہ پاکستان کو اسی نظر سے دیکھتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرنا ہو گی کہ عالمی برادری میں اگر اپنے پاسپورٹ کی عزت کرانی ہے تو ملک میں سیاسی و معاشی استحکام، مضبوط اور آزاد نظام عدل، انسانی حقوق کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی، دہشتگردی اور بیروزگاری کا خاتمہ ضروری ہے، محض وقتی سفارتی پذیرائی اور رنگ و روپ کی تبدیلی  سے پاسپورٹ کو عزت نہیں ملے گی۔

ٹیگز: