خطے کی سیاست ہمیشہ پیچیدہ اور متغیر رہی ہے، مگر طالبان کا حالیہ رویہ ایک واضح تضاد اور عملی حقیقت کی کھلی تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ گروہ جو کل تک شریعت اور اسلامی غیرت کے نام پر پہاڑوں میں عسکری کارروائیاں کرتا رہا، جو بامیان کے بدھ مجسموں کو غیر اسلامی بت کہہ کر تباہ کر دیا، آج وہی طالبان بھارت کے ساتھ سرکاری مذاکرات اور تجارتی تعلقات کے لیے دہلی کے دورے پر ہیں۔ یہ منظر نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس سے طالبان کی اصل ترجیحات اور بیانیے کی کمزوری بھی بے نقاب ہوتی ہے۔ طالبان کی پوری عسکری جدوجہد میں بھارت ایک ایسا کردار تھا جسے ہمیشہ دشمن سمجھا گیا۔ بھارتی سرمایہ کاری، اس کی ثقافتی ورثے اور خطے میں اثر و رسوخ کو طالبان نے مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا۔ دہلی، جسے طالبان نے برسوں ’’کافر ریاست‘‘ اور ’’بت پرست‘‘ کہا، آج وہی ریاست ان کے تجارتی اور سیاسی رابطوں کا مرکز بن گئی ہے۔ وزیرِ تجارت نورالدین عزیری دہلی میں نئے تجارتی راستوں، بندرگاہوں، اور سرمایہ کاری کے امکانات کے لیے گفت و شنید کر رہے ہیں، اور یہی رویہ ان کے نظریاتی دعوؤں کے بالکل برعکس ہے۔
طالبان کے لیے بھارت کی قربت صرف تجارت یا معاشی تعلقات کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ خطے میں اپنی سیاسی حیثیت کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی بھی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ان کا بیانیہ سخت اور اصولی رہا ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر سرحدی تنازعات، ٹی ٹی پی کے مسائل اور مہاجرین کے معاملات پر طالبان کی حکمت عملی اکثر کشیدگی پیدا کرتی رہی۔ مگر بھارت کے ساتھ ان کے رویے میں کوئی سختی یا اصولی موقف نظر نہیں آتا۔ کشمیر، سی اے اے، یا بھارتی مسلمانوں کی حالت پر کوئی بات نہیں کی جاتی۔ زبان پر ‘‘امت مسلمہ’’ کا ذکر موجود ہے، لیکن عملی ترجیح واضح طور پر معاشی اور سیاسی مفادات کی ہے۔
یہ تضاد صرف پاکستان کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ طالبان کے عالمی رویے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ طالبان جب مغربی ممالک یا بین الاقوامی اداروں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو بیانیہ مذہبی اور اصولی زبان میں ہوتا ہے: ‘‘ایمان، مزاحمت، اور وقار کے ساتھ دنیا سے تعلق قائم کرنا۔’’ لیکن دہلی پہنچتے ہی وہی زبان مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہے، اور وہاں صرف مفاد اور عملی ضرورتیں غالب نظر آتی ہیں۔ یہ رویہ طالبان کی اصل ترجیحات اور سیاسی لچک کا واضح مظہر ہے۔
طالبان نے کل تک خود کو سخت گیر اسلامی گروہ کے طور پر پیش کیا، جو شریعت کے محافظ ہیں اور کسی بھی قسم کے غیر اسلامی اثرات کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بامیان کے بدھ مجسمے اس کی واضح مثال تھے۔ مگر آج وہی طالبان بھارت کے ساتھ تعلقات کے لیے قدم بڑھا رہے ہیں، بھارت جو عالمی سطح پر بدھ اور ہندو ورثے کا نگہبان اور ترجمان بھی ہے۔ نظریاتی سختی جب عملی سیاست کے دباؤ سے ٹکراتی ہے تو یہی منظر سامنے آتا ہے: اصول پس پشت، اور مفاد غالب۔
تجارت کے نام پر یہ دورہ افغانستان کے معاشی بحران کا بھی ایک واضح جواب ہے۔ ملک میں بے روزگاری، گندم اور خوراک کی کمی، اور بیرونی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت نے طالبان کو بھارت کے دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ افغانستان کے پاس بیچنے کے لیے وسائل محدود ہیں، خریدنے کے لیے رقم نہیں، اور معاشی تنہائی نے انہیں مجبور کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں۔ یہ تعلقات اب کسی شک کے بغیر ایک حقیقت بیان کرتے ہیں، طالبان کی سیاست اسلام سے نہیں بلکہ مفاد اور خطے کی طاقت کے توازن سے چلتی ہے۔
پاکستان کے حوالے سے طالبان کا رویہ خاص طور پر متضاد ہے۔ ایک طرف وہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ مذہبی بھائی چارے اور امت مسلمہ کے نام پر تعلق کی بات کرتے ہیں، تو دوسری طرف عملی طور پر پاکستان کے لیے سرحدی مسائل، مہاجرین، اور ٹی ٹی پی کے حوالے سے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ یہ نرمی اور شائستگی واضح تضاد ہے، جو ان کے اصولی بیانیے کو چیلنج کرتی ہے۔
طالبان کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا فقدان اور پاکستان کے ساتھ سختی، خطے کے طاقت کے ڈھانچے کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ یہ رویہ صرف تجارتی یا معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے: افغانستان اب خطے میں اپنی حیثیت اور اثر و رسوخ کے لیے بھارت کو اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہا ہے، اور پاکستان کو پیغام دے رہا ہے کہ اسے موجودہ رویے میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔
تجارت، سرمایہ کاری اور روٹ کی باتوں کے باوجود طالبان کی اصل ترجیحات واضح ہیں طاقت، اثر و رسوخ اور خطے میں اپنی حیثیت مستحکم کرنا۔ بیانیہ جس میں ایمان، شریعت، اور اصول شامل ہیں، عملی دنیا کے دباؤ اور معاشی بحران میں پس پشت چلا گیا ہے۔ دہلی میں ان کا رویہ اور پاکستان کے ساتھ ان کا بیانیہ اس تضاد کی بہترین مثال ہے۔
طالبان جب پاکستان اور مغرب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ایمان اور مزاحمت کی زبان استعمال کرتے ہیں، لیکن بھارت میں ان کا رویہ مکمل طور پر عملی سیاست اور مفاد پرستی پر مبنی ہے۔ یہ تضاد، یہ دوغلاپن اور یہ اصولوں کی خاموشی، افغانستان کے موجودہ رویے کا اصل عکس ہے۔ خطے کے سیاسی منظرنامے میں یہ رویہ مستقبل کے تعلقات اور حکمت عملی کے لیے اہم اشارہ فراہم کرتا ہے۔