ملک کا مستقبل جمہوریت کے تسلسل میں ہے اگر انتخابات کا انعقاد اپنے وقت پر ہوتا رہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ ہم جلد ہی ایک جمہوری معاشرہ بن کر اپنے مسائل خود حل کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے، اس کے ساتھ قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی خود مختاری حاصل ہو گی بانی پاکستان بھی ایسا ہی پاکستان چاہتے تھے۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناحؒ 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِاعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ قائداعظمؒ ایک بااصول رہنما تھے جن کی پوری زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے جس کا ہرورق ان کے افکار اور کردار کی گواہی دیتا ہے وہ ان کے قول و فعل میں تضاد تھا نہ عمل میں جو کچھ کہا اس پر عمل کر کے دکھایا ان کی خواہش تھی کہ پاکستان ایک ایسا پاکستان بنے جہاں قانون کی حکمرانی ہو کوئی چھوٹا بڑا نہ ہو جس کے لئے انہوں جد وجہد بھی کی اور عمل کر کے بھی دکھایا۔
قائداعظمؒ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی چاہتے تھے وہ عوام کو بااختیار دیکھنا چاہتے تھے، انصاف، انسانی مساوات اور سماجی و معاشی عدل چاہتے تھے وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں ہر شخص کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری آزادی ہو۔ قائداعظمؒ کی پوری سیاسی زندگی کی جدوجہد کا مرکز اور محوریہ اعلیٰ ارفع نظریہ تھا کہ برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی حقوق سے بہرہ ور کر کے ان کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ باوقار شہری بنایا جائے قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے مستقبل کے بارے میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان فرمایا تھا۔ ’’پاکستان کے مستقبل کا دارومدار پاکستان کے عوام پر ہے نہ کہ ان مٹھی بھر ایڈمنسٹریٹرز اور آمروں پر جنہوں نے اپنی قسمت ان کے ساتھ وابستہ کر لی ہے۔ یہ وہ غریب پاکستانی مرد اور خواتین تھے جنہوں نے قائداعظمؒ کی تائید و حمایت کی جس نے مسلم لیگ کو اتنا مضبوط اور طاقتور بنایا ان کی تائید و حمایت سے قائد پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔جہاں آج ہم آزاد فضائوں میں سانس لے رہے ہیں۔ قائد ایک بااصول راہنما تھے جنہوںنے اپنی ساری زندگی نجی اور سیاسی ،صاف ستھری اور ایماندارانہ طریق سے بسر کر کے دنیا بھر میں ایک مثال قائم کی۔ ان کی ساری زندگی ہر حیثیت میں شاندار ڈسپلن اور درخشاں اصولوں کی پابند رہی۔ قائد نے زندگی گزارنے کے جو اصول بیان کئے ان کے مطابق انسان کو نجی زندگی کے ساتھ سیاست میں دیانت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پابندی کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ قائداعظمؒ نہ صرف اپنی نجی زندگی میں بلکہ سیاسی زندگی میں بھی اعلیٰ اقدار کے ہمیشہ پابند رہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 1946ء میں مرزا حسن اصفہانی جو قائداعظم کے معتمد ساتھی رہ چکے ہیں، مسلم چیمبر آف کامرس کلکتہ کی نشست سے بنگال صوبائی اسمبلی کے لیے امیدوار تھے، انہیں اور ان کے حامیوں کو پورا یقین تھا کہ وہ بلا مقابلہ منتخب ہو جائیں گے۔ تاریخ مقررہ سے صرف دو تین دن قبل ایک اور شخص نے بطور اْمیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر دئیے ۔ اس دوران میں کلکتہ کے مشہور مسلم لیگی راہنما جناب عبدالرحمنٰ صدیقی نے مرزا حسن اصفہانی کو بتایا کہ ان کا مخالف امیدوار زرِ ضمانت جو اس نے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت جمع کرایا تھا کی ادائیگی پر مقابلہ سے دست بردار ہونے کو تیار ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اسے اڑھائی سو روپے زر ضمانت ادا کر دیا جائے تا کہ انتخاب بلا مقابلہ ہو جائے۔ قائداعظم اتفاق سے ان دنوں کلکتہ میں مرزا حسن اصفہانی کے ہاں مقیم تھے، انہیں اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے ایسا کرنے سے سختی سے منع کیا اور کہا کہ دو سو پچاس روپے کی رشوت دے کر دوسرے امیدوار کو مقابلہ سے ہٹانے کی کوشش کرنا نہایت غلط بات ہے۔ اور مزید کہا کہ مخالف امیدوار کو بتا دیا جائے کہ ایسا نہیں ہو گا اور انتخاب میں مقابلہ ہو گا۔ چنانچہ مرزا حسن اصفہانی کو یہ الیکشن لڑنا پڑا اور ان کا مخالف امیدوار کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکا۔اس طرح کی ہزاروں مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے کہ قائد نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔
قائداعظمؒ نے اپنی ساری سیاسی زندگی میں جذبات سے کام نہیں لیا، ہمیشہ اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ٹھنڈے دل اور دماغ سے سیاست کی پیچیدگیوں کو سلجھانے کی کوشش کی۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ان کے ذہن میں کیا تھا اس کا اندازہ ان کے اس خطاب سے لگایا جاسکتا ہے جو فروری 1948 میں امریکی عوام کو ریڈیو کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے قائڈ اعظم محمد علی جناحؒ نے کہا: پاکستانی قانون کو ابھی پاکستانی اسمبلی نے بنانا ہے، مجھے یہ بات معلوم نہیں کہ قانون کی اصل وضع کیا ہوگی، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ایک جمہوری قسم کی ہو گی،جس میں اسلام کے بنیادی اصول بھی شامل کئے جائیں گے۔ آج بھی یہ قانون ایسے ہی قابل عمل ہیں جیسے کہ وہ 14 سو سال قبل تھے۔اسلام اور اسکے نظریے نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے۔ یہ ہمیں آدمی،انصاف کے مساوات اور دوسروں سے اچھائی کا درس دیتی ہے۔ ہم ان اقدار کے وارث ہیں اور مستقبل کے پاکستانی قانون کو بنانے کی مکمل ذمہ داری کا احساس رکھتے ہیں۔
ہمارے موجودہ بااصول رہنما قائد کے افکار کی روشنی میں پاکستان کو صرف اسی صورت میں مستحکم خوشحال اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں جب ہمارے ملک میں خوف خدا، احترام آدمیت، جمہوریت کا نفاذ اور شہری آزادیوں کے تحفظ کا دور دورہ ہو گا۔ عوام کی امنگوں اور آرزوئوں کی تکمیل صرف اسی وقت ہو گی جب عدل و انصاف کا پرچم سر بلند ہو گا جب قانون کی حکمرانی کا راج ہو گا۔ جب ذرائع پیداوار اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہوگی اور جب غربت جہالت کا خاتمہ ہو گاتاکہ عام پاکستانی سکھ اور چین کا سانس لے سکیں۔قانون کی حکمرانی قائم کر کے ہی ہم بانی پاکستان کو بہتر انداز میں خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں۔