Wed, September 16, 2026

قرضے نہیں سرمایہ کاری اور مہارت

قرضے نہیں سرمایہ کاری اور مہارت

پاک چین دوستی کے 75سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو قرضے نہیں بلکہ سرمایہ کاری اور مہارت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بہت پیاری بات کی ہے۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی قرضہ 80ہزار 6سو ارب روپے یعنی 80.6 ٹریلین روپے پر مشتمل ہے جس میں 54.5 ٹریلین اندرونی/ملکی اور 26.1 ٹریلین بیرونی/غیرملکی قرضے پر مشتمل ہے۔ ان روپوں کو ڈالر میں دیکھیں تو یہ 286.8 ارب ڈالر بنتے ہیں جس میں تقریباً 96 ارب ڈالر غیر ملکی اور 192 ارب ڈالر ملکی قرض شامل ہیں۔ قرض کا اتنا حجم بہت زیادہ ہے اور یہ ہماری خام قومی آمدنی کے 70فیصد کے برابر ہے۔ قرض اور خام قومی آمدنی کی 70فیصد شرح انتہائی بلند تصور کی جاتی ہے اور پھر ایک ایسے ملک کے لئے جس کی معاشی شرح نمو 2 یا 3 فیصد کے برابر ہو، جس کی برآمدات اس کی درآمدات سے کم ہوں۔ زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہوں۔ زرمبادلہ کے کم از کم ذخائر بھی ادھار پر چل رہے ہوں تو اس ملک کی معیشت کے بارے میں دوسری رائے قائم نہیں کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہماری معیشت اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ اس میں عالمی قرضے چکانے کی سکت بھی نہیں رہی ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ قرضے اور ان سے جڑے معاملات چلانے کے لئے ہمیں مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
پاکستان میں مزدوروں و کام کرنے والوں کی تعداد 83.1 ملین ہے۔ 5.9 ملین کے قریب افراد بیروزگار ہیں۔ معروف معاشی ماہر وسابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق جاری حالات میں معاملات درست سمت میں رکھنے کے لئے ہر سال 15 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے، وگرنہ بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے سرمایہ کاری، ملکی و غیر ملکی دونوں ضروری ہیں۔ سرمایہ کاری صنعتی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ تعمیراتی و فنی پراجیکٹس کی بنیاد بنتی ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ لوگوں کی آمدنیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ سرکار کی ٹیکس وصولیاں بڑھتی ہیں۔ لوگوں کی آمدنیوں میں اضافہ ان کی اشیاءو خدمات کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جسے پورا کرنے کے لئے امیدوار میں اضافہ ناگزیر ہوتا ہے، اس طرح معیشت میں کھلے پن کا اجرا ہوتا ہے، ترقی ہوتی ہے۔ شہباز شریف نے بالکل درست کہا ہے کہ پاکستان کو قرض نہیں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ معاشی تعمیر و ترقی کے لئے سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے لیکن سرمایہ کاری وہاں ہوتی ہے، سرمایہ کار وہاں آتے ہیں جہاں دیگر عوامل سازگار ہوں۔ سرمایہ کار دیکھتے ہیں کہ ہمارا سرمایہ کہاں محفوظ ہو گا؟ منافع کی شرح کہاں بہتر ہو گی اور سب سے اہم سرمایہ آسانی سے کہاں سے نکالا جا سکتا ہے؟ یہ تین عوامل فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں معاملات بہتر نہیں ہیں، ہمارے اپنے سرمایہ دار یہاں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ دبئی، بنگلہ دیش ان کی پسندیدہ جگہیں رہی ہیں۔ اربوں ڈالر یو اے ای جا چکے ہیں۔ ایسا ہی کچھ بنگلہ دیش میں ہوا ہے۔ ہمارے سرمایہ کاروں نے یہاں پاکستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح نہیں دی۔ ایسے ہی حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (SIFC) تشکیل دی گئی، اس کا ذکر بھی بڑا کیا گیا لیکن نتیجہ کیا نکلا، ہمیں تو کچھ پتہ نہیں، ہم نے سی پیک کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا کہ وہ ہماری معیشت کے لئے گیم چینجر ہو گا لیکن یہاں تو لگتا ہے کہ گیم ہی چینج ہو چکی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور مہنگائی پر اظہار تشویش ، فوری تدارک کی سفارش ، یہ خبر کیا ظاہر کرتی ہے، بیروزگاری بڑھنے کا مطلب ہے سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے۔ معاشی نمو نہیں ہے۔ صنعتیں قائم نہیں ہو رہی ہیں۔ موجودہ صنعتیں بھی مطلوبہ رفتار سے کام نہیں کر رہی ہیں۔ سرمایہ کاری کا ماحول نہیں ہے۔ توانائی بشمول بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کسی بھی مثبت معاشی و سماجی سرگرمی کو سپورٹ نہیں کرتی ہیں۔ حکومت، جو ایک مستقل عامل ہے اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے، اسے عوامی بہبود سے قطعاً کوئی دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے۔ حکومت نے ایران، امریکہ و اسرائیل جنگ کی آڑ میں تیل کی قیمتوں میں 30فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جو قطعاً درست نہیں ہے۔ پٹرول کے ایک لٹر میں 197 روپے کی لیوی شامل ہے جو عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔ حکومت اس مد میں 1400 ارب روپے اکٹھے کر چکی ہے۔ ایک طرف روزگار کے مواقع ناپید ہیں، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، آمدنیاں قلیل ہیں۔ دوسری طرف جائز ناجائز ٹیکسوں کی بھرماہ کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کے عوام دشمن رویوں نے معاملات کو گمبھیربنا دیا ہے۔ بیروزگار نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف ملکی معیشت کے لئے بلکہ معاشرت کے لئے بھی خطرناک اور خوفناک ہے۔ شہباز شریف صاحب کا کہنا کہ قرضے نہیں ہمیں سرمایہ کاری اور مہارت کی ضرورت ہے، قرضے ہیں کہ بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارا بجٹ قرض کی ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاری کی صورتحال بھی مخدوش ہے، توانائی کے شعبے کے گمبھیرمسائل نے پیداواری عمل کو ہی نہیں بلکہ عام شہری کو بھی عملاً مستقل عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حکومت کی عوام دشمن ٹیکس پالیسیوں نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ بیروزگار نوجوانوں کو ہنر سے آراستہ کر کے بہتری کی ابتدا کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں علوم و فنون کی جو صورتحال ہے وہ سرمایہ کاری اور معاشی نمو کی طرح پست حالت میں ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے 
میں جو سالانہ بنیادوں پر گریجوئیٹس تیار ہو رہے ہیں، ان میں 80فیصد سے زائد کسی جاب مارکیٹ میں کھپنے کی فنی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ہیں، ان کے پاس ڈگری تو ہے لیکن مہارت اور صلاحیت نہیں ہے۔ مارکیٹ اب آئی ٹی سے آگے مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم ٹک ٹاک بنانے میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ ہم کمپیوٹر آپریٹرز تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں فری لانسنگ کو ہی اعلیٰ فنی تربیت تصور کر لیا جاتا ہے۔ ہماری فنی تربیت کے فروغ کے حوالے سے کوئی وسیع النظر پالیسی نہیں ہے۔ حکمران ملکی و صوبائی تشہیر کے ذریعے ملک میں دودھ و شہد کی نہریں بہانے میں مصروف ہیں۔ بیروزگاروں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ خط غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ٹیکسوں میں اضافہ اور شہریوں کی قابل تصری شخصی آمدنیاں کم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ حالات درست سمت میں نہیں جا رہے ہیں۔ ہمیں قرضے نہیں، سرمایہ کاری اور مہارت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف صاحب نے بالکل درست فرمایا ہے۔

ٹیگز: