Wed, September 16, 2026

دنیا کی سیاست میں تبدیلی

دنیا کی سیاست میں تبدیلی

بچپن سے بزرگوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ انسان سے اگر دولت چھن جائے تو سمجھو کہ کچھ نہیں گیا ۔ اگر اس سے شہرت چھن جائے تو سمجھو کہ کچھ گیا ہے اور اگر کسی انسان کی عزت نہ رہے تو سمجھو کہ اس کا سب کچھ چلا گیا ۔ آج اگر پاکستان کی حالت پر غور کریں تو پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط نہیں ہے اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو رتی بھر فرق نہیں پڑا۔ بات اگر شہرت کی کریں تو ہر گذرتے دن کے ساتھ پاکستان کی نیک نام شہرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ کہاں کچھ عرصہ پہلے تک ہندوستان کے بیانیہ پر پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات لگتے تھے لیکن آج پاکستان کی شہرت خطے کے ایک انتہائی اہم ملک کے طور جانی جاتی ہے اور جہاں تک عزت کی بات ہے تو ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں پاکستان کا براہ راست کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن پاکستان کو ثالثی کے حوالے سے دنیا بھر میں جو عزت مل رہی ہے اس پر رب کریم کا جتنا شکر کریں کم ہے اور یہ قدرت کی ذات پاک کا وطن عزیز پر کتنا بڑا کرم ہے اس کا اندازہ اگر لگانا ہے تو انڈین میڈیا کو دیکھ لیں کہ وہاں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو جو پذیرائی مل رہی ہے جس طرح عزت اور بے پناہ احترام مل رہا ہے اس پر کیسا پٹ سیاپا پڑا ہوا ہے ۔ جنگ کے بعد دنیا اور خاص طور پر اس خطے کی سیاست میںبڑی بنیادی تبدیالیاں رونما ہونے جا رہی ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جس طرح9/11کے بعد دنیا تبدیل ہو گئی تھی تو اس جنگ کے بعد بھی تبدیل ہو جائے گی تو غلط نہ ہو گا ۔ یہ تبدیلیاں کیا ہوں گی اور کس کے حق میں اور کس کے مخالف ہوں گی اسی پر آج بات ہو گی ۔ دنیا اور اس خطے میں کیا تبدیلیاں رونما ہونے جا رہی ہیں اور دنیا کس طرح بدلے گی اس پر بات کرنے سے پہلے تمام قارئین سے ایک سوال کہ کیا مئی2025کی جنگ کے متعلق کسی نے سوچا تھا کہ اتنی جلدی اور اتنی شاندار کامیابی ملے گی اور اسی طرح کیا موجودہ خلیجی جنگ سے پہلے کسی نے سوچا تھا کہ ایران اس طرح امریکہ اور اسرائیل کی بینڈ بجائے گا ۔
 اس وقت دنیا بھر میں پاکستان کو جو بے مثال سفارتی کامیابی ملی ہے اور عزت و احترام ملا ہے تو اس میںکوئی شک نہیں کہ اس میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت دونوں کا بہت بڑا کردار ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ فیلڈ مارشل کی طلسماتی شخصیت کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا تھا ۔ خدا نے چاہا تو جنگ نے تو ختم ہونا ہی ہے لیکن یہ اب کس طرح اور کن شرائط پر ختم ہوتی ہے یہ بات اب بے معنی ہو چکی ہے اور دنیا ایران کو اس جنگ میں جنگ کے خاتمہ سے پہلے ہی فاتح قرار دے چکی ہے ۔ اسی لئے اس جنگ کے خاتمہ کے بعد اس خطہ کی سیاست کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے ۔ اول مئی 2025کی فتح مبین کے بعد جس طرح اس ریجن میں ہندوستان کی بدمعاشی اور برتری خاک میں مل گئی تھی تو اب ہندوستان کی عزت برتری اور بدمعاشیاں مزید پستی کی ذلت اور گہرائیوں میں دفن ہو جائیں گی اور پاکستان کی عزت اور مودی کی ذلت ہندوستان میں کس طرح ہو رہی ہے تو اس کا اندازہ دنیا بھر کے میڈیا میں پاکستان کے نام کا جو ڈنکا بج رہا ہے اس سے بخوبی ہو جاتا ہے ۔ دوسرا اس خطے سے امریکن اڈے تو شاید ختم نہیں ہوں گے لیکن امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو اس خطے کے چودھری کا جو کردار دیا گیا تھا اب وہ منوں مٹی تلے دفن ہو جائے گا اور اسرائیل اور اس کے لوگوں میں اپنے محفوظ ہونے کا جو تصور ہے وہ بھی پاش پاش ہو جائے گا نہیں بلکہ بری طرح دفن ہو چکا ہے ۔ جنگ کے بعد پاکستان اورایران دنیا میں اور خاص طور پر اس خطے میں دو بڑی طاقتوں کے طور پر ابھر کر دنیا کے نقشہ پر سامنے آئیں گی اور بڑی امید ہے کہ عرب ریاستیں اور خاص طور پر فلسطین کے مظلوم عوام اب اسرائیل کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہ سکیں گے اور سب سے بڑھ کر کہ اب دنیا اور اس خطے کے فیصلے ان دونوں ممالک کے بغیر نہیں ہوں گے ۔
اب اس صورت حال کو ایک اور زاویہ سے دیکھیں تو کچھ حیران کن حقائق سامنے آئیں گے ۔ پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی آرمی چیف آئے ان سب نے ایک روایتی آرمی چیف کا کردار ادا کیا اور بہت بڑا تیر ماراتو چار آرمی چیفس نے ملک میں چار بار مارشل لاءلگا دیا اور ان میں سے ایک نے تو اپنے تئیں اپنے آپ کو فیلڈ مارشل بنا دیا تھا ۔ اس کے علاوہ روایتی آرمی چیف سے ہٹ کر تاریخ میں کسی کا کوئی کردار نظر نہیں آتا لیکن عاصم منیر صاحب پہلے آرمی چیف ہیں کہ جو ایک دن بھی روایتی آرمی چیف نہیں رہے ۔ ہم نے 17مئی کو شائع ہونے والے اپنے کالم ”فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر “ میں عرض کیا تھا ” سب سے پہلے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر جو اس وقت پاکستان کی سب سے ہر دلعزیز شخصیت بن چکے ہیں اور ان کی قیادت میں عسکری قیادت میںہندوستان جو پاکستان سے دس گنا بڑا دشمن ہے کو جس طرح انتہائی مختصر وقت میں جو عظیم الشان فتح ملی اس پر حکومت کو انھیں فیلڈ مارشل کا اعزاز دینا چاہئے “ تو سوال یہ ہے کہ کیا نومبر2022 میںعاصم منیر صاحب کی تقرری کو رکوانے کی کوشش اور اس کے بعد ان کے خلاف مسلسل مہم کسی ملک دشمن یہودی ایجنڈے کا حصہ ہے ۔

ٹیگز: