Wed, September 16, 2026

آرمی چیف کی والدہ کا انتقال اورماں کی تربیت 

آرمی چیف کی والدہ کا انتقال اورماں کی تربیت 


رمضان کے مقدس مہینے میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر احمد شاہ کی والدہ کے انتقال پر پوری قوم نے اُن سے دکھ کا اظہار کیا ۔ بلاشبہ ماں کا دنیا سے چلے جانا انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کے ساتھ انسان کا تعلق اِس دنیا میں آنے سے پہلے جڑ جاتا ہے ۔ماں کی تربیت انسان کی زندگی پر سب سے دیرپا نقوش چھوڑتی ہے۔ انسان زندگی میںجتنے مرضی بڑے عہدے پر چلا جائے لیکن جنت ہمیشہ اپنی ماں کے قدموں تلے ہی تلاش کرتا رہتا ہے۔ اللہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے کہ وہ ایک ایسی ماں تھیں جن کے زیر سایہ ” سب سے پہلے پاکستان “ کی حقیقی شکل کا عملی نمونہ دیکھنے کو ملا ۔ پاکستانی قوم اُس ماں کو سلام پیش کرتی ہے جس کا بیٹا کہیں فتنہ ءخوارج کے کھلے دشمنوں سے نبرد آزما ہے تو کہیں پاکستان کے اندر موجودسیاسی لبادہ اوڑھ کر پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار سازشی ٹولوں اور لبریشن آرمی کے مد مقابل ہے ۔ آج کا دن پاکستان کے اِس بہاد ر بیٹے سے تعزیت کا دن ہے کہ اُس نے اپنی زندگی کے سب سے اعلیٰ و ارفع جذباتی رشتے کو کھویا ہے ۔بلاشبہ ماں سے زیادہ تناور درخت انسان کی زندگی میں دوسرا نہیں ہوتا کہ جس کے سائے میں ہمیشہ رحمتوں کا نزول جاری رہتا ہے ۔کتنی خوش نصیب ہے وہ ماں جس کے بیٹے نے خود اپنی والدہ کی نماز جنازہ پڑھائی ورنہ تو یہاں وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے والوں کو خاتم النبیین بھی کہنا نہیں آتا ۔ اسلام اور اسلامی ٹچ میں یہی فرق ہوتا ہے ۔
وفاقی وزیرمواصلات عبد العلیم خان نے منگل کو اپنے تعزیتی پیغام میں جنرل سید عاصم منیر احمد کی والدہ کی تعزیت کرتے ہوئے گہر ے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے غمزدہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا کرے ۔
دوسرے سیاستدانوں سمیت عبد العلیم خان کے سوشل میڈیا کو میں انتہائی غور سے دیکھتا ہوں بلکہ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اُن کے سوشل میڈیا سے سیاسی اور سماجی خبروں کا ایک انبار مل جاتا ہے ۔ وفات یا دہشتگردی کا واقعہ ہو یا پھر پاکستان کے سربلند ہونے کی کوئی خبر یا اُن کا اپنا سیاسی کام ¾ سب ایک پیج پر مل جاتا ہے ۔ عبد العلیم خان کا بیان جہاں مرحوم اور اُس کے اہلِ خانہ کے ساتھ تعزیت بلند درجات کی دعا کرتا ہوا مل جاتا ہے وہیں یہ بھی ایک تواتراور تسلسل سے دیکھنے کو ملتا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات پر سب سے زیادہ سخت ردعمل عبد االعلیم خان کا ہی دیکھنے کو ملتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ موجود ہ حالات میں سیاستدانوں کا ملک دشمنوں کو للکارنے کا یہی لب و لہجہ ہونا چاہیے۔ بے یقینی اور افواہ سازی کے حالات میں یہ وطن کی بہترین خدمت بھی ہے اور افواجِ پاکستان کے ساتھ پورے عزم و یقین کے ساتھ ملک دشمنوں کے مقابل حقیقی معنوں میں کھڑے ہونے کا وقت بھی اور عبد العلیم خان دل و جان سے اپنی افواج اور ریاست ِ پاکستان کے اداروں کے ساتھ دل جان سے کھڑا ہے ۔عبد العلیم خان کی سیاسی مصروفیات بارے اُن کے سوشل میڈیا اور میڈیا سے اطلاعات تو ملتی رہتی ہیں لیکن کوئی شخص اتنا برق رفتار کیسے ہو سکتا ہے کہ ہفتہ میں دو تین دن یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہ صبح لاہور اورشام کو اسلام آباد ہوتے ہیں ۔
سیاسی کام تو عبد العلیم خان کی وہ مصروفیات ہیں جو عوام نے اُن کو دے رکھی ہیں اور ساری قوم کے سامنے ہے کہ وہ کس دیانتداری سے روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے مواصلاتی نظام کو درست اورکرپشن فری بنانے میں مصروف ہے۔ مواصلات کے ادارے کے اندر موجود موروثی کرپشن اور دیگر معاملات پرچیک لگانے کیلئے روزانہ نت نئے احکامات اپنے صدارتی اجلاسوں میں جاری کرتے رہتے ہیں جن پر عمل درآمد ہوتا نظر بھی آتا ہے اور پاکستان پر نظر رکھنے والے عالمی اور قومی اداروں کو بھی بہت سا میٹریل اپنے تجزیہ میں شامل کرنے کیلئے مل جاتا ہے۔ سیاسی کام کرنا تو سیاست دان کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر وہ باصلاحیت اور عوام کیلئے درد دل رکھنے والا ہو اس کیلئے قوم صرف اُس کا شکریہ ادا کرتی ہے لیکن سارا سال جب صحت کے شعبے میں عبد العلیم خان کی خدمات کو دیکھتا ہوں تو میرے سامنے لاتعداد فری ڈسپنسریاں جہاں ایم بی بی ایس ڈاکٹر بیٹھتے ہیں اورمفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں انتہائی حیران کُن ہے۔ فری ڈائیلیسز سینٹر کا قیام عبد العلیم خان کا بہت بڑا کارِ خیر ہے جہاں گردے کے مریضوں کو نہ صرف فری ڈائیلسز کی سہولت فراہم کی گئی ہے بلکہ اُن کے کھانے پینے کا خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ بینائی پروگرام میں شروع ہونے والی خدمات لاہوریوں کو حیران کر رہی ہیں ¾ واٹر فلٹر پلانٹس جہاں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاتا ہے سیکڑوں کی تعداد میں کام کررہے ہیں جہاں سے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔کفالت پروگرام میں ہزاروں گھروں کی کفالت کی ذمہ داری عبد العلیم خان فاﺅنڈیشن نے لے رکھی ہے جو اِن حالات میں یقینا اللہ سے کاروبار ہے۔ عبد العلیم خان فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام ہزاروں لوگوں کو ” تقسیم عیدی “ کے ذریعے انتہائی باوقار طریقے سے گڑھی شاہو لاہور میں واقع فاﺅنڈیشن کے دفترمیں ہزاروں روپے نقد ادا کیے جا رہے ہیں ۔عبد العلیم خان اور اُن کی بیگم صاحبہ کا ” اپنا گھر“ میں مقیم بچیوں کے تمام اخراجات برداشت کرنا جہاں ایک بہت بڑ نیکی ہے وہیں رمضان میں اِن بچیوں کے ساتھ ایک فیملی کی طرح بیٹھ کر افطاری کرنا شاید پاکستان کے ہر سیاستدان کے بس کی بات نہیں ۔ بابا بشیربھٹو کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں پرانا پیپلز پارٹی کا رکن تھا اور ہمیشہ عبد العلیم خان بارے اول فول بکتا رہتا تھا اور پھر ایک دن بابا بشیر بھٹوکو شدید ہارٹ اٹیک آگیا ۔ جونہی عبد العلیم خان کے علم میں آیا تو انہوں نے فوری طور پر اپنی جیب سے تمام اخراجات برداشت کرتے ہوئے بشیر بھٹو کے علاج معالجے کا بندوبست کردیا اور اب بشیر بھٹو ہر دم جھومتا رہتا ہے اور کہتا ہے میں نے اپنی باقی زندگی عبد العلیم خان کے نام کر دی ہے ۔ یہی وہ ماﺅں کی تربیت ہوتی ہے جو صاحب ِ استطاعت ہونے کے بعد بھی انسانوں کو جمع او ر دولت کو تقسیم کرنے کا درس یاد کرا کر خود دوسری دنیامیں چلی جاتی ہیں ۔ 

ٹیگز: