بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) ایک عسکری تنظیم ہے جس کی بنیاد بلوچ قوم پرستی کے خطرناک اور بے بنیاد نظریات پر رکھی گئی تھی۔ بی ایل اے کے قیام کی تاریخ اور محرکات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ بلوچستان کی تاریخی، سماجی، اور سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے۔ بی ایل اے کی بنیاد 1970 کی دہائی میں پڑی، جب بلوچ قوم پرستی کی تحریک نے شدت اختیار کی۔ 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں چند قبائل کے بلوچ سردار اور قوم پرست رہنما پہاڑوں میں جا کر ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے لگے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ فوجی آپریشن بھی ایک اور قوم پرست رہنما اور اس وقت کے صوبائی گورنر مرحوم نواب اکبر بگٹی کی وفاق کو با ضابطہ درخواست کے بعد ہی شروع کیا گیا تھا۔
بی ایل اے کے قیام کا نام نہاد بنیادی مقصد بلوچ عوام کے حقوق کے لیے لڑنا اور بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کا کنٹرول قائم کرنا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بی ایل اے کے نظریات کے پیچھے چھپی ملک توڑنے کی سازش اور اس ضمن میں اس کے عسکری اقدامات میں شدت آتی گئی، اور یہ تنظیم اپنے قیام کے فوراً بعد سے ہی مسلح جدوجہد کے نام پر دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو گئی۔ اس کا ہدف نہ صرف ریاستی ادارے بنے بلکہ عام بلوچ شہری بھی اس کی کارروائیوں کا شکار ہوئے۔ جس سے ثابت ہوا کہ یہ بلوچ جدوجہد کے نام پہ ملک دشمنوں کی آلہ کار تنظیم بن چکی تھی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1976 میں بلوچ قوم پرستی کی تحریک کے دوبارہ زور پکڑنے کی وجہ چند سرداروں کے ساتھ ریاست کے بڑھتے ہوئے تنازعات تھے۔ ان بلوچ رہنماو¿ں کا یہ خیال تھا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے وسائل کو استحصال کا شکار بنا رہی ہے اور انہیں بلوچستان کے عوام کے مفاد کے لیے استعمال نہیں کر رہی۔ تاہم، اس وقت سے لے کر اب تک یہ سوال اٹھتا آیا ہے کہ کیا یہی بلوچ سردار خود اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کبھی سنجیدہ تھے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خطے کی پسماندگی میں انہی بلوچ سرداروں کا کردار سب سے اہم رہا ہے۔ بلوچستان کی محرومیوں کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ سرداروں نے اپنے ذاتی مفادات کو ہمیشہ عوامی فلاح پر ترجیح دی۔ وہ نہ تو تعلیم و صحت جیسے شعبوں میں ترقی کے لیے کام کرتے نظر آئے اور نہ ہی بلوچستان کے وسائل کو عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرتے۔ جس کے نتیجے میں اب تک بلوچ عوام غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں یہ نام نہاد سردار خود تو کروڑوں سے آگے بڑھ کر اربہا پتی بن چکے وہیں انہوں نے عام بلوچ عوام کو دو وقت کی روٹی کا محتاج بنائے رکھا۔ بلوچ سرداروں کی غیر سنجیدگی اور وفاقی حکومت کی بے حسی و بے بسی نے بھی بلوچ عوام کو مایوسی میں دھکیل دیا، جس کا پچھلی کئی دہائیوں سے بی ایل اے جیسی دہشتگرد تنظیموں نے فائدہ اٹھایا۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ بلوچستان میں بسنے والے پچاس سے زائد قبائل میں سے صرف تین یا چار قبائل کے کچھ عناصر کو ہی ملک و قوم سے تکلیف ہے وگرنہ باقی سب تو محب وطن اور قابل فخر بلوچ پاکستانی ہیں۔
بی ایل اے کے پچھلی کئی دہائیوں کے اقدامات نے ثابت کیا کہ وہ اب ایک دہشتگرد تنظیم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کی کارروائیوں کا نشانہ نہ صرف ریاستی ادارے بلکہ عام پاکستانی اور بلوچ شہری بھی بن رہے ہیں، یہی حقیقت ان کے اصل ایجنڈے کو بے نقاب کرتی ہے۔ بی ایل اے کی انہی ملک دشمن اور قوم دشمن مسلح کارروائیوں، جن میں اب تک ہزاروں بے گناہوں کا ناحق خون بہایا جا چکا ہے، کے پیش نظر اسے بین الاقوامی سطح پر بھی دہشتگرد تنظیم کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، اور کئی دیگر ممالک نے بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بھی ان کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کی ہمیشہ سے مذمت کی ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بی ایل اے پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت بلوچ حقوق کے بنیادی مقصد سے ہٹ کر ایک ملک و قوم دشمن خطرناک مسلح تنظیم کا روپ دھار چکی ہے جس کو پاکستان کے دشمن ممالک کی پشت پناہی اور امداد حاصل ہے اور اب اس کا واحد مقصد بلوچستان میں دہشت اور خوف کی فضا کو برقرار رکھنا ہے۔
اس وقت بالخصوص بلوچستان اور بالعموم ملک میں امن و ترقی کے لیے بی ایل اے کی دہشتگردانہ کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کو اس دہشتگرد تنظیم کے خلاف ایک بڑا اور فیصلہ کن آپریشن شروع کرنا ہوگا تاکہ اس تنظیم کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ آپریشن نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے امن و استحکام کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ بی ایل اے کی دہشتگردانہ کارروائیوں نے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی خوف و ہراس کی فضا پھیلا رکھی ہے،کیونکہ اس کی مسلح کارروائیوں میں بلوچ عوام کے ساتھ ساتھ دوسرے صوبوں کے بے گناہ شہریوں کا قتل عام بھی شامل ہے۔ سو بہت وقت بیت چکا اور ان کے ساتھ لا حاصل بات چیت بھی ہو چکی لہٰذا اس تنظیم سے منسلک دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی اب وقت کی اہم ترین ضرورت چکی ہے۔
یاد رہے دوسری طرف بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں ہیں۔ وفاقی حکومت کو بھی بلوچ عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اس وقت بلوچ عوام کو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کے وسائل اور حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، بلوچ سرداروں کو بھی عوامی فلاح کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے عوام کو تعلیم، صحت، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے بہتر معیار زندگی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
بلوچستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت اور مقامی قیادت مل کر کام کریں۔ یہ پہلو بھی انتہائی اہم ہے کہ بی ایل اے جیسے دہشتگرد عناصر اور ان کے نظریات کا خاتمہ صرف عسکری کارروائی سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے سیاسی اور سماجی اقدامات کرنا بھی ضروری ہوں گے۔ اب وفاقی و صوبائی حکومت کو اپنے عملی اقدامات سے بلوچ عوام کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ پاکستان کا اہم حصہ ہیں اور ان کے مسائل کو ہر سطح پہ نا صرف سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے بلکہ ان کے دیرپا حل کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ بی ایل اے جیسا ناسور جو روزانہ کی بنیاد پہ معصوم پاکستانیوں کی جانیں لے رہا ہے۔ اس کے خلاف فوری اور بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا لازم ہو چکا ہے۔ پاک افواج کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانا ہوں گے تاکہ دہشتگردی کے خاتمے سے بلوچستان میں امن و استحکام قائم ہو، اور بلوچستان بھی دوسرے صوبوں کی طرح ترقی کی راہ پہ گامزن ہو۔بی ایل اے جیسے ناسور کے خاتمے کے لئے وفاقی حکومت، مسلح افواج اور بلوچستان کی مقامی قیادت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اچھا ہو اگر اس وقت وفاق، بلوچستان کے لئے خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان کرے جس میں صرف عوامی فلاحی منصوبے شامل ہوں۔ اور بلوچستان کی صوبائی حکومت اور تمام قبائل کے سردار اور عوام بی ایل اے جیسی ملک دشمن تنظیم کے خلاف وسیع آپریشن میں اپنی مسلح افواج کا کھل کر ساتھ دیں تاکہ دہشتگردوں اور دہشتگردی کے خاتمے سے خطے میں امن قائم ہو اور بلوچستان کی محرومی ختم اور ترقی کا خواب پورا ہو۔