قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں لوگ حقوق کے نام پر آج پانچویں مرتبہ سراپا احتجاج ہیں۔ کیا یہ سب لوگ پاگل ہیں، ہم ان کی بات سمجھ نہیں رہے یا سمجھنے کے باوجود انہیں اہمیت نہیں دینا چاہتے یا پھر وہاں کوئی مسئلے سرے سے ہے ہی نہیں۔ صرف پاکستان دشمن طاقتیں ہیں جو انہیں ورغلانے میں کامیاب رہی ہیں؟ ہمیں ٹھنڈے دل سے اور کھلی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لینا ہوگا۔ پہلی بات یہ لوگ پاگل نہیں ہیں، ہاں ہم ان کی بات نہیں سمجھ رہے، انہیں اہمیت نہیں دے رہے جبکہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت اور فنڈنگ ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے لیڈر ہر دور میں اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے پیچھے عوام کے بڑھتے ہوئے جم غفیر اب آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں۔ یہ نوبت کیوں آئی، اس کے ذمہ دار کون کون ہیں۔ یہ جاننا اور بلوچ عوام کو بتانا بھی ضروری ہے۔
بلوچستان میں پیدا ہونے اور نصف عمر وہاں گزارنے کے بعد کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جنرل ایوب خان کے زمانہ اقتدار تک بلوچستان میں حالات بہتر تھے۔ مغربی پاکستان ایک یونٹ تھا۔ گورنر ملک محمد امیر خان تھے جو ہر دوسرے ماہ بلوچستان کے دورے پر آتے تھے۔ یہی معاملہ دیگر شہروں کا تھا۔ حالات اور معاملات پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ بذات خود دیانت دار تھے اور ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے۔ ان کی ٹیم بھی ایسی ہی تھی۔ بیوروکریسی بھی ان کے نقش قدم پر چلتی تھی۔ پاکستان دولخت ہوا تو ون یونٹ بھی ٹوٹ گیا۔ ہر صوبہ علیحدہ ہو گیا، صوبائی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ تصور تو یہ دیا گیا تھا کہ انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہوگا لیکن تباہی شروع ہی یہاں سے ہوئی، مضبوط مرکز کے فلسفے کو چھوڑ کر مضبوط اکائیوں کا فلسفہ پیش ہوا۔ اقتدار عوام اور عوامی نمائندوں کے بجائے نوابوں اور جاگیرداروں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ آج کوئی ایک قبیلے کا سردار نہیں ہے جو کہہ سکے اسے اقتدار نہیں ملا یا وہ صاحب اختیار نہیں رہا۔ اکبر بگٹی، عطاءاللہ مینگل، مری، بزنجو، رئیسانی و دیگر قبائل اقتدار میں رہے۔ بعض حکومتوں کو نہ چلنے دینا بھی مرکز کی غلطی تھی لیکن جو حکومتیں مرکز کے ساتھ شیر و شکر رہیں انہوں نے بلوچ عوام کے لئے کیا کیا۔ یہ بات بلوچ عوام کو اپنے ہر دور کے حکمرانوں سے پوچھنی چاہئے اور انہیں اس حکمران کو تو چوک میں کھڑا کرکے حساب لینا چاہئے جس کے گھر سے کرپشن اور رشوت کی جمع کردہ دولت کے انبار برآمد ہوئے جنہیں شمار کرنے کے لئے مختلف بینکوں سے نوٹ گننے والی مشینیں منگوائی گئیں جنہوں نے مسلسل کئی گھنٹے نوٹ گنے۔ وہ مشینیں گرم ہو کر کام چھوڑ گئیں مگر نوٹ ختم نہ ہوئے۔ یہ کون تھا بلوچستان کی حکومت نے عدالت نے اسے کیا سزا دی پھر وہ وزیراعلیٰ کون تھا جو دوبئی میں انوسٹمنٹ بھی کرنا چاہتا تھا اس نے اس نیک کام کیلئے اپنے فرنٹ مین کو تین ارب روپے دیئے جو لے کر ایسا غائب ہوا کہ آج تک نہیں پلٹا۔ وہ وزیراعلیٰ اس شخص سے ایک چونی بھی برآمد نہیں کر سکا کیونکہ رشوت کی کوئی رسید نہیں ہوتی اور رشوت کا پیسہ جب اربوں میں ہو تو اس انویسٹ کرنے کے لئے سہولت کار کوئی رسید نہیں دیتا، یہ پیسہ عوام کا پیسہ تھا جو لوٹا گیا۔ ایسے درجنوں نہیں سیکڑوں کیس ہیں، ڈویلپمنٹ کے نام پر ملنے والے کئی سو ارب روپے کہاں خرچ ہوتے رہے۔ یہ بھی جاننا ضروری ہے۔ یہ صوبائی حکومت ہی نہیں مرکزی حکومت کا فرض بھی ہے۔ صوبے کو لوٹنے والے چہرے بلوچوں کے سامنے لائے اور ڈکیتوں کی رقم نکلوائے۔ نیب جیسا ادارہ ایسے ہی کاموں کے لئے بنایا گیا تھا۔ صرف سیاسی وابستگیاں بدلنے کے لئے نہیں۔ جہاں بھوک اور ننگ ہوگا وہاں کے باسیوں کو ورغلانا آسان ہوتا ہے جن کا پیٹ بھرا ہو وہ آسانی سے جھانسے میں نہیں آتے۔ اگر ہم نے ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد تعلیم، روزگار اور صحت پر توجہ دی ہوتی تو لوگ نہ ورغلائے جاتے۔
روس افغانستان پر حملہ آور ہوا تو کمیونسٹ روس اور کیموازم سے محبت رکھنے والے مری قبیلے کے سردار بلوچستان سے دس ہزار کا ایک لشکر لے کر اس کی مدد کے لئے وہاں پہنچے۔ روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو اس لشکر کو کوہ مردار سے متصل وادی میں اسے بسا دیا گیا۔ ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہ رہا۔ یہاں کوئی انڈسٹری نہ تھی کہ انہیں مزدوری مل جاتی۔ دو وقت کی روٹی کو محتاج کوئی اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کا تصور نہیں کر سکتا تھا۔ یہ لوگ کاشتکاری کی طرف مائل تو ہوئے لیکن اس کے لئے بھی وسائل درکار ہوتے ہیں جن کا نام و نشان تک نہ تھا۔ صورتحال کے ادراک کیلئے ایک واقعہ کافی ہے۔ بلوچ کلچر میں غیر سیاسی انتظامی عہدے ہوتے ہیں۔ نواب صاحب کے بعد سردار صاحب ہوتے ہیں، ان کے بعد میر صاحب پھر ان کے بعد کوئی اور جو ضرورت اور مرضی کے مطابق جس سے چاہے رابطہ رکھتا ہے۔ نواب صاحب کا کوئی پیغام میر صاحب تک آیا۔ انہوں نے حکم کی تعمیل میں اس شخص کو طلب کیا جس سے جواب لینا تھا۔ میر صاحب کو اطلاع کی گئی کہ جس شخص کو طلب کیا گیا ہے اس کا بیٹا جواب لے کر حاضر ہوا ہے۔ اسے شرف ملاقات بخشا گیا۔ تیرہ چودہ برس کا یہ لڑکا واپس جانے کے لئے مڑا تو میر صاحب نے اسے روک کر پوچھا، تم نے جوتا پہنا ہوا ہے۔ وہ تمہارے پاﺅں کے سائز سے بہت بڑا ہے۔ لڑکے نے سر جھکا کر جواب دیا جی ایسا ہی ہے۔ ہمارے گھر میں جوتوں کا صرف یہ ایک ہی جوڑا ہے۔ جب میرے والد نے کہیں جانا ہو تو وہ پہن لیتے ہیں۔ میرے بھائی کو گھر سے نکلنا ہو تو وہ پہن لیتا ہے آج مجھے آپ کی خدمت میں حاضر ہونا تھا لہٰذا میں نے اسے پہن لیا۔ اس بچے کے جسم پر لباس کے نام پر جو کچھ تھا وہ تحریر کر دوں تو شاید آپ رات بھر سو نہ سکیں، یہ لوگ دن میں ایک بار ہی پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے تھے۔
جنرل ضیاءالحق نے ان کے حالات پر کچھ توجہ دی۔ جنرل مشرف کے زمانے میں حالات ایسے بگڑے کہ آج تک ٹھیک نہ ہو سکے، ہم ان لوگوں کو لباس دے کر روزگار دے کر صحت کی سہولتیں دے کر ورغلا نہ سکے، دشمن نے انہیں چند ہزار روپے دیئے اور ورغلا کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ بلوچستان کے چند بڑے شہروں سے باہر نکل جائیں۔ حالات ایسے ہی ہیں جس کے پاس تعلیم ہے، روزگار نہیں، پاﺅں میں جوتا ہے چاہے بڑے ہی سائز کا ہے تو تن ڈھانپنے کے لئے مناسب لباس نہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں گوادر سے تعلق رکھنے والے ممبر بلوچستان اسمبلی کی،کی گئی تقریر قابل توجہ ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک ان کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں۔ یہ تقریر ایک سچے پاکستانی اور محب وطن پاکستان کی ہے وہ جو کہہ رہا ہے اس میں ایک بھی لفظ پاکستان کے خلاف نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے گوادر میں امن کیسے آئے گا، کوئی مجھ سے پوچھے میں گوادر کی ہر گلی اور اس کے ہر مکین کو جانتا ہوں۔ فیصلوں میں ہمیں بھی شامل کر لیں پھر دیکھیں ہم آپ کے فیصلے کا دفاع کیسے کرتے ہیں۔ آپ کے فیصلوں کی حفاظت کے لئے اور بلوچستان کے لئے جان تک دینے کو تیار ہیں لیکن ہو نہیں سکتا فیصلہ اسلام آباد کرے اور اس کی وکالت ہمارے کاندھوں پر ڈال دے۔ میرے مطابق اسلام آباد میں ایک پلیسمنٹ سیل بنا کر فوری طور پر پڑھے لکھے اور ہنرمند نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے نوکریوں کا انتظام کیا جائے، ڈویلپمنٹ کا کام تیز کیا جائے۔ نوابوں اور سرداروں پر انحصار ختم کیا جائے، جلد سب کچھ نارمل ہو سکتا ہے۔