Wed, September 16, 2026

خواتین کے لیے قرآن کا پیغام 

خواتین کے لیے قرآن کا پیغام 

آج دورۂ قرآن کا آغاز سورۃ النور سے ہوا۔دورۂ قرآن لینے والی خاتون نے سورۃ النور کا زمانہ ٔ  نزول‘ موضوع اور مباحث بتانے کے بعدپہلے رکوع کی تلاوت کی ۔تلاوت کے بعد ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔
 ترجمہ پڑھنے کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی وضاحت کر رہی تھیں۔اس سورۃمیں اللہ تعالیٰ نے خواتین کو پردہ کرنے کے واضح احکامات دیئے ہیں۔پستیوں سے نکال کر ان کی فطرت کے مطابق ذمہ داریوں کی بنا پر عورت کو خاندان اور معاشرے میں با عزت اوراہم مقام عطا کر کے محفوظ کر دیا ہے ۔ قرآن کے ذریعے خواتین کی تربیت کر کے ان کے لیئے راہیں متعین کر دی ہیں ۔ قرآن نے خواتین کی تربیت پر بہت زور دیا ہے۔سورۃ النور کی ابتدامیں زنا جیسے قبیح فعل ‘اس سے بچنے اور اس کی سزاکے بارے میں تفصیلی ذکر کیا گیاہے۔
ترجمہ:’’یہ ایک سورۃ ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں شاید کہ تم سبق لو۔زانیہ مرد اور زانی عورت میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میںتم کو دامن گیر نہ ہو۔اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔(النور۔1۔3)
ترجمہ :’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہوشیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔(النور۔21)
دورۂ قرآن لینے والی خاتون بتا رہی تھیں کہ زنا نسلوں کو برباد کرنے والا اجتماعی جرم ہے۔قلبی و فکری و جسمانی پاکیزگی کے لیے اس کی کڑی سزا مقرر کی گئی ہے ۔ چند آیات کے بعد انہوں نے جو آیات پڑھیں ان میں خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔
ترجمہ :’’اے نبیؐ!مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیںبجزاس کے جو خود ظاہر ہو جائے۔اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریںمگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر،باپ،شوہروں کے باپ،شوہروں کے بیٹے،بھائی،بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے،اپنے میل جول کی عورتیں،اپنے مملوک ،وہ زیر دست مرد جو کسی قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوئے ہوں۔اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے‘‘۔(النور۔31)
 ظہور اسلام سے قبل عرب معاشرت میںشائستگی کے کوئی ضوابط نہیں تھے۔خواتین کامروجہ بناؤ سنگھار کے ساتھ کھلے عام پھرنا معمول تھا۔مردوں کے سامنے سے گزرتے وقت عورتیں اپنے پاؤں زمین پر زور سے رکھتی تھیں تا کہ پازیب یا دوسرے زیورات کی آواز مردوں کو متوجہ کرنے کے لیئے ان تک پہنچ جائے۔ خانہ کعبہ کا طواف بھی برہنہ حالت میں کیا جاتا تھا۔دور جہالت کی عورتیں سج بن کر زیب و زینت اور چست اور عریاں لباس پہن کر گھروں سے نکلتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے عورتوں کواس طرز عمل سے منع فرمایا۔قرآن  میں واضح ہدایات دے کر خواتین کی اخلاقی حالت درست اور انہیںپاک دامن اور با حیا بنا دیا۔ اسلامی آداب معاشرت میں خواتین کو مردوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے والے امور سے پرہیز کرنے کے لیئے کہا گیا ہے ۔
ترجمہ :’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو‘ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی کا حکم دے گا‘‘۔(النور۔21)
ترجمہ: ’’اے مومنو! تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے‘‘۔(النور۔31)
قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھنے اور سننے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ہم عورتیں نازک آبگینہ ہیں جن کی حفاظت کے لیئے اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم دیا ہے۔ قرآن پاک نے خواتین کو عزت و احترام کا وہ بلند مقام عطا کیا ہے جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہے۔
سورۃ النور کے بعدقرآن پاک کی دیگر سورتیں اورپھر سورۃ الاحزاب شروع ہوئی۔سورۃ الاحزاب میں بھی پردے کے حوالے سے بہت تفصیل کے ساتھ واضح احکامات دیئے گئے ہیں۔
ترجمہ :’’اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔نماز قائم کرو،زکواۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو‘‘۔(الاحزاب۔33)
ترجمہ:’’اے نبیؐ!اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔اللہ تعالیٰ غفورو رحیم ہے۔(الاحزاب۔59)
 قرآن پاک کی مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کو پردہ کرنے کے واضح احکامات دے کر عورت کو محفوظ اورشوہر کو قوام بنا کر بیوی کو روز گار اور گھریلو امور کی ادائیگی کی دہری ذمہ داری سے بری کر دیا ہے۔ماں،بہن اور بیٹی کی کفالت کے ذمہ دار بھی ان کے بیٹے،بھائی اور والد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وراثت کا حقدار بھی قرار دے کر والد،والدہ،شوہر،بہن بھائیوں،بیٹوں اور دیگر رشتوں کی وراثت میں ان کا حصہ مقرر کردیا ہے۔ان کی تفصیلات قرآن پاک میں موجود ہیں۔
 اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرد اور عورت دونوں برابر لیکن دونوں کے دائرہ کار اور حدودالگ الگ ہیں۔ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے ۔ بوقت ضرورت حدود میں رہ کرمعاش کے لیئے گھر سے نکلنے کی اجازت دی گئی ہے ۔اس وقت مختلف شعبوں میں متعدد باپردہ خواتین بہت کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ سورۃ النور اور احزاب میںپردے کے تفصیلی احکامات موجود ہیں۔ عورتوں کو نا محرم مردوں سے اپنی زینت چھپانے کے لیئے کہا گیاہے۔پردے کی آیات کے نزول کے بعدازواج مطہراتؓ ،امہات المومنینؓ اور تمام مسلمان خواتین نے عمل کرنے میں تاخیر نہیں کی۔ ان رہنما خواتین نے پردہ کرکے اور شرم و حیا کی زندگی گزار کر تا قیامت تمام خواتین کے لیئے اعلیٰ عملی مثالیںقائم کر دی ہیں۔
موجودہ دور کی افسوس ناک صورتحال اس کے بر عکس نظر آ رہی ہے۔تنہا اور بے راہ روی کی زندگی گزارنے والی مغرب کی عورت کی طرح مردوں کے شانہ بشانہ چلنے، مساوی حقوق کے حصول اور با اختیار بننے کے نعرے کے تحت خواتین نے روز گار کو اپنی ضرورت سمجھ لیاہے۔سیلفی بنانے کے جنون نے باعزت اور شریف گھرانوں کی خواتین اور لڑکیوں کو نا محرم مردوں کے بالکل قریب لا کھڑا کیا ہے ۔شادی بیاہ اور دیگر مخلوط تقریبات میں پردے کے احکامات کا کھلے عام مذاق بنایا جاتا ہے ۔ صنفی مساوات،تولیدی حقوق،خواتین کے خلاف تشدد اور بد سلوکی جیسے مسائل پر آواز بلند کرنے کے لیئے عالمی یوم خواتین پاکستان میں بھی بہت جوش سے منایا جاتا ہے ۔بحیثیت مسلمان اس دن کے پس منظر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔اس کے تانے بانے امریکہ اور یورپ میں خواتین کی آزادی کے نام پر بے راہ روی کی جانب گامزن تنظیموں سے ملتے ہیں ۔الحمدللہ!ہم مسلمان ہیں‘قرآن پاک نے صراط مستقیم کی جانب خواتین کی جورہنمائی کی ہے وہ ان کی نسلوں کی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔ مسلمان خواتین کو اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر عمل کرنے کا عہد کرنا چاہیے کیونکہ پردہ مسلمان خواتین کی پہچان اور ان کی عزت کا محافظ ہے۔

ٹیگز: