گذشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ڈیڑھ منٹ کی وڈیو بڑی وائرل ہو رہی ہے ۔ اس میں منظر کچھ یوں ہے کہ ایک ہم خیال صحافی گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے سامنے ہال میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ ہیں ۔ ہم خیال صحافی ، ہم خیال ججز یا ہم خیال اینکرز یہ ہم خیال کا لفظ سمجھ لیں کہ تکلف کے طور پر ہی لکھتے ہیں ورنہ ان کا شمار انصافی نہیں بلکہ شدید قسم کے انصافی بھائیوں میں ہوتا ہے ۔ صحافت ہو اعلیٰ عدلیہ ہو یا اسٹیبلشمنٹ سمیت ہر شعبہ میں آج سے نہیں بلکہ شروع دن سے ذاتی پسند اور نا پسند کا عنصر رہا ہے ۔ جنرل اسلم بیگ کی آشیر باد سے 1990میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو 58ٹو بی کے ذریعے گھر بھیجا گیا ۔ 1993میں جنرل وحید کاکڑ کی رضا مندی سے نواز لیگ کی حکومت کو اسی صدر غلام اسحاق خان اور آئین کے اسی آرٹیکل کے ذریعے گھر بھیجا گیا اور1996میں ایک مرتبہ پھر جنرل جہانگیر کرامت کی مرضی سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو گھر بھیجا گیا لیکن تینوں بار جن جرنیلوں کی وجہ سے حکومتوں کو تحلیل کیا گیا ان میں سے کسی نے آنے والی حکومت کے لئے دس یا پندرہ سال تک حکومت میں رہنے کا پلان نہیں بنایا ۔ اسی طرح اعلیٰ عدلیہ میں بھی ایک عرصہ تک نواز لیگ کے لئے نرم گوشہ موجود تھا لیکن جو حال اور کردار ہم خیال ججز نے ادا کیا اور کچھ اب بھی کر رہے ہیں ماضی میں اس کا عشر عشیر بھی دیکھنے کو نہیں ملا ۔ اسی طرح اگر صحافت کی بات کریں تو ہم اسی اور نوے کی دہائی کے صحافت کے درجنوں بڑے نام گنوا سکتے ہیں کہ جو واضح طور پر کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے لیکن وہ ایسا نہیں تھا کہ ان کی صحافت یا ان کی تحریریں یا آراء اس جماعت کے میڈیا سیل سے بڑھ کر اس جماعت کے حمایتی ہونے کا کردار ادا کرنے لگ جائیں ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ماضی میں بھی سب کچھ ہوتا تھا لیکن اس میں ایک رکھ کھائو کا پہلو ضرور ہوتا تھا کوئی کسی جماعت کا جتنا مرضی حمایتی ہوتا لیکن ایک حد مقرر تھی اگر کسی کی چہیتی جماعت اس حد کو توڑتی تو پھر اس پر تنقید بھی ہوتی لیکن جہاں تک ہم خیال ججز ، ہم خیال اسٹیبلشمنٹ اور ہم خیال صحافیوں کا تعلق ہے تو الامان و الحفیظ یہ سب ہر قسم کے اصولوں اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔
ہم خیالوں کی تشریح سے ہم اپنے موضوع سے ہٹ گئے تو بات ایک وڈیو کی ہو رہی تھی اور غالب امکان یہی ہے کہ یہ شہر قائد کراچی کی وڈیو ہے ۔ وہاں موجود ہم خیال صحافی جس ٹاک شو میں بھی ہوتے ہیں اس میں بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کی دہائی ضرور دیتے ہیں اور پھر اس دہائی کے فوری بعد موجودہ حکومتوں کو فارم 47کی پیداوار قرار دے کر طنز کے تیر چلانا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ خیر قارئین سٹیج پر بیٹھ کر انھوں نے اپنے تئیں پہلے ماحول بنایا اور پھر وہاں ہال میں موجود سیکڑوں حاضرین سے کہا کہ ایک سے زائد بار کہا کہ یہاں سے میری طرف سے اور آپ کی طرف سے عمران خان کو سلام جانا چاہئے لیکن ہر بار حاضرین کی جانب سے زبان سے نہ کہہ کر اور ہاتھ سے اشارہ کر کے نہیں نہیں کے بلند نعرے لگا کر بانی پی ٹی آئی کے لئے اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا جس کے بعد کامران ٹیسوری نے کہا کہ دیکھ لیں یہاں سے خان صاحب کے لئے ایک بھی سلام نہیں گیا ۔ یہ چند سیکنڈ یا یہ کہہ لیں کہ منٹ ڈیڑھ منٹ کی وڈیو ہے کہ جس نے بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کا ہی نہیں بلکہ ہم خیالوں کی خوش فہمیوں اور اس سے بڑھ کر غلط فہمیوں اور خود فریبیوں کا بیچ چوراہے پر نہیں تو بیچ اسٹیج پر اور بیچ سوشل میڈیا پر بھانڈا پھوڑ دیا ۔ غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کا اس لئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عوام میں کس قدر مقبول ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا پر اس نام نہاد مقبولیت کا اس قدر ڈھول پیٹا جاتا ہے کہ اس سے وہ صحافی جو کہ ہم خیال نہیں ہیں وہ بھی متاثر ہو کر بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کی بات کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ بانی پی ٹی آئی ہوں یا کوئی اور جماعت ان سب کی مقبولیت کا پیمانہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹیں نہیں بلکہ حقیقت میں عوام کی حمایت ہوتی ہے ۔ یہاں حالت یہ ہے کہ اکتوبر2022میں موجودہ آرمی چیف کی تعیناتی کو رکوانے کے لئے لبرٹی چوک لاہور سے لانگ مارچ شروع کیا گیا ۔ اس وقت پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ تھے جبکہ خیبر پختون خوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومت تھی یعنی لاہور سے پشاور تک کہیں کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور اس لانگ مارچ کی قیادت کوئی اور نہیں بلکہ خود عمران خان کر رہے تھے لیکن اس لانگ مارچ میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ بندے نہیں تھے اور وہ لانگ مارچ بمشکل راوی کا پل پار کر سکا اور اس کے بعد شاہدرہ میں ایک چھوٹی سی جلسی کے بعد لانگ مارچ والے اپنے گھر اور خان صاحب اپنے گھر اور اس کے بعد ہر دوسرے روز کسی اگلے شہر میں شام کو ایک مختصر اجتماع سے خان صاحب خطاب کرتے اور سب منتشر ہو جاتے ۔
یہ سلسلہ وزیر آباد تک جاری رہا کہ جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور پھر اس کے بعد راولپنڈی میں دھرنے کا پروگرام تھا لیکن وہاں بھی مایوس کن تعداد کو دیکھتے ہوئے مجبوری کے عالم میں دھرنا پروگرام کو بھی منسوخ کرنا پڑا ۔ اس کے بعد احتجاج کے لئے جتنی بار بھی کالز دی گئی وہ سب بری طرح ناکام ہوئیں اور اب بحالت مجبوری گرینڈ الائنس بنا کر عیدکے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا پروگرام ہے جو کہ پایہ تکمیل تک پہنچتا نظر نہیں آ رہالیکن چائے کی پیالی میں ہر وقت طوفان بپا رکھنے کی کوشش یقینا جاری رہے گی اور پروپیگنڈا کا طوفان بھی اپنی پوری رفتار سے چلتا رہے گا کہ جس کا فائدہ نہ پہلے ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ہو گا۔