پاکستان کے بنیادی مسائل کا تجزیہ کیا جائے تو ہر فرد یا ادارہ ان مسائل کی ترجیحات کا تعین اپنے تجربات اور علمی فہم و فراست کی بنیاد پر کرتا ہے۔ ریاستی و حکومتی سطح پر بھی دیکھیں تو ہمارے بالادست طبقات کی ترجیحات میں بھی تضادات کے کئی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنیادی مسائل کی ترجیحات کے تعین کرنے میں ہمیں بطور ریاست، حکومت اور معاشرہ کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ عمومی طور پر سیاست اور سماجیات کے علوم میں لوگوں کی فلاح و بہبود، انصاف کی فراہمی اور بنیادی ضروریات کے حصول میں جہاں ریاست اور حکومت براہِ راست ذمہ دار ہوتی ہے، وہیں قومی اداروں کا استحکام، صلاحیت، بالادستی، نگرانی اور شفافیت کا نظام سمیت خود احتسابی کا عمل اہم ہوتا ہے کیونکہ عام لوگوں سمیت معاشرے کے کمزور طبقات کا بڑا انحصار اداروں کی شفافیت پر مبنی نظام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے آج پاکستان بہت سے سنجیدہ مسائل کا شکار ہے اور عوام کو ترقی کے وہ ثمرات میسر نہیں ہو سکے جو کہ ہونے چاہئیں تھے اور ان کا مجموعی معیارِ زندگی انحطاط کا شکار ہے، غربت بڑھ رہی ہے اور دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
کئی برسوں سے جاری معاشی بدحالی کی صورتحال، غیر ملکی قرضوں کے بڑھتے حجم اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط کے منظر نامے کی وجہ سے غربت کا شکار آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور عام آدمی کی زندگی میں مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ زبوں حال ملکی معیشت کو منجھدار سے نکالنے کی کاوشوں میں حقیقی کامیابی کے لئے اکنامک منیجرز پر یہ ذمہ داری بطور خاص عائد ہوتی ہے کہ وہ بیروزگاری اور مہنگائی کے جن کو قابو میں رکھنے کے لئے چھوٹی بڑی صنعتوں کے قیام، زراعت کی ترقی، تعلیم و ہنر کے فروغ کے مقاصد کو فروغ دیں۔ معاشرے کی ترقی کا حقیقی پیمانہ بھی یہی ہے کہ اس میں دولت کے بہاؤ کا رخ اوپر سے نیچے کی طرف نظر آئے۔ حکومت کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات کا تخمینہ رواں مالی سال سے 18.7 فیصد بڑھا کر ہدف 14131 ارب روپے مقرر کرنا جو کہ پچھلے سال بجٹ میں
12970 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھامگر 11900 ارب روپے ہی ٹیکس اکٹھا ہو سکا۔ایسے میں یہ سوال بجا ہے کہ محض ایف بی آر ریفارمز سے نئے ٹیکس اہداف حاصل ہو سکتے ہیں؟ یہ امر تعجب خیز ہے کہ حکومت صنعتی پیداوار اور کاروباری فروغ کو مراعات دیئے بغیر محصولات کے مجموعی ہدف میں اضافے کی توقع لگائے ہوئے ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے انڈسٹریز اپنی صلاحیت کے لحاظ سے کم کام کر رہی ہیں، انرجی کاسٹ بھی بڑھ گئی، تعمیراتی سامان بنانے والی انڈسٹریز بھی اپنی پیداواری صلاحیت سے کم پر چل رہی ہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوئی جس سے ڈیمانڈ میں کمی ہوئی۔ ایسی پالیسیز بنائی جائیں کہ پروڈکٹس کی مانگ میں اضافہ ہو۔ ٹیکس میں اضافے کے لئے ٹیکس چوری کے شعبوں کی نشاندہی کرنے اور انہیں گرفت میں لانے کی ضرورت ہے، جس پر اب بھی توجہ نہیں دی جا رہی۔
حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق ملک کی فی کس آمدنی 1824 ڈالر فی کس سالانہ ہے جب کہ اس کے مقابلے میں بھارت میں فی کس آمدنی 2485 ڈالر اور بنگلہ دیش میں 2820 ڈالر فی کس سالانہ ہے یعنی پاکستان علاقائی ممالک سے بھی کافی پیچھے ہے۔ لہٰذا ٹیکس بڑھانے کے ساتھ ساتھ نچلے طبقے پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آئندہ مالی سال میں انکم سپورٹ پروگرام کے لئے 716 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے تاہم اس حوالے سے بجٹ بڑھانے سے زیادہ اہم کام عملی طور پر اس رقم کو مستحق افراد تک پہنچانا ہے کیونکہ اس سے غیر مستحق افراد کی بھی بہت بڑی تعداد اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ہماری زراعت غربت میں کمی لانے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن حکومت نے زرعی شعبے کے حوالے سے بھی کسی پیکیج کا اعلان نہیں کیا۔ توقع تھی کہ زرعی پیداوار میں 14 فیصد کمی کے بعد حکومت اب کچھ ازالہ کرنے کی کوشش کرے گی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
ایچ آر سی پی کے مطابق پاکستان میں ایک 6 رکنی خاندان کی بنیادی ضروریات زندگی کے لئے ماہانہ 75000 روپے سے زائد رقم درکار ہوتی ہے ہیومن رائٹ کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں لاکھوں افراد کو کم اجرت کے باعث اپنے خاندان کو کھانا کھلانے یا بجلی کا بل ادا کرنے جیسے مشکل فیصلوں کے درمیان چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل 23 کے مطابق ہر کام کرنے والے کو ایسی منصفانہ اجرت کا حق حاصل ہے جو اسے اور اس کے خاندان کو انسانی وقار کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت دے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ بجٹ میں ایسی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے کہ بڑھتی ہوئی غربت پر قابو پایا جائے اور یہ قومی استحکام کی بنیادی شرط بھی ہے۔
معاشی ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ جی ڈی پی میں کتنا اضافہ ہوا یا سٹاک ایکسچینج کہاں تک پہنچی، بلکہ یہ ہے کہ کیا عام شہری کی زندگی میں آسانی آئی؟ کیا وہ سستی روٹی خرید سکا؟ کیا کسان کو اس کی محنت کا صلہ ملا؟ کیا بیروزگار نوجوان کو روزگار ملا؟ معیشت کی بہتری صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں جھلکنی چاہئے۔ غربت ایک سنگین مسئلہ اور ناسور کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جس نے ہر پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ غربت کا مسئلہ نہ صرف ملکی معیشت کو متاثر کرتا ہے بلکہ سماجی مسائل اور فرقہ واریت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔غربت میں اضافہ معاشرتی جرائم، بیروزگاری اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بھی بنتی ہے جس کے اثرات فرد کی زندگی کے ساتھ ساتھ پورے معاشرتی ڈھانچے پر پڑتے ہیں۔ اگر اس پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو اس کے نتائج بڑے بھیانک ہو سکتے ہیں۔ عمومی طور پر ہمارا حکمران طبقہ لوگوں کی فلاح کے بہت سے دعوے بھی کرتا ہے بعض اوقات ان دعووں کی تکمیل کے لئے ان کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات بھی کئے جاتے ہیں لیکن بنیادی سوال حکومتی اقدامات میں لوگوں کو فوری ریلیف دیتے ہوئے نظام کی درستی اور اداروں کا استحکام ہونا چاہئے۔ حکمرانوں کی اکثر تقاریر میں نظام کی تبدیلی پر بہت زور دیا جاتا ہے لیکن مسائل جوں کے توں ہی ہیں۔ کیونکہ نظام محض سیاسی نعروں سے تبدیل نہیں ہوتے ، اس کے لئے خصوصی طور پر اشرافیہ کو محدود کرنے اور عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں لائی جانے کی ضرورت ہے۔ یعنی موجودہ نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے اور ایسے نظام کی ضرورت ہے جس سے قومی استحکام میں اضافہ ہو۔