Wed, September 16, 2026

ماحولیاتی تبدیلیوں کی کوکھ سے جنم لیتی بارشیں

ماحولیاتی تبدیلیوں کی کوکھ سے جنم لیتی بارشیں

پاکستان میں جون کے آخری ہفتے سے جاری طوفانی بارشیں اب تک تھم نہیں سکیں۔ مون سون گویا قیامت کا منظر بن چکا ہے،ہر بوند تباہی کی ایک الگ داستان بن کر گرتی ہے۔ یہ وہ بارشیں نہیں رہیں جو کبھی کھیتوں کو سیراب کر کے زندگی کی امید جگاتی تھیں، نہ وہ موسم رہا جب دلانوں میں پر بیٹھ کر چائے پکوانوں سے بہلایا جاتا تھا۔ وجہ شہر میں تعمیراتی اسٹرکچر بدل چکا ہے،گھروں میں درختوں کی جگہ کمرے اٹھا دیئے گئے ہیں تاکہ انہیں بے تحاشا کرایہ پر دے کر چار پیسے زائد کمائے جا سکیں۔ ہم نے طرزِ زندگی بدلا اسی لیے اب ہر بادل ایک سوال ہے، ہر گرج ہماری اجتماعی بے حسی پر طنز اور ہر برساتی ریلا ہماری نااہلی کا ثبوت ہے۔ہم نے زمین کو جس بے دردی سے لوٹا ہے آج وہی زمین ہمیں نگلنے کو تیار کھڑی ہے۔ دریا ہماری لاپرواہی کا انتقام لے رہے ہیں اور بادل ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیسے پوچھتے ہیں کہ"تم نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟" دوسری جانب نظام محلات میں بیٹھا ہے اور عوام گلیوں میں ڈوب رہے ہیں۔ نہ کوئی سننے والا، نہ کوئی پوچھنے والا۔ بس پانی چڑھتا جا رہا ہے اور سوال پہلے سے زیادہ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں بارشوں سے 260 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 602 ہے۔ ان میں 83 مرد، 44 خواتین اور 118 بچے شامل ہیں۔ زخمیوں میں بھی 232 مرد، 168 خواتین اور 202 بچے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک گھر اجڑا ہے، ایک ماں نے بچے کو کھویا ہے، ایک بچی نے باپ کی لاش دیکھی ہے۔پنجاب جہاں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا وہاں 135 افراد جاں بحق اور 470 زخمی ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں 59 افراد جاں بحق اور 73 زخمی، سندھ میں 24 جاں بحق اور 40 زخمی، بلوچستان میں 16 جاں بحق اور 4 زخمی، گلگت بلتستان میں 3 جاں بحق اور 4 زخمی، آزاد کشمیر میں 2 جاں بحق اور 8 زخمی جبکہ اسلام آباد میں 6 افراد جان سے گئے اور 3 زخمی ہوئے۔یہ اموات کیسے ہوئیں؟ گھروں کے گرنے سے، ندی نالوں میں ڈوبنے سے، لینڈ سلائیڈنگ سے اور فلیش فلڈ سے۔ اب تک 854 گھر منہدم ہو چکے ہیں اور 208 مویشی ہلاک ہوئے۔ بابوسر کے علاقے میں 15 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور ریسکیو ٹیمیں پانی کی موجوں سے لڑتی انہیں تلاش کر رہی ہیں۔ گلگت بلتستان کے حسن کو دیکھنے نکلنے والے سیاح اب واپس جانے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ قدرت کا قہر سڑکوں پر بے قابو ہے۔ این ڈی ایم اے نے بھی گلگت کی طرف سفر سے گریز کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اس سارے انسانی المیے کا ایک گہرا تعلق ماحولیاتی تبدیلیوں اور آلودگی سے ہے۔ سالہا سال سے ہم جو کارخانے، گاڑیاں، غیرقانونی جنگلات کی کٹائی، دریائوں کا رخ موڑنے، نالوں پر تعمیرات اور پلاسٹک کے کچرے سے اپنی زمین، فضا اور پانی کو زہر آلود کرتے رہے ہیں اب وہی زہر بارشوں کی شکل میں برستا ہے۔ مون سون کا نظام جنوب مشرقی ایشیا میں عمومی طور پر زراعت کے لیے مفید سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ بربادی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔مون سون کی شدت کا تعلق صرف ہوا کے دباؤ یا درجہ حرارت سے نہیں رہا بلکہ اب یہ گلوبل وارمنگ، اربنائزیشن اور ناہموار ترقیاتی منصوبوں سے بھی منسلک ہے۔ شہروں میں نالے بند، دیہی علاقوں میں نکاسی کا نظام بوسیدہ، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ اور ندی نالوں پر تجاوزات کا عذاب،یہ سب مل کر قدرتی بارش کو غیرقدرتی تباہی میں بدل دیتے ہیں۔کیا حکومت ان سب کی ذمہ دار ہے؟ جزوی طور پر ہاں، مگر اصل ذمہ داری ایک اجتماعی بے حسی کی ہے۔ اگر مقامی حکومتوں کو اختیارات دیے جاتے، شہری ترقی میں ماحولیاتی تحفظ شامل ہوتا اور ہر سال کی طوفانی بارش کے بعد صرف بیان بازی کے بجائے مستقل اقدامات کیے جاتے تو شاید یہ 245 جانیں بچائی جا سکتی تھیں جبکہ شوق پہاڑاں ابھی ختم نہیں ہوا، یہ جنگل یہ حسیں وادیاں ہمیں بلاتی ہیں ابھی بھی لاکھوں افراد فیس بْک کے ٹوریسٹ گرپوں میں تفصیلات پوچھ رہے ہیں۔
آج بھی کسی بڑے شہر کے نالے پر جا کر دیکھیں، یا کسی دیہی علاقے میں کھڑے ہو کر بارش کے پانی کی نکاسی کا نظام چیک کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے خود کو اس بربادی کے لیے تیار ہی نہیں کیا۔ مون سون کے آغاز سے پہلے کسی ہنگامی پلان کی موجودگی نہیں، کہیں صفائی نہیں، کہیں ریت کی بوریاں نہیں، کہیں ندی نالوں کی مرمت نہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو میڈیا پر ایک ہنگامی "بریکنگ نیوز" کا سلسلہ چلتا ہے کہ "اتنے افراد جاں بحق"۔ اس کے بعد سب کچھ پھر سے خاموش۔پاکستان پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات شدید اور مسلسل ہو رہے ہیں۔ مگر ہمارے قومی نصاب، پالیسی سازی اور عوامی شعور میں ماحولیات اب بھی کسی فٹ نوٹ کی طرح ہے جس پر صرف کانفرنسز میں بات کی جاتی ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب سوال صرف حکومت سے نہیں، ہم سب سے ہونا چاہیے۔ ہم جو درخت نہیں لگاتے، نالے بھر کر مکان بناتے ہیں اور پھر جب لاشیں بہتی ہیں تو سارا الزام قدرت پر دھر دیتے ہیں۔ نہیں، یہ قدرت کا عذاب نہیں۔ یہ ہماری خود ساختہ تباہی ہے اور اگر اب بھی ہم نے آنکھ نہ کھولی، تو یہ زمین ہر سال ہمیں نوحہ سنائے گی اور آسمان ہر برس ہم پر لعنت برسائے گا۔وقت ختم ہو رہا ہے اور اس بار صرف موسم نہیں بدلا، مٹی بھی بدگمان ہو چکی ہے۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے کیسا ملک بنا لیا ہے، جہاں بچوں کی لاشیں پانی میں بہتی ہیں اور ٹی وی سکرین پر صرف "تازہ اعداد و شمار" دکھائے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگلی بارش کتنے مزید گھروں کو اجاڑے گی، کتنے سکول بند ہوں گے، کتنے راستے کٹیں گے اور کتنی مائوں کی گودیں خالی ہوں گی۔ بارشوں کا یہ موسم صرف پانی نہیں لایا، ایک احتساب کا موسم بھی لایا ہے۔ اور اگر ہم نے اب بھی خود کو تبدیل نہ کیا۔اپنی ترجیحات، اپنی تعمیرات، اپنی منصوبہ بندی اور اپنی سوچ کو۔تو یہ بارشیں ہر سال ایک نیا نوحہ لکھیں گی، اور ہم محض نم آنکھوں سے انہیں پڑھتے رہیں گے۔

ٹیگز: