Wed, September 16, 2026

محبوب کا بلاوا

محبوب کا بلاوا

محبوب کے کوچے میں ہونا کیسا ہوتا ہے۔۔؟ محبوب کے مولود کے دن، محبوب کے کوچے میں ہونا ایسا ہوتا ہے۔۔ کہ جب محبوب مہربان ہونے لگے، محبوب عطا کرنے پر قادر ہو تو فیض بخشتے ہوئے بھلا دیر کتنی لگتی ہے۔ ہم جب ان کا ذکر چھیڑے بغیر کسی نشست کا آغاز کرتے ہیں اور نہ ہی انجام، ہم ان کے وفادار احباب کے مخلص اصحاب کو بھی سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور ان کی عظمت سے حسد کرنے والوں سے نفرت کو دل و دماغ کی جاگیر سمجھتے ہیں تو پھر وہ بھی تو عطاو¿ں پر قادر ہیں۔ ہمیں اپنی بارگاہ میں جانچتے ہیں۔۔ یوں پرکھتے ہیں کہ کریم بن کر ہماری بے شمار کوتاہیوں کو یکسر نظرانداز کر کے ہماری وہ محبت جو اعمال کے گوشوارے میں کہیں آخری سطروں میں لکھی ان کے سامنے آتی ہے تو پھر ان کی طرف سے بلاوے آتے ہیں، ایسے بلاوے آتے ہیں کہ قدم زمیں پر پڑتے ہی نہیں، پنجاب میں راستے دھند نے بند کر رکھے تھے تو بھی نظر آتا تھا، کوئی مصلحت روک سکتی ہے اور نہ ہی مجبوری۔۔ دھند راستے ملفوف کرتی جاتی تھی مگر بلاوا انگلی پکڑ کر دستگیری کرتا تھا اور ہم کوچہ محبوب کی طرف بڑھتے چلے جاتے تھے۔ محبوب بھی وہ جہاں سے ہمیشہ ایسی قوت عطا ہوتی ہے، اعتماد جھولی بھرتا ہے، زبان یوں تاثیر سے معطر ہوتی ہے کہ دنیا کا ہر راستہ مسخر ہوتا جاتا ہے۔ ہم جب لب کھولتے ہیں تو لفظ مخاطب کے پتھر دل اور بے حس دماغ کی اپاہجی کو بھی سیراب کرتے ہیں۔۔ وہی محبوب جو لینے والے ہاتھ کو دینے والے ہاتھ میں بدلتے دیر نہیں لگاتا ۔۔ وہی جو رکوع میں زکوٰة تقسیم کرنے کا ہنر جانتا ہے اور زمین کے راستوں سے آسمان کے راستے بہتر جانتا ہے ۔۔ وہی جو بھیجے گئے فقیر کو روٹی کے سوال پر دستر خوان عطا کرتا ہے۔
ایسے محبوب کے جنم دن پر، محبوب کے کوچے میں ہونا کیسا ہوتا ہے؟ ایسا ہوتا ہے کہ وجود میں عشق بھرتا جاتا ہے اور عشق بھی وہ جو دھمال و سرود تک نہیں ۔۔ پاکیزگی اور طہارت کی طرف کھینچتا ہے ۔۔ محبوب کے کوچے میں ہونا ایسا ہوتا ہے ۔۔ ابھی دو ماہ پہلے ہم مدینہ میں تھے اور اپنے محبوب کے محبوب اور بڑے بھائی سرکار دو عالمﷺ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر ملتمس تھے کہ اپنے ان تمام پیاروں، جاں فروشوں اور عشق کے عوض دنیا کو ٹھوکر مار دینے والوں کے لمس سے آشنا فرمانے کا اذن عطا کر دیں اور پھر اذن عطا کر دیا گیا۔ جنت بقیع میں چادر تطہیر کے سائے میں سند قرآن حاصل کرنے والی مخدوم کائناتؓ اور ان کے امام ابن امام بیٹے حسن ابن فاطمہؓ کا لمس یوں عطا ہوا کہ کن فیکون کی عملی شکل مقدر کے دائروں میں رنگ بھرتی نظر آئی ۔ امام زین العابدین ابن حسین، محمد باقر ابن سجاد اور جعفر الصادق کا لمس عطا ہوا۔ پھر مکہ میں نبی آخرالزماںﷺ کی زندگی میں آنے والی پہلی شریک حیات خدیجہ الکبریؓ کی قبر تک جا پہنچے، وہاں جا پہنچے جہاں ان کا جنازہ بھی خود آقاﷺ نے پڑھایا اور خود اپنے ہاتھوں سے انہیں یوں مٹی میں اتارا کہ وہ پوری سرزمین ملکہ عرب کی دسترس میں آ گئی۔
پھر ہم اپنے آقا محمد مصطفیﷺ کے بھائی علی المرتضیٰؓ کے اس شہر کی طرف اپنے بلاوے کے منتظر تھے جہاں صحرا کی ریت بھی در نجف بنتے دیر نہیں لگاتی۔ پھر بلاوا آ گیا۔ محبوب کے مولود کے دن، محبوب کا بلاوا آ گیا۔ گیارہ رجب المرجب یعنی عیسوی سال کے پہلے دن، یکم جنوری دو ہزار چھبیس کو ہم گھر سے روانہ ہوئے۔ میری شریک حیات کا شوق سفر نجف و کربلا شدت میں ڈھلا اور وہ بھی شریک سفر ہوئی۔ تینوں بچوں کو وعدہ فردا پر بظاہر مطمئن کیا اور گھر کو سپرد بزرگان کرنے کے بعد ہم اطمینان میں آ گئے۔ ہم اس وقت روانہ ہوئے جب آیت زہرا ٹیوشن پڑھنے جا چکی تھی۔ بلاوے پر جانے والوں کو پچھتاوا نہیں ہوتا اس لیے ہم روانہ ہوئے تو آسمان پر چھائے بادل اداسی میں اضافہ کرتے تھے۔ دانش علی اپنے اندر ہی اندر یقین و عقیدت میں ڈھلتا ہوا ملتان سے روانہ ہوا۔
ہم لاہور پہنچے ہی تھے کہ ہر سُو دھند پھیلنے لگی اور بورڈنگ سے ایک گھنٹہ قبل ہمیں ہمارے ٹریولز معاون معاذ شاہد نے بتایا کہ نجف سے لاہور اترنے والی عراق ائر لائن کی پرواز اب اسلام آباد انٹر نیشنل ائرپورٹ پر اترے گی اور فلائٹ تین گھنٹے کی تاخیر سے دو بجے شب کی بجائے پانچ بجے صبح روانہ ہو گی۔ ہم نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ لاہور کے انکوائری نمبر پر تبدیلی شیڈول کو کنفرم کرنے کے لیے فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ فلائٹ لاہور سے ہی جائے گی اور اب بورڈنگ شروع ہونے والی ہے۔ معاذ نے بتایا کہ ائرپورٹ پر بیٹھے لوگ بہت نااہل ہیں انہیں اپڈیٹ ہونے میں دیر لگے گی آپ اسلام آباد کے لیے نکل جائیں اس سے پہلے کہ موٹروے بوجہ دھند بند ہو جائے۔ معاذ کی بات درست نکلی، فلائٹ اسلام آباد سے ہی جانے والی تھی مگر سول ایوی ایشن کے لوگ غلط معلومات دے رہے تھے۔ دانش کی ڈرائیونگ میں ہم ایم ٹو موٹروے پر اس طرح سفر کرتے تھے جیسے اندھے کو اندھیرے میں نزدیک کی سوجھتی ہے۔ رکتے ہوئے، ڈرتے ہوئے ہم چلتے رہے۔ کہیں حد نگاہ بہت کم، کہیں بہتر اور کہیں بالکل صاف منظر ہمیں چار گھنٹے بعد اسلام آباد ائرپورٹ پر لے ہی گیا۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر کسی چھوٹے شہر کے ہوائی اڈے ایسا ماحول تھا۔ عالیشان عمارت اور جدید نظام کے باوجود کھا جانے والی ویرانی تھی کیونکہ لاہور سے اسلام آباد فلائٹ منتقل ہونے کے بعد سب سے پہلے ہم تینوں یہاں پہنچے تھے۔ شائد اس وقت فلائٹ شیڈول اس طرح کا تھا کہ مسافر کم اور سٹاف کم تر تھا۔ ہماری بورڈنگ کے وقت کاو¿نٹر پر صرف ہم تینوں تھے۔ لاہور سے آنے والے مسافر موٹر وے بند ہونے کی وجہ سے بذریعہ ہائی وے پہنچ رہے تھے مگر اس اچانک تبدیلی ائرپورٹ اور بند راستوں کے باوجود کسی مسافر کے چہرے پر تھکن تھی نہ ہی غصہ۔ توکل سے بھرے تمام مسافر اس بلاوے پر شکر ادا کرتے تھے۔
ہم تین گھنٹے ائرپورٹ پر بیٹھے رہے مگر بے زاری و اکتاہٹ مزاج پر طاری نہ تھی کہ تپش شوق نے ہر ذرے پہ اک دل باندھا تھا۔ ساڑھے پانچ بجے صبح اک کبھی نہ سمجھ آنے والی آواز میں اعلان ہوا جسے ہم اندازوں سے سمجھ پائے کہ نجف الاشرف جانے والی فلائٹ عراق ائر ویز، ون اے، چار سو چھتیس کے مسافر گیٹ نمبر تین سے جہاز میں سوار ہوں۔ ہم جہاز پر بیٹھے تو جہاز اندر سے لوکل بس ایسا منظر پیش کرتا تھا۔ صفائی کی صورت حال کو تو ہم مسافروں نے بیٹھتے ہی تہس نہس کر دیا تھا اور کچھ جہاز کی سیٹیں بھی مضافات میں چلنے والی ویگنوں کے پھٹوں ایسی تھیں۔ ظاہر ہے جنگ کی تباہ کاریوں اور امریکی بمباریوں کے بعد یہی غنیمت تھا کہ ان کا جہاز فضا میں ملنگوں کو لیے اڑ رہا تھا۔ ہماری ائر لائن تو اس قابل بھی نہیں رہی تھی۔ کم تر سہولیات کے باوجود یہ فلائٹ بہت الگ تھی۔
اب کی بار جہاز میں موجود مسافر پہلے والی پروازوں سے بہت مختلف تھے۔ ہوائی بیڑے پر ہمیشہ کی طرح ست رنگی کہکشاں نہیں سجی تھی اور ان کی تہذیب و ثقافت الگ الگ بھی نہیں تھی۔ وہ متضاد عقیدوں سے بھرے ہوئے دماغوں اور جبینوں پر پڑتی لکیروں والے مسافر بھی نہیں تھے۔ ان کی آنکھوں میں روزگار کا غم تھا اور نہ آنے والے کل کی کوئی فکر۔ اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ بھی کسی مسافر کے چہرے سے عیاں نہ تھا۔ ان سب کے چہرے اپنے کسی ایسے خواب کی پیشگی تعبیر سے سیراب تھے جو جیتے جاگتے ان کی حیرت بھری آنکھوں نے دیکھا تھا۔ ان کی کلائیوں میں چاندی کے کڑے اور انگلیوں میں سجتی انگوٹھیوں میں یاقوت، زمرد، عقیق، فیروزے، در نجف اور نیلم کے نگینے جڑے تھے۔ فلائٹ میں زیادہ تعداد برقعوں اور عبایا میں لپٹی عورتوں کی تھی۔ عراقی ائر ویز کے سٹاف نے ایمریٹس اور سعودی ائر لائنز کے سٹاف کی طرح یہ جاننے کے باوجود کہ یہاں عربی سمجھنے والا کوئی مسافر ہے ہی نہیں، عربی میں اعلانات کیے جنہیں غور سے سننے اور سمجھنے کی کوشش بھی کسی مسافر نے نہیں کی۔ بس درود پاک کا ورد جاری رہا اور پرواز صبح کے رنگ میں ڈھلتے بادلوں کی دسترس سے بہت اوپر پہنچ گئی۔

ٹیگز: