کچھ سال پہلے کی بات ہے شام کے وقت میری ڈیوٹی فیض لائونج میں ہوتی تھی۔ کرتار پوری کوری ڈور کی وجہ سے ہمارے پاس ملک بھر سے وی آئی پی مہمان آتے رہتے تھے اور ان کے انتظامات میرے ذمے ہوتے تھے۔ ہمارے پاس کئی اہم شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا تھا سو میرا عملہ اس روٹین کا عادی تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ آج جاوید چودھری صاحب اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ تشریف لائیں گے صبح انھوں نے خصوصی پروگرام بھی کرنا ہے لہٰذا ان کی ٹیکنیکل ٹیم اور دیگر معاونین بھی ساتھ ہوں گے۔ مجھے اس حوالے سے ان کی رہائش اور کھانے پینے کے تمام انتظامات دیکھنے کی ہدایات دی گئیں۔
چودھری صاحب اور ان کی ٹیم کے لیے خصوصی انتظامات شروع کر دیئے گئے۔ علاقے کی ایک بڑی کاروباری شخصیت نے بڑی محبت سے رات کے کھانے کا اہتمام اپنے فارم ہائوس پر کیا اور ہمیں تاکید کی کہ ریفریشمنٹ کے بعد چودھری صاحب اور ان کی ٹیم کو کھانے پر لے آئیں۔ چودھری صاحب کے پروڈیوسر فرخ صاحب مجھ سے رابطے میں تھے انھوں نے مغرب کے بعد اطلاع دی کہ ہم قریب پہنچ چکے ہیں۔ گیٹ پر دونوں جانب حسبِ معمول گارڈز موجود تھے جنھوں نے گیٹ کھول دیئے تھے۔ ہمارے پاس آنے والے مہمان عموماً پروٹوکول کی گاڑیوں کا پورا قافلہ لے کر آتے تھے۔ لہٰذا ہم اس روز بھی ایک لمبے چوڑے قافلے کی توقع کر رہے تھے۔ یکا یک ایک ویگن گیٹ سے داخل ہوئی۔ میں سمجھ گیا کہ چودھری صاحب کا ٹیکنیکل سٹاف آ گیا ہے۔ میں نے اپنے سٹاف کو اشارہ کیا وہ ویگن کی طرف دوڑا۔ ویگن کا دروازہ کھلا اور جاوید چودھری صاحب باہر نکلے۔ چودھری صاحب نے ایک بیگ ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا اور دوسرا کندھے پر تھا۔ ملازم آگے بڑھا اس نے بیگ لینے کی کوشش کی۔چودھری صاحب نے منع کر دیا۔ فرخ بھائی نے بتایا کہ چودھری صاحب اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں۔ ہم نے انھیں مختص کیے گئے کمروں کی طرف بھیجا اور ہائی ٹی کا انتظام کرنے لگے۔ کھانے پینے کی چیزیں گرم کی گئیں۔ فرخ صاحب نے آ کر بتایا کہ ہائی ٹی کی کوئی طلب نہیں ہے اور چودھری صاحب بس کھانا ہی کھائیں گے۔ کافی اسرار کے بعد بھی جب بات نہ بنی تو ہم نے ہائی ٹی کینسل کر دی۔
اب کوئی آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ جن صاحب کے فارم ہائوس پر کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا ان کی کالز مسلسل آرہی تھیں۔ ہم
نے ساری ٹیم تیار کی تو معلوم ہوا کہ چودھری صاحب اور فرخ بھائی موجود نہیں ہیں۔ گارڈز سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ باہر کہیں نکلے ہیں۔ ہم نے رابطے کی کوشش کی پھر انتظار کرنے لگے۔ مزید آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد دونوں صاحبان واپس آئے۔ فرخ بھائی نے بتایا کہ چودھری صاحب قریب موجود ہوٹل (ڈھابے) پر کھانا کھانے گئے تھے۔
میرا سٹاف حیرت سے منہ تکنے لگا۔ میں نے گزارش کی کہ صبح سے آپ کے کھانے کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا ہے، آپ کو وہیں جانا تھا۔ فرخ بھائی نے کہا چودھری صاحب انتہائی سادہ کھانا کھاتے ہیں اور ایسے ہی کھاتے ہیں۔ خیر طے یہ ہوا کہ باقی ٹیم کو لے جا کر کھانا کھلایا جائے۔ ہم بچہ پارٹی کو ویگن میں بھر کر کھانا کھلانے لے گئے۔ میزبان نے کئی بار چودھری صاحب کا پوچھا پھر تاکید کی کہ چلیں کل دوپہر کے کھانے پر انھیں ضرور لے کر آئیں۔
ہم کھانے سے لوٹے تو چودھری صاحب کے تمام کام وقت کی سخت پابندی کے ساتھ ہوئے۔ ان کے تمام عملے کو وقت کی پابندی کا خیال غیر معمولی طور پر تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ نظم و ضبط کا شدید خیال رکھتے۔ یہی صورت اگلی صبح دیکھنے کو ملی۔ وہ حسب معمول علی الصبح جاگے۔ خود اپنی ساری ٹیم کو اٹھایا اور واک کرنے لگے۔ میری کچھ دیر ان سے گفتگو ہوئی۔ مجھے احساس ہوا کہ چودھری صاحب علمی مباحثے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مدلل بات کرتے ہیں اور بات پوری توجہ سے سنتے ہیں۔ اسی مکالمے کے دوران میرا باورچی (جو کرسچن تھا) چائے لے آیا۔ جاوید چوہدری صاحب نے مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا اور پھر تاکید کی کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس لڑکے سے کوئی ظلم زیادتی نہ ہو۔ میں نے کہا بے فکر رہیے میرے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں ہے۔ ان کے انسانیت سے بھرپور دھیمے مزاج اور محبت بھرے لب و لہجے نے مجھے بہت متاثر کیا۔
چائے کے بعد ہم ملاقات کے لیے منسٹر صاحب کی طرف گئے۔ میں نے انھیں وہاں چھوڑا اور واپس آ گیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے کئی دوستوں کی کال آئی کہ چودھری صاحب آپ کو یہاں یاد کر رہے ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اپنی آفیشل ملاقات میں مجھے کیوں یاد کر رہے ہیں۔ خیر میں وہاں پہنچا۔ کمرہ بھرا ہوا تھا میں جا کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ میرے بیٹھتے ہی چودھری صاحب نے پھر میرا نام لے کر استفسار کیا کہ آئے نہیں ؟ میں نے جواب دیا جی میں آ گیا ہوں۔ کہنے لگے ادھر پاس آئیں نا۔ پھر منسٹر صاحب سے مخاطب ہوئے۔ کہنے لگے یہ بابر زیدی صاحب ہیں بہت مختلف آدمی ہیں۔ آپ ان کے ساتھ ہفتے میں ایک دن ضرور بیٹھا کریں اور گفتگو کیا کریں۔ پھر کچھ باتیں اور کہیں اور محفل برخواست ہوئی۔ چودھری صاحب یہ بات پاکستان کے سب سے زیادہ قابل اور متاثرہ کن شخصیت کے مالک سیاست دان سے کہہ رہے تھے۔اس بات کا مطلب یہ تھا کہ وہ ملاقات میں کسی بھی طرح کے موجودات سے مرعوب نہیں ہو رہے تھے بلکہ ان کی توجہ کچھ دیر پہلے ہوئے مکالمے پر مرکوز تھی۔ اعلیٰ سطح اجلاسوں میں شرکت اور دنیا کی اہم ترین شخصیات سے ملنا اور ان کے ساتھ رہنا جاوید چوہدری کے کام کا حصہ ہے لیکن انھوں نے اس دوران بھی اپنا شخصی تعارف تبدیل نہیں ہونے دیا۔
تھوڑی دیر بعد انھوں نے پروگرام کیا اور اسلام آباد واپس نکلنے لگے۔ میں نے پھر استفسار کیا کہ کھانا تیار ہے کھائیں گے نہیں ؟ فارم ہائوس پر چاولوں کی بوریاں، کچھ تحائف جو بڑی محبت سے ان کے لیے تیار کیے گئے تھے اور پر تکلف کھانا، ان کے منتظر تھے۔ چودھری صاحب نے کہا نہیں ہم کھانا رستے میں کھائیں گے۔ کئی بار اسرار کے باوجود وہ نہ رکے۔ فرخ بھائی نے مجھے کہا ہم کسی ہوٹل یا ڈھابے سے کھا لیں گے۔ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ ویگن میں بیٹھے اور چلے گئے۔ مجھے انداز ہوا کہ چودھری صاحب کھانے پینے میں نہایت سادہ ہیں اور پروٹوکول کی بجائے ڈسپلن کو اپناتے ہیں۔ میں نے دیکھا وہ حقیقت میں وہی ناشتہ کرتے ہیں جو لوگوں کو بتاتے ہیں اور سادہ لیکن نظم و ضبط سے بھرپور دن گزارتے ہیں جس میں تکلفات اور پروٹوکول کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ مجھے یاد آیا ہمیں سقراط نے بتایا تھا کہ کسی شخص کے لباس اور سواری سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس کی قابلیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ دیو جانس کلبی نے کہا تھا کہ آدمی کی بے نیازی اس کا سب سے بڑا حسن ہوتی ہے۔ در اصل بڑا آدمی سب سے پہلے اپنے عہد کے معیارات اور لائف سٹائل کو چیلنج کرتا ہے۔ چودھری صاحب کو میں نے ایسا ہی پایا۔ ملک کے لاکھوں لوگوں کو پڑھانے والا آدمی، اپنے کیرئیر کے عروج پر ، گلے میں مفلر ڈالر اپنی ٹیم کے ساتھ کرائے کی ویگن میں بیٹھا اسلام آباد واپس جا رہا تھا۔
میں نوجوانوں کو تاکید کروں گا کہ ان سے وقت لیجے ، ملاقات کیجیے اور جینے کے گُر سیکھیے۔