اسلام آباد :ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید موسمی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جہاں تین اہم دریاؤں راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے۔ پاک فوج متاثرہ علاقوں میں مکمل الرٹ ہے اور ریسکیو آپریشنز میں سرگرمی سے حصہ لے رہی ہے۔
اسلام آباد میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت پر فوجی جوان اور افسران عوام کی مدد میں پیش پیش ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افسوسناک انکشاف کیا کہ ریسکیو سرگرمیوں کے دوران دو جوان شہید ہو چکے ہیں۔ کرتارپور میں کشتیوں کے ذریعے آپریشن جاری ہے جبکہ قراقرم ہائی وے کو بحال کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا،دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر پانی کی سطح تشویشناک حد تک بلند ہو چکی ہے۔دریائے راوی میں جسٹر اور شاہدرہ کے علاقوں میں صورتحال قابو میں ہے، تاہم مکمل نگرانی جاری ہے۔
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مسلسل رابطہ ہے، خیمے اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، اور بروقت الرٹس سے ہزاروں افراد کا انخلاء ممکن ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سیلابی صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ بریفنگ لے رہے ہیں اور ہدایات جاری کر رہے ہیں کہ ریلیف، بحالی اور پیشگی وارننگ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگلے چند دنوں میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جائے گا اور نقصانات کے تخمینے کے بعد بحالی کا عمل تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے اسے "قومی ردعمل" قرار دیا، جس میں تمام ریاستی ادارے یکجہتی سے کردار ادا کر رہے ہیں۔