واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف سخت ترین بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ تنازعات نے ایران کی عسکری کمر توڑ دی ہے اور اب وہ عالمی سطح پر کوئی بڑا خطرہ پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
مارکو روبیو نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کی ٹیم امریکہ سے معاہدہ کرنے کی خواہش مند ہے تاکہ ملک کو تباہی سے بچایا جا سکے، لیکن ایرانی اقتدار کے ایوانوں میں جاری "ٹوٹ پھوٹ" اور قیادت کی ہٹ دھرمی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت محض وقت گزاری کر رہی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی موجودہ حالت کے بارے میں چند اہم نکات بیان کیے۔ ایران کی میزائل فیکٹریاں ختم ہو چکی ہیں اور اس کی دفاعی صلاحیت آدھی رہ گئی ہے۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اب فضائیہ اور بحریہ جیسی بنیادی فوجی قوتوں سے محروم ہو چکا ہے۔ ایران میں مہنگائی اور قحط سالی عروج پر ہے، اور حکومت کے پاس اپنے عملے کو تنخواہیں دینے تک کے پیسے موجود نہیں۔
روبیو نے خبردار کیا کہ ایران اپنے تیل کے ذخائر کو بطور "ہتھیار" استعمال کر کے دنیا کو بلیک میل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جو کہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران مذاکرات کی طرف نہیں آتا تو صدر ٹرمپ کے پاس پابندیوں کا دباؤ مزید بڑھانے کا مکمل اختیار موجود ہے۔