Wed, September 16, 2026

سمندری جنگ، تباہی کا منصوبہ، مذاکرات

سمندری جنگ، تباہی کا منصوبہ، مذاکرات


عالمی امور کے ماہرین کی متفقہ رائے، جب تک ٹرمپ کے منہ پر ہاتھ نہیں رکھا جائے گا ان کا سوشل میڈیا اکاو¿نٹ ٹروتھ (جھوٹی خبروں کا مجموعہ) خاموش نہیں ہوتا دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ 35 کروڑ امریکیوں نے عجیب صدر چنا ہے جسے دھمکیوں اور حملوں کے احکامات کے سوا کچھ نہیں سوجھتا، صبح دھمکی، شام دھمکی 24 گھنٹوں میں 30 دھمکیاں، گرگٹ سے زیادہ رنگ بدلنے والا صدر جس نے بزعم خود مقبولیت میں اضافہ کے لیے جنگ چھیڑی لیکن مقبولیت 33 فیصد رہ گئی جبکہ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کے بقول صرف 18 فیصد عوام ٹرمپ کے حامی ہیں۔ 63 فیصد امریکی عوام جنگ کے مخالف ہیں 70 فیصد روز بروز بڑھتی مہنگائی سے خوفزدہ ہیں، ٹرمپ کے حامیوں میں زیادہ تعداد یہودیوں کی ہے، اسی لابی کے مشورے پر امریکی صدر نے پوری دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا۔ ٹرمپ نے جنگ کیوں شروع کی؟ سوال چالیس پچاس دن پرانا، سادہ جواب، یہودی لابی نے ان کے صدارتی انتخاب میں 2165 کروڑ ڈالر چندہ دیا تھا، ہر انتخاب میں یہی لابی سرگرم ہوتی ہے، کیوں نہ ہو، دنیا کے امیر ترین اشخاص میں 6 یہودی، 10 سب سے بڑی کمپنیوں کے مالک یہودی۔ ڈیڑھ کروڑ میں سے 67 سے 70 لاکھ امریکہ میں آباد ہیں، لیکن حالیہ جنگ نے 3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں ری پبلیکنز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ امریکن میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس عوام کا سامنا کرنے کے لیے کچھ نہیں، ایران کی رجیم چینج کرنے چلے تھے۔ اپنی فوج اور کابینہ میں بغاوت ہو گئی۔ آرمی چیف اور نیول چیف سمیت متعدد جنرل برطرف کرنا پڑے قریبی ساتھیوں نے استعفے دے دئیے مگر وہ جنگ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے خوفزدہ ہیں، لیبیا اور عراق کو بھی اسی موہوم خوف سے تباہ کیا، نیتن یاہو نے پٹی پڑھائی ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودگی میں کامیاب ہو چکا ہے خطے میں چھا جائے گا۔ ٹرمپ نے برملا کہا ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، کیوں؟ آپ دنیا کی سب سے خطرناک اور سپر ایٹمی طاقت دفاعی بجٹ میں 42 فیصد اضافہ کا اعلان، تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ 4181 کھرب 27 ارب روپے کسی میں اعتراض کی ہمت نہیں، اسرائیل کی چھوٹی سی غاصب ریاست کو ایٹم بموں جدید ترین میزائلوں اور مہلک ہتھیاروں سے لیس کر دیا۔ مسلم ممالک میں کون سے کیڑے پڑے ہیں کہ انہیں اپنے دفاع کے لیے ایٹمی سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔ ایران کو یورینیم افزودگی کا پلانٹ خود امریکہ نے دیا تھا یہ تب کی بات ہے جب ایران منی یورپ کہلاتا تھا اب اسی پلانٹ کی تباہی کے لیے بلاک بسٹر بم برسائے گئے۔ امریکہ نے ایران کا جغرافیہ پڑھ کر حملہ کر دیا مگر تاریخ اور ایران کی صدیوں پرانی تہذیب کا مطالعہ نہیں کیا۔ ایرانی سخت جان ثابت ہوئے چالیس روزہ زمینی جنگ میں 70 فیصد تباہی اور 2070 سے زائد شہادتوں کے باوجود انہوں نے ہار نہیں مانی جس کے بعد ٹرمپ کو سمندری جنگ میں کودنا پڑا، ایران نے آبنائے ہرمز ”دشمن ممالک“ کے لیے بند کر دی تو امریکہ نے اپنے طیارہ بردار جنگی جہازوں کے ذریعہ ایرانی پانیوں کی ناکہ بندی کر دی، سی این این نے اس خطرناک منصوبہ کی پول کھول دی ہے جس کا مقصد ایرانی بحری دفاعی نظام کو تباہ کرنا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں چھوٹی تیز رفتار کشتیاں علاقے کی حفاظت پر مامور ہیں، امریکی طیارہ بردار جہاز آبنائے کے قریب آنے سے خوفزدہ ہیں لیکن انہوں نے ایران سے تیل لے کر جانے والے چینی اور دیگر ملکوں کے جہازوں کو روک دیا ہے جس سے ایران کو ماہانہ 13 ارب ڈالر کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ ایرانی کنوو¿ں سے تیل بدستور نکل رہا ہے لیکن امریکی میڈیا کے مطابق تیل کی برآمد رک گئی ہے ناکہ بندی کا مقصد ایران کو معاشی طور پر تباہ کرنا ہے۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق ایران ایک یا دو ماہ یہ نقصان برداشت کر سکے گا، سی این این کے مطابق اس منصوبہ کا دوسرا آپشن ایران کی موجودہ قیادت کو نشانہ بنانا ہے، اس سلسلہ میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت سمندر میں امریکہ کے 19 جہاز، دو طیارہ بردار بحری بیڑے اور بحر ہند میں 7 جہاز موجود ہیں لیکن وہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا گزرنے سے خوفزدہ ہیں، اس کی بنیادی وجہ ایران کا جوابی منصوبہ ہے، مبینہ طور پر ایران نے عین اس مقام پر جہاں سے انٹرنیٹ کی 7 کیبلز بچھائی گئی ہیں زیر آب مائنز لگا دی ہیں ان کیبلز کی وجہ سے دنیا بھر کا انٹرنیٹ نظام، آن لائن بینکاری، معیشت، شاپنگ اور تمام سروسز چلتی ہیں، ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ناکہ بندی ختم نہ کی تو وہ ان کیبلز کو تباہ کر دے گا جس سے امریکہ سمیت دنیا واقعی پتھر کے دور میں پہنچ جائے گی۔ یہ ایران کا خاموش کمیونیکیشن دھماکہ ہو گا۔ دنیا بھر کے رابطے ٹوٹ جائیں گے کھربوں ڈالر کا نقصان ہو گا۔ ان خوفناک اطلاعات کے بعد ہی 15 روزہ جنگ بندی ختم ہونے سے ایک گھنٹہ قبل ہمارے فیلڈ مارشل کا مشورہ مانتے ہوئے صدر ٹرمپ نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ امریکہ نرم ایران گرم، مذاکرات سے انکار، امریکہ ناکہ بندی ختم کرے پھر مذاکرات کریں گے، صدر ٹرمپ کو مڈٹرم الیکشن میں اپنی شکست نظر آ رہی ہے اسی لیے وہ جلدی میں ہے، ایران کی طرف سے مسلسل خاموشی رہی، مذاکرات کا دوسرا راو¿نڈ گزشتہ جمعہ کو بھی ممکن نہ ہو سکا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے مسلسل رابطوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ اور ہفتہ کی رات اسلام آباد پہنچے، لیکن ذرائع کے مطابق وہ مذاکرات کے لیے اپنی تجاویز دے کر عمان اور روس کے دورے پر چلے گئے، امریکی وفد ان سے بات چیت کے لیے اسلام آباد میں موجود رہا، مذاکرات کب ہوں گے کچھ یقینی نہیں۔ ناکہ بندی ختم ہوئے بغیر ڈیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی تاہم پاکستان کی کوششوں سے پیر منگل تک مذاکرات کا دوسرا راو¿نڈ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ مذاکرات طویل ہو سکتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید ابتدا میں براہ راست مذاکرات نہ ہوں، عراقچی کی تجاویز پر غور و خوض کی صورت میں پیش رفت ہوئی تو جے ڈی وینس امریکی وفد کی قیادت کریں گے، حفیظ اللہ نیازی کے بقول نیتوں کا فتور ہے اور ہم ہیں دوستو نیتیں صحیح رہیں تو ان شاءاللہ مذاکرات بھی ہوں گے اور کامیاب بھی ہونگے، اللہ کرے ایسا ہی ہو، اسلام آباد کے شہریوں کو راستوں کی بندش اور دنیا بھر کے عوام کو خواہ مخواہ کی پریشانیوں سے نجات ملے گی۔ اس کے علاوہ حکمرانوں کو مہنگائی 18.88 سے کم کرنے، پٹرول کی قیمتیں گھٹانے سمیت عوام کے مسائل کے حل کی فرصت مل سکے گی۔

ٹیگز: