افغانستان جب لْٹ پِٹ چکا تھا اور کابل، قندھار جیسے شہر بھی کھنڈر بن چکے تھے۔ لاکھوں افغان مہاجرین دربدرتھے اوردْنیاکے دروازے افغان مہاجرین کیلئے بندہوچکے تھے اوردْنیاافغانستان سے قطع تعلق ہوچکی تھی۔افغان عوام بھوک سے مررہی تھی،بچے بلک رہے تھے،بزرگ علالت اوربھوک سے بسترمرگ پرتھے۔تب۔دْنیامیں وْہ واحدملک اسلامی جمہوریہ پاکستان تھاجس نے اِس مشکل وقت میں افغانستان کاہاتھ تھاما،لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں مہمان نوازی کی،گھروں کے دروازے کھولے، افغان بچوں کوتعلیم کے زیورسے آراستہ کیا، افغانستان کیلئے دِل کھول کر عطیات اورخوراک دی۔آج بھی دْنیاکے دیگرممالک میں جو افغان بچے زیرتعلیم ہیں اْن کی بنیادی تعلیم پاکستان سے ہی مکمل ہوئی اوریہیں سے وْہ آگے بڑھے۔ لیکن۔ آج وہی افغانستان نہ صرف احسان فراموش بن چکاہے بلکہ پاکستان کے ازلی دْشمن بھارت کی گودمیں بیٹھ چکاہے اوراپنے ہی محسن پاکستان کیخلاف نہ صرف زہرآلود گفتگو کر رہاہے بلکہ پاکستان کے دْشمن،انسانیت کے قاتل، فتنہ الہندوستان اورفتنہ الخوارج کی سرپرستی کررہاہے،اِن کومحفوظ پناہ گاہیں دے رہا۔حالانکہ۔پاکستان نے افغانستان کی احسان فراموشی کے باوجودسفارتکاری کے ذریعے اِسے سمجھانے کی بھرپورکوشش کی اوردوست ممالک کوافغانستان سے پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی کے ثبوت بھی دکھائے۔ لیکن افغان حکومت اِتنی محسن کش اورگرچکی ہے کہ وْہ مکمل طورپرانسانیت کے قاتل فاشسٹ بھارت کی زبان بول رہی ہے۔حال ہی میں افغانستان کی جانب سے مسلسل دراندازی اوردہشتگردوں کی پشت پناہی کے بعد پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں آپریشن غضب اللحق کے ذریعے نہ صرف افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کوتباہ کیاگیابلکہ دہشتگردوں کی تربیت گاہوں،اسلحہ ساز فیکٹریوں، خودکش بمبارٹریننگ سینٹروں کاخاتمہ کیا۔ لیکن گزشتہ روزایک دفعہ پھر افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز کوپاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔ 4ڈرونز کو طورخم کے قریب جبکہ 4 کو کوہاٹ سے متصل پہاڑی علاقوں میں گرایا گیا۔افغان سرزمین سے دراندازی اور ڈرونز کے آنے کے بعدپاکستان نے دفاع وطن کے حق کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں ڈرونز کے لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مقامات اور تمام درانداز پلیٹ فارمز کا سراغ لگا کر انہیں مکمل طورپرتباہ کر دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کیے گئے حملے دانستہ، درست اور متناسب تھے اور انہیں صرف فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا۔اِس حوالے سے پاکستان نے ایک دفعہ پھرواضح کردیاہے کہ افغان سرزمین سے ڈرونز کی دراندازی دانستہ اور غیرقانونی کارروائی تھی جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کو گزشتہ کئی برس سے پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے حوالے سے مسلسل تشویش سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے تاہم ان نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے کے بجائے صورتحال کو پاکستان کے خلاف ڈرون کارروائیوں کے ذریعے مزید کشیدہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف تمام دشمن سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مستقل کارروائی کرے۔پاکستان خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری رابطے کے عزم پر قائم ہے تاہم اس پالیسی کو کمزوری یا دشمنانہ کارروائیوں کے لیے لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
قارئین کرام! اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے مسلسل افغانستان سے مل رہے ہیں اور ہر دہشتگرد حملے، خودکش بمبار،سے رابطہ کاری مسلسل افغانستان سے ہوتی ہے۔ اوراگردہشتگردی کی جنگ کی بات کی جائے تودہشتگردی کی جنگ میں جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اور دے رہاہے اْس کی مثال نہیں ملتی۔ علاقائی استحکام کیلئے پاکستان نے افغانستان کودہشتگردوں کیخلاف کئی دفعہ مشترکہ کارروائیوں کی بھی پیش کش کی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح افغانستان کی جانب سے بجائے مثبت ردعمل کے بھارتی زبان بولی جاتی ہے۔لیکن۔پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج،حکومت پاکستان سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لاتے ہوئے تمام معاملات کو بڑے تحمل سے ہینڈل کر رہے ہیں۔ آپریشن غضب اللحق کے ذریعے دہشتگردوں کامکمل قلع قمع کیا جایا جا رہاہے۔ آج افغانستان کوبھی ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اورافغان سرزمین سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کوختم کرنا ہو گا۔ اِس حوالے سے آج عالمی قوتوں اور اقوام متحدہ پربھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشتگردی کی جنگ میں نہ صرف پاکستان کابھرپورساتھ دیں بلکہ افغان حکومت اوربھارت کوبھی لگام ڈالیں۔