آج 27 ستمبر 2025 ہے اور 7 اکتوبر آنے میں صرف 10 دن باقی ہیں۔ غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کی بنیاد 2023 میں اسی روز پڑی تھی۔ یعنی اس جنگ کو شروع ہوئے دو سال مکمل ہونے والے ہیں۔ دنوں کا حساب لگایا جائے تو نہتے اور معصوم فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ 720 دن سے جاری ہے۔
اس عرصے میں شاید ہی کوئی دین ایسا گزرا ہو جب اہل غزہ پر صیہونی مظالم کا کوئی پہاڑ نہ ٹوٹا ہو، کوئی بچہ شہید نہ ہوا کوئی خاندان نشانہ نہ بنا ہو، کوئی عمارت اسرائیلی بمباری سے تباہ نہ ہوئی ہو۔ غزہ گزشتہ 720 دن سے اسرائیلی بربریت کے ہاتھوں کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ظلم و بربریت کے اس بے رحم سلسلے کو جنگ کا نام دیا جا رہا ہے حالانکہ جنگ تو ایسے دو فریقوں کے درمیان ہوتی ہے جو طاقت کے اعتبار سے ہم پلہ ہوں۔ ہم پلہ نہ سہی ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کے قابل تو ہوں لیکن غزہ اور اسرائیل کے معاملے میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ ایک فریق اسرائیل ہے جو جدید ترین اسلحے کے انباروں اور اپنے سب سے بڑے حامی اور مدد گار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد اور آشیرباد سے نہتے اور بے یارو مدد گار حریف کے خلاف اندھی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جبکہ دوسرا فریق غزہ ہے جو بے بسی کی تصویر بنا اور ایک ظالم اور جارح دشمن کے سفاکانہ حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ زبانی ہم دردری کا اظہار کرنے والے تو بہت ہیں لیکن اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ اگر کوئی اس کی مدد کو آگے بڑھنے کی کوشش کرتا بھی ہے تو اس پر بھی اسرائیل جنگ مسلط کر دیتا ہے جبکہ اس کے پشتی بان اسے بھرپور طریقے سے حربی، مالی اور اخلاقی مدد فراہم کرتے ہیں۔
گزشتہ دو سال کے دوران اسرائیل کو جس جس ملک پر بھی غزہ کا ساتھ دینے کا شبہ ہوا، اس نے اسی ملک کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔ جسے نشانہ نہ بنا سکا اس کے خلاف بدترین بلکہ اشتعال انگیز زبان استعمال کی تاکہ اسے بھی اکسا کر اس کے خلاف جارحیت کا جواز پیدا کیا جا سکے لیکن خود اہل غزہ پر ظلم و ستم کرنے سے باز نہیں آیا۔ غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک بہت سے ملکوں نے اسرائیل کی مذمت بھی کی، اس پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام لگایا۔ عالمی عدالت اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورمز پر بھی اپنے مقدمات لے کر گئے لیکن کسی اقدام کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ عالمی عدالت کے فیصلے سے اسرائیل کے کان پر جوں رینگی نہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا اس پر کچھ اثر ہوا بلکہ بیشتر قرار دادیں تو امریکہ نے ہی ویٹو کر دیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو خود کو امن کا داعی قرار دیتے ہیں اور پاک بھارت تنازع سمیت دنیا کی مختلف جنگیں رکوانے کا سہرا اپنے سر پر باندھتے ہیں انھوں نے بھی اسرائیل اور غزہ کا تنازع ختم کرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی بلکہ ابراہام اکارڈ جیسے معاہدے اور غزہ کی تعمیر نو کے نام پر وہاں کے شہریوں کی دوسرے ملکوں میں منتقلی جیسے ناقابل عمل حل پیش کرتے رہے۔
7اکتوبر2023 کے بعد سے اسرائیل کے خلاف یا غزہ کی حمایت میں عالمی برادری کی طرف سے کبھی اتنا جاندار اور ٹھوس متفقہ اور مشترکہ رد عمل سامنے نہیں آیا جتنا حال ہی میں سامنے آیا ہے۔ اس کی وجہ شاید اسرائیل کا شر اور توسیع پسندانہ عزائم کی دھمکیاں ہیں جن سے اس کا کوئی پڑوسی ملک محفوظ نہیں۔
حال ہی میں اسرائیل نے قطر جیسے پرامن ملک کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔ قطر ایک ایسا ملک ہے جو غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل اور حماس کی رہنماو¿ں کے درمیان مذاکرات کی صورت میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔ اسرائیل نے اپنے اس خیر خواہ کو بھی نہیں بخشا اور اسی کی سرزمین پر حماس کے ان رہنماو¿ں کو نشانہ بنا ڈالا جن سے مذاکرات کے لیے بات چیت چل رہی تھی حالانکہ قطر کی حفاظت کی ذمہ داری بھی امریکہ نے لے رکھی ہے۔ اسی تناظر میں قطر میں ایک ہنگامی کانفرنس بھی بلائی گئی تھی۔
اسرائیل کے اس باو¿لے پن اور امریکہ کی طرف سے اس کی بے جا پشت پناہی کے نتیجے میں عالمی منظر نامے پر کچھ ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن سے عیاں ہے کہ اب اسرائیل کا ہاتھ روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور اسی تناظر میں مصر نے اپنی فوجیں صحرائے سینا میں جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ اسرائیل کو لگام ڈالنے ہی کے سلسلے میں پاکستان سمیت آٹھ عرب اور مسلمان ممالک کے سربراہوں نے جن میں متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکی اور انڈونیشیا بھی شامل تھے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ سے بھی ملاقات کی۔ ایسا شاید پہلی بار ہوا ہے اور آنے والے وقت میں اس کے اثرات بھی یقینا ظاہر ہوں گے۔ ایک اور اہم پیشرفت برطانیہ، فرانس، پرتگال، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت مختلف مغربی اور غیر مسلم ممالک کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رکھا تھا لیکن عالمی سیاست پر اثرانداز ہونے والی بڑی طاقتوں کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا بہت بڑی اور اہم پیش رفت ہے۔ 193 ملکوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ملکوں کی مجموعی تعداد اب 157 ہو گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اب تک 80 فیصد عالمی برادری فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکی ہے۔
ایک اور اہم پیش رفت چلی کے صدر کا اقوام متحدہ میں خطاب ہے جس میں انھوں نے کہا کہ وہ نیتن یاہو اور اس کے خاندان کو میزائل حملے میں مرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ گیبریل بورک نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ تمام ممالک مل کر ایک طاقتور امن فوج بنائیں جو غزہ کا تحفظ کرے۔
اوپر بیان کیے گئے تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر اسرائیل کی حمایت میں کمی اور مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ غزہ کے معصوم بچوں اور بے گناہ شہریوں کا خون رنگ لا رہا ہے۔ اگر غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو عالمی سطح پر اس کی جو تھوڑی بہت حمایت باقی ہے وہ بھی ختم ہو جائے۔ یہ صورت حال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے اب مزاجِ عالَم بدل رہا ہے۔