نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں آج اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر کے دوران مسلم اور عرب ممالک نے بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جیسے ہی نیتن یاہو تقریر کے لیے پوڈیم پر آئیں گے، عرب اور مسلم ممالک کے مندوبین اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کریں گے۔
یہ اقدام نیتن یاہو کی جانب سے "گریٹر اسرائیل" منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جسے مسلم دنیا نے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ کئی عرب رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آج کے اجلاس میں دو سیشن ہوں گے۔ پہلے سیشن میں نیتن یاہو تقریر کریں گے، جس کے فوراً بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف خطاب کریں گے۔ اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم پاکستان کی تقریر کے موقع پر تمام عرب اور مسلم نمائندے واپس ہال میں آئیں گے، تاکہ یکجہتی کا پیغام دیا جا سکے۔
آج کے اجلاس میں چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی خطاب کریں گے، اور امکان ہے کہ ان کی تقریر کے وقت بھی مسلم اور عرب ممالک کی بڑی تعداد موجود ہو گی۔ اسی طرح بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس بھی آج کے مقررین میں شامل ہیں۔
یہ واک آؤٹ ایک علامتی پیغام ہے کہ مسلم دنیا اسرائیلی پالیسیوں سے سخت نالاں ہے اور اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے متحد ہے۔