Wed, September 16, 2026

جونی آئیو اور سام آلٹمین کی نئی اے آئی ڈیوائس: انقلاب کی تیاری؟

جونی آئیو اور سام آلٹمین کی نئی اے آئی ڈیوائس: انقلاب کی تیاری؟

کیلیفورنیا : ایپل کے سابق چیف ڈیزائنر جونی آئیو اور اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیوائس تیار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ابھی اس ڈیوائس کی تمام تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن ان دونوں کی جانب سے اس پراسرار ڈیوائس کے بارے میں کچھ اہم معلومات جاری کی گئی ہیں۔

سام آلٹمین نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ ڈیوائس دوسال سے کم وقت میں مارکیٹ میں دستیاب ہو گی، اور یہ موجودہ ڈیوائسز سے بالکل مختلف ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ڈیوائسز اس وقت مارکیٹ میں ہیں، جیسے آئی فون، وہ وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکیں جو وہ چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی نئی ڈیوائس ایسی ہوگی جسے لوگ ناپسند نہیں کریں گے، کیونکہ یہ صارف کی ضروریات کو سمجھ سکے گی اور تفصیلات فراہم کرنے کا وقت درست انداز میں فیصلہ کرے گی۔

اس ڈیوائس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ آپ کی زندگی کے بارے میں گہری آگاہی حاصل کرے گی، یعنی یہ آپ کی روزمرہ کی زندگی اور ترجیحات کے مطابق کام کرے گی۔

جونی آئیو نے کہا کہ انہیں ہمیشہ زیادہ ذہین اور جامع ڈیوائسز پسند آئی ہیں، ایسی ڈیوائسز جو نہ صرف جدید ہوں، بلکہ ان کے استعمال کا تجربہ بھی خوشگوار ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیوائس کا ڈیزائن ایسا ہوگا جو آپ کو چھونے کا احساس دلائے گا اور یہ آپ کی توقعات سے بھی مختلف ہوگا۔

اگرچہ ابھی تک ڈیوائس کا ڈیزائن مکمل طور پر سامنے نہیں آیا، مختلف ذرائع کے مطابق یہ آئی پوڈ شفل کی طرح نظر آ سکتی ہے، جو کہ ایک سادہ اور چھوٹا سا ڈیوائس ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ڈیوائس بہت زیادہ سادہ اور اسٹائلش ہو گی، جسے لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی میں آسانی سے استعمال کر سکیں گے۔

یہ ڈیوائس آئی او کمپنی کے تحت تیار کی جائے گی، جسے جونی آئیو اور سام آلٹمین نے مل کر بنایا ہے۔ اس کمپنی کو کچھ ماہ قبل اوپن اے آئی نے 6.5 ارب ڈالرز میں خرید لیا تھا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ ڈیوائس بڑی سرمایہ کاری اور دلچسپی کا مرکز بن سکتی ہے۔

جونی آئیو اور سام آلٹمین نے اپنی کمپنی کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی اے آئی ڈیوائسز ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقے کو مکمل طور پر بدل دیں گی۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ڈیوائس نہ صرف ٹیکنالوجی کو بہتر بنائے گی، بلکہ اس کے ذریعے صارفین کا تجربہ بھی زیادہ ذاتی اور مربوط ہوگا۔

ٹیگز: