Wed, September 16, 2026

صبر برائے فروخت

صبر برائے فروخت

کہتے ہیں زلزلے زمین ہلاتے ہیں، قحط خوراک چھینتے ہیں اور جنگیں خون بہاتی ہی مگر مہنگائی ان سب سے زیادہ خطرناک طاعون ہے جوانسان کی روح چاٹ جاتی ہے۔ رات کے سائے تو چپ چاپ اترتے ہیں مگر اب دن بھی خاموشی اوڑھے پھرتے ہیں سورج اب بھی نکلتا ہے مگر اس کی روشنی مہنگے داموں بکتی ہے جیسے اجالا بھی کسی مراعات یافتہ طبقے کی میراث بن چکا ہو۔ گلیوں میں بچے اب گیند سے نہیں کھیلتے، ماں کی گود میں اب لوریاں نہیں فکر کی پرچھایاں بسی ہیں، بازاروں میں بھی اب چیزیں نہیں آنکھیں تلتی ہیں اور ہر آنکھ کی پتلی میں ایک ہی سوال گونجتا ہے کہ کیا ہم زندہ رہنے کے لائق بھی ہیں؟ بقول شاعر:
اتنی مہنگائی ہے کہ ہم جیسے غریبوں کے لیے
زندگی موت کا سامان ہوئے پھرتی ہے
یوں تو زمانے نے ہمیشہ گرانیِ اشیا کے ادوار دیکھے مگر عصر حاضر میں مہنگائی نے جس رنگ و روپ میں پنجے گاڑے ہیں وہ محض معاشی بحران نہیں بلکہ تہذیبی، نفسیاتی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جب ریاست کے ایوانوں میں قانون سازوں کے لب خاموش ہوں، جب اشرافیہ کے کان عوامی آہوں سے بہرے ہو جائیں اور جب افلاس کے مارے انسانوں کے چہرے پر صبح کا اجالا اندوہ کی چادر لپیٹے ہوئے اترے، تب جان لینا چاہیے کہ مہنگائی فقط ایک اقتصادی بحران نہیں، بلکہ ایک سماجی سانحہ ہے۔ آج کا پاکستان ایک ایسی کھائی کے کنارے کھڑا ہے جہاں سے نیچے جھانکیں تو صرف مہنگائی کی اندھی کھائی ہی نظر آتی ہے۔ یہ وہ ناسور ہے جس نے لوگوں کے دستر خوانوں سے نوالے نہیں ان کے لہجوں سے دعا چھین لی ہے۔ یہ وہ خاموش جنگ ہے جو وطنِ عزیز کے تقریباً ہر گھر میں لڑی جا رہی ہے۔ اناج کا دانہ، دال کا پیالہ، دودھ کی بوند، سبزی کی لذت، گوشت کا سایہ سب ہی تو عام انسان کے بس سے باہر ہو چکے ہیں۔ بازاروں کی رونق اب صرف اشرافیہ کی نمائش گاہ بن چکی ہے جہاں غریب کی جیب تماشا دیکھنے کی اجازت دیتی ہے خریدنے کی نہیں، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں گزر بسر اب صرف تدبیر کا نہیں تقدیر کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اس بڑھتی مہنگائی نے نا صرف غریب عوام کی جیبیں خالی کی ہیں بلکہ ان کے دلوں کو بھی محرومیوں سے بھر دیا ہے۔ جن گھروں میں کل تک ہنسی گونجتی تھی اب وہاں خاموشی راج کرتی ہے، بچے کھلونوں کی جگہ کتابیں مانگنے سے بھی جھجکتے ہیں کہ کہیں والدین کے چہروں پر مایوسی نا دیکھ لیں۔ محبتیں، رشتے، خوشیاں سب کچھ معاشی گرداب میں غرق ہو رہا ہے۔ کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے افراد کا اعتماد، وقار اور ذہنی سکون ہوتا ہے مگر مہنگائی نے یہ تینوں چیزیں بیک وقت چھین لی ہیں۔ جو شخص کل تک پُر اعتماد تھا آج اسے ہر چیز کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے۔ خود داری کا خون ہو چکا ہے، لوگ خیرات پر جیتے ہیں، راشن کی قطاروں میں بے بس کھڑے رہتے ہیں۔ لیکن مہنگائی صرف اشیائے ضروریات کی قیمتوں کا بڑھ جانا نہیںہے بلکہ یہ قوم کے ضمیر کی قیمت کا گر جانا بھی ہے۔ جب حکمران مفادات کے گورکھ دھندوں میں مصروف ہوں اور عوام کے لیے مہنگائی ایک مستقبل عذاب بن جائے تو قوموں کے خواب ماند پڑنے لگتے ہیں، حوصلے شکست کھا جاتے ہیں اور نسلیں محرومیوں کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہیں۔ معاشی بدحالی کا یہ المیہ فقط نا اہلی یا بد انتظامی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس زر پرستی، خود غرضی اور بے حسی کا عکس ہے جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں دیمک کی مانند پھیل چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ جبر، کرپشن کی ناسور زدہ سیاست اور مالیاتی اداروں کے قرضہ جات کی غلامی نے پاکستان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں قومی خود داری گروی رکھی جا چکی ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو فرد کے شعور کو شکست دیتا ہے اس کی بلند سوچ کو زمین پر کھینچ لاتا ہے۔ جب انسان صرف زندہ رہنے کی فکر میں مبتلا ہو جائے تو وہ باقی تمام فکری بلندیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج غریب صرف یہ سوچتا ہے کہ گھر کا چولہا کیسے جلے گا، دوا کیسے خریدی جائے گی وہ افلاطون یا 
اقبال کی فکر نہیں کر سکتا۔ ذخیرہ اندوزی، کرپشن، عالمی اداروں کی غلامی یہ سب وہ بت ہیں جہنوں نے ہمارے قومی ضمیر کو سجدۂ مصلحت میں ڈال رکھا ہے۔ ہمارے حکمران خواب فروخت کرتے ہیں اور بدلے میں خوف خریدتے ہیں۔ ہر طبقہ زندگی اس آگ کی لپیٹ میں ہے، انسان اگر صبح سے شام تک صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑے گا تو وہ تخلیق کیسے کرے گا، تعمیر کیسے کرے گا اور کیسے کسی صف میں سر بلند ہو گا۔ حکومتیں آتی ہیں خواب اور وعدے لاتی ہیں اور پھر چپ چاپ چلی جاتی ہیں مگر عوام وہیں ایک نا ختم ہونے والے امید کے دائرے میں کھڑے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں گندم ہو یا چینی ہر سال بحران اچانک پیدا ہو جاتا ہے اور پھر اچانک ہی مخصوص افراد کو فائدہ دے کر ختم بھی ہو جاتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی ہے اور دوسری طرف وہ تاجر طبقہ جو مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں کو آسمان تک لے جاتا ہے۔ حکمران ایوانوں میں پالیسیوں کی خوشبو میں الجھے بیٹھے ہیں مگر گلیوں میں سانس لینے والے عوام کی زندگی اب تعفن زدہ ہو چکی ہے۔ تقاریر میں ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ فاقے اب صرف غربت کی علامت نہیں بلکہ معاشرتی نا انصافی کا ماتم بن چکے ہیں۔ کبھی وہ دن بھی تھے جب قیمتیں بڑھ گئیں کہنا گویا صرف شکوہ ہوا کرتا تھا، ایک عارضی کیفیت جو چند دن میں گزر جاتی۔ مگر آج مہنگائی محض شکایت نہیں ایک مستقل عذاب کا روپ دھار چکی ہے۔ وہ عذاب جو صبح کی خبروں سے لے کر رات کے سُوئے خواب تک انسان کو ہر لمحہ اپنے شکنجے میں جکڑے رکھتا ہے۔ حالیہ دور مہنگائی کی لپیٹ میں آیا محض ایک دور نہیں بلکہ انسان کے صبر، عزتِ نفس اور وقار کا سخت ترین امتحان ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں زندہ رہنا ہی سب سے بڑی جدوجہد ہے۔ یہ کیسی ریاست ہے جس میں آٹا سونا بن جائے، دوائی زہر بن جائے، تعلیم خواب اور انصاف افسانہ، جہاں غربت جرم بنے اور امارت انعام؟ جہاں زندہ رہنے کے لیے صرف حوصلہ نہیں، خودداری، خودی اور انسانیت کی قربانی بھی درکار ہو۔ آج ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں خاموشی جرم ہے اور سوال گناہ۔ مگر وہ وقت دور نہیں جب یہ خاموش چیخیں گونج بنیں گی، یہ فاقے سوال بنیں گے اور ایوانوں کی دیواریں ان آوازوں سے لرزیں گی، تب شاید انصاف کا سورج طلوع ہو اور مہنگائی کی شبِ تاریک دم توڑ دے۔

ٹیگز: