گزشتہ دنوں استاد محترم عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے مخصوص فکاہیہ انداز میں یکے بعد دیگرے چوہوں، گدھوں اور کتوں جیسے جانوروںکے حوالے سے دو عدد پھڑکتے ہوئے کالم لکھے جن کا علمی، ادبی، صحافتی اور سیاسی حلقوں میں آجکل خاصا چرچا ہے۔ بلاشبہ قاسمی صاحب عہد حاضر میں اردو ادب و صحافت کے سب سے بڑے مزاح نگار اور بے تاج بادشاہ ہیں۔ اُن کی شاندار کالم نگاری کا عرصہ ساٹھ سال سے زائد ہے جو آج بھی اُن کے پہلے کالم کی طرح بھرپور انداز سے جاری و ساری ہے۔ اس دوران اُن کے کالموں کی زد میں بیمار اور ناہموار سماجی و معاشرتی رویوں کے ساتھ کئی قسم کے جانور اور جانور نما بھی آئے جن کی اصلاح کی غرض سے وہ کسی مصلحت کے بغیر اُن کے ساتھ کبھی دھیمے سروں اور کبھی بلند آواز میں لگاتار چھیڑ چھاڑ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے قاسمی صاحب خاصے خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ وہ اپنے ان کالموں میں جن جانوروں یا جانور نمائوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں عام قارئین کے ساتھ خود وہ بھی اُن کی چھیڑ چھاڑ کا مزا لیتے ہیں۔ نامعلوم قاسمی صاحب نے ان جانوروں کو ’’کیلنے‘‘ کے لیے کوئی خاص چلہ کیا ہے یا انہیں بزرگوں کی کوئی خصوصی دعا ہے یہ بات ابھی تک صیغہ راز میں ہے۔ قاسمی صاحب کو پڑھتے ہوئے بچپن سے پچپن کی عمر ہو گئی ہے مگر میں ایسا نالائق ہوں کہ ابھی تک قاسمی صاحب جیسا کوئی ایک گُر بھی نہیں سیکھ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ میں جب بھی اپنے کالم میں اناڑی پن سے کسی جانور کی دم پر پیر رکھتا ہوں تو وہ جانور مجھے فوری طور پر کاٹ کھانے کو آتا ہے۔ بلکہ کئی ایک جانور تواس قدر نرگسیت یا عدم تحفظ کا شکار ہیں کہ وہ مجھ سے محض اس بات پر بھی خفا ہو جاتے ہیں کہ میں نے کالم میں صرف اُس جانور کی بجائے کسی اور کا ذکر کیوں کیا ہے۔ جب کہ کچھ چول قسم کے جانور ایسے بھی ہیں جو میرے کالموں میں سے اپنی مرضی کا طنز اخذ کر کے اسے زبردستی اس طرح اپنی طرف لے جاتے ہیں جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ اس بات کا قوی امکان ہے وہ اس کالم کو بھی کسی نہ کسی طرح کھینچ کھانچ کر اپنی طرف لے جائیں گے۔ پچھلے دنوں میں اسی قسم کی ایک عجیب و غریب صورتحال سے گزر چکا ہوں جب میں نے ’’چول‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا جس میں ہمارے ارد گرد معاشرے میں پائے جانے والے چند چولوں کی نشانیاں اور اقسام بیان کی گئی تھیں۔ مجھے اس وقت شدید حیرانی ہوئی جب میرا ایک واقف کار یہ کالم پڑھ کر مجھ سے شدید ناراض ہو گیا۔ میں نے اسے بہت صفائی دی کہ مجوزہ کالم میں میرا اشارہ ہرگز اس کی طرف نہیں تھا۔ جس کے جواب میں اس نے میری وضاحت قبول کیے بغیر یہ کہہ کر برسوں کا تعلق اور بات دونوں ختم کر دئیے کہ ’’میں چول ضرور ہوں بیوقوف نہیں‘‘۔ مجھے نہیں پتا اپنے کسی کالم کے جواب میں قاسمی صاحب کو کبھی میری جیسی ناگہانی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا یا نہیں اور اگر کبھی اُن کے ساتھ ایسی صوتحال پیش آئی تو اس کے جواب میں اُن کا کیا ردعمل تھا۔ البتہ اس واقعہ کے بعد میں نے اس معاملے پر خاصا غور کیا ہے اور نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسانوں کی طرح جانوروں میں بھی اوقات اور نسلوںکے لحاظ سے خاصا فرق ہوتا ہے۔ جس کا اندازہ اُن کے رویوں سے ہوتا ہے۔ تھوڑے غور و فکر کے بعد مجھے یہ بات بھی سمجھ آئی ہے کہ دراصل قاسمی صاحب والے جانوروں کے مقابلے میں میرا جن جانوروں سے پالا پڑتا ہے یا تو وہ انتہائی گھٹیا اور کمینے ہیں یا پھر ابھی مجھے کالم نگاری کے میدان میں قاسمی صاحب کے مقام تک پہنچنے کے لیے مزید ریاضت کی ضرورت ہے تاکہ میرے قلم میں بھی وہ سلیقہ، تاثیر اور برکت پیدا ہو جائے جسے پڑھ کر کسی بھی جانورکو مجھ پر غصہ نہ آئے۔ میں نے سوچا ہے اب کی بار قاسمی صاحب سے بالمشافہ ملاقات ہو گی تو اُن سے یہ ضرور پوچھوں گا کہ آخر اُن کے پاس ایسی کونسی گیدڑ سنگھی یا تعویذ ہے کہ وہ انسانوں اور جانوروں کی تفریق کے بغیر جب جیسے اور جس پر چاہتے ہیں بڑی سہولت اور روانی سے ’’کھٹے میٹھے‘‘ کالم لکھ دیتے ہیں اور ان کے مداحین اور ناقدین دونوںمیں سے کوئی بھی ان کی باتوں کو ویسا بُرا محسوس نہیں کرتا جیسے اکثر لوگوں یا جانوروں کو میری باتیں یا تحریر چبھتی ہے۔ قاسمی صاحب کے مستقل قارئین اور ناقدین جانتے ہیں کہ وہ کسی عام سے موضوع پر بھی لکھیں تو اس میں اپنی کاریگری اور ہنر سے ایسے رنگ برنگے موتی جڑ دیتے ہیں جنہیں پڑھ کر قارئین عش عش کر اٹھتے ہیں۔ البتہ جہاں تک میری ذاتی پسند کی بات ہے تو میں کہوں گا کہ مجھے قاسمی صاحب کے وہ کالم زیادہ مزیدار اور اچھے لگتے ہیں جن میں وہ الو، گدھے، چوہے یا کتے جیسے کسی جانور کو اپنے کالم کا موضوع بناتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی جانور قاسمی صاحب کے کالم کی زد میں آتا ہے وہ اپنے اس کالم کو ایک شاہکار بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ ’’گدھوں اور کتوں کا مقام ہماری سوسائٹی میں‘‘ اور ’’میں ایک چوہا ہوں‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے ان کے دو تازہ ترین کالم اپنے دلچسپ انداز، موضوع اور معنویت کی وجہ سے قاسمی صاحب کے گذشتہ کالموں سے بہت زیادہ ’’ریٹنگ‘‘ لے رہے ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے ’’بے شرم، دھوتی دھوتی ہے اور سی آئی کا ایجنٹ‘‘ جیسے اور بے شمار سپر ہٹ کالم قاسمی صاحب کے کریڈٹ پر ہیں۔ جن کا ایک عالم مداح ہے جس میں عوام الناس کے ساتھ شفیق الرحمن،کرنل محمد خان، انتظار حسین، مشتاق احمد یوسفی، مجید نظامی، عبداللہ حسین، محمد خالد اختر اور سید ضمیر جعفری جیسے مشاہیر بھی شامل ہیں۔ بقول ابن انشاء ’’ اردو ادب اور صحافت کے لیے فخر کی بات ہے کہ عطاء الحق قاسمی ایسے لکھنے والے ان شعبوں میں موجود ہیں‘‘۔ ان سب نابغہ روزگار ہستیوں نے جن خوبصورت اور جامع الفاظ میں قاسمی صاحب کے منفرد فکاہیہ اسلوب اور فن کو خراج تحسین پیش کیا ہے اس کے بعد یقینا میرے جیسے ادب و صحافت کے کسی طالب علم کے لیے قاسمی صاحب کے علم و فن کے حوالے سے مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں بچتی۔ میں تو بس اتنا کہوں گا کہ ’’کاش میں بھی عطاء الحق قاسمی ہوتا‘‘ کیونکہ کسی فلم سٹار کی طرح عوام الناس اور خواص میں یکساں مقبول قاسمی صاحب ایک قابل رشک اور بے شمار لوگوں کی پسندیدہ شخصیت ہیں اُن کی طرح لکھنا، اُن جیسا بننا اور اُن کی طرح ایک بھرپور زندگی گزارنا میرے جیسے کسی بھی ادب و صحافت کے طالب علم اور شخص کی آرزو ہو سکتی ہے۔