ایشیا سے تعلق رکھنے والے جس ملک میں اس وقت سب سے زیادہ ہیجان ، ہذیان، خلجان اور افواہوں کا طوفان ہے وہ بھارت ہے جس کی خواہش ہے اسے سیکولر سٹیٹ اور آزاد خیال ملک کے طور پر پہچانا جائے۔ درحقیقت انتہائی تنگ نظر، دہشت گرد اور مکروہ کردار کا حامل ملک اور معاشرہ ہے۔
بھارت آج جس کیفیت میں ہے یہ بہت پرانا سکرپٹ ہے۔ ہر آنے والے برس میں اس میں بعض باتوں کا اضافہ کر کے نئے رنگوں کے ساتھ ایک نئی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ پہلگام کے بعد پاکستان پر حملہ ہوا جس میں افواج پاکستان اور بالخصوص پاکستان کے شاہین صفت ہوا بازوں نے اپنی تیز اور نوکیلی چونچ سے بھارتی لیڈرشپ اس کی افواج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کی چڈی اتار دی جس کے بعد سے اب تک سب ننگے ہیں اور ستر پوشی کیلئے دیوانہ وار کسی جائے پناہ کی تلاش میں ہیں جو انہیں نہیں مل سکی اور آئندہ بھی نہیں ملے گی۔
بھارتی میڈیا سکرینوں پر اس کے کچھ ریٹائرڈ فوجی اپنے عہد ملازمت کے قصے سنا سنا کر اپنے عوام کو باور کرانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں کہ وہ بہت بڑے تیس مار خان تھے، انہوں نے بہت سے شیر مارے ہیں، شیروں کے شکاری ہونے کا تاثر دینے والے کسی شیر کا شکار تو پیش نہ کر سکے البتہ وہ ایک مرغابی کو پھانسنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس مرغابی کو بندوق کی گولی سے شکار نہیں کیا گیا بلکہ بزدل شکاریوں کی طرح جال لگا کر پھنسایا گیا حالانکہ وہ مختلف ساحلوں پر ندی کے کناروں پر پیاس بجھانے کیلئے اترتی تھی۔ یہ مرغابی چونتیس سالہ جوتی ملہوترا ہے جس نے انیس برس کی عمر میں پونا کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں ریسپشنسٹ کی نوکری کی۔ وہ کافی عرصہ ایسی ہی نوکریاں کرتی رہی پھر کرونا کے زمانے میں بیروزگار ہو گئی۔ حالات نارمل ہوئے تو اس نے کیمرہ اٹھایا اور نگر نگر گھومنے لگی پھر اس نے کئی برس بعد اپنا یوٹیوب چینل بنایا اور اپنے ٹریول لاگ اس پر ڈالنے لگی اس کی تمام عمر پچاس گز کے دو چھوٹے کمروں کے مکان میں گزری جہاں وہ اپنے والد اور چچا کے ساتھ رہائش پذیر ہے، اس کے والد اپنے حلئے ، گفتگو اور طرزعمل سے سیدھے سادھے، شریف النفس اور دیانتدار انسان نظر آتے ہیں جن کی بیوی انہیں عرصہ دراز قبل چھوڑ گئی تھی۔ ایسے لوگوں کی بیویاں اپنے خاوندوں کو جلد چھوڑ جاتی ہیں جو تیزی سے پیسہ بنانے اور لائف سٹائل کو آسمان پر لے جانے کیلئے راہ حرام اختیار نہیں کرتے، روکھی سوکھی میں خوش رہتے ہیں۔انہوں نے اپنی عام سی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ترکھان کا کام شروع کیا تاکہ گزر اوقات کیلئے کچھ کما سکیں، ان کی غربت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کیلئے وکیل کی خدمات حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں سرکاری وکیل مہیا کیا جائے۔ بھارت میں انصاف اتنا ہی مہنگا ہے اور اتنی ہی مشکل سے ملتا ہے جتنا پاکستان میں خاص طور پر ایسے مقدمے میں حصول انصاف کس قدر مشکل ہو گا جہاں بھارتی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیاں اسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہوں اور جوتی ملہوترا کے ساتھ ساتھ گرفتار کئے گئے دیگر افراد کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہوں۔
جوتی نے یو اے ای کا سفر اختیار کیا۔ وہ سری لنکا گھومتی رہی، بالی جزیرے کے ساحلوں پر مٹر گشت کرتی رہی۔ کبھی سوئمنگ کاسٹیوم میں کسی ہوٹل کے پول میں اتری تو کبھی سن باتھ کیلئے سمندر کنارے ریت پر لیٹی نظر آئی، اس کی سرگرمیوں پر پورے بھارت میں کسی کو تکلیف نہ ہوئی، تکلیف اس وقت شروع ہوئی جب اس نے پاکستان کے پہلے وزٹ کے بعد دوسری مرتبہ اور پھر تیسری مرتبہ پاکستان کا چکر لگایا۔ وہ پاکستان کے بعد چین کے دورے پر گئی تو بھارتی ایجنسیوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے، رہی سہی کسر جوتی کی ان ویڈیوز نے پوری کر دی جن میں اس نے دنیا کے ساتھ ساتھ بھارتی عوام کو پاکستان کی سچی تصویر دکھائی۔ اہل پاکستان کا رہن سہن، اخلاص، خوبصورتی، کاروباری دنیا، آٹوموبیل اور آئی ٹی میں ہونے والی پیش رفت کے علاوہ کشادہ صاف ستھرے شہر ہول سیل مارکیٹوں میں ہجوم، ماڈرن تعلیمی ادارے ان میں زیر تعلیم بچے ان تعلیمی اداروں میں تدریس کے پیشے سے وابستہ خوش اخلاق اور خوش شکل نوجوان لڑکیاں، بینکوں اور پرائیویٹ اداروں میں پڑھی لکھی خواتین کی بہتات میڈیکل کالجوں کا نظام، غرضیکہ اس نے پاکستان کا حقیقی چہرہ بھارتی عوام کو دکھایا تو اس کے ٹریول لاگ کو پذیرائی ملی اس نے چین کی ترقی دکھائی تو بھارتی حکومت اور اس کے اداروں کو پاکستان اور چین کے خلاف اپنی پراپیگنڈہ مہم ناکام ہوتی نظر آئی بس اس پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
پہلگام ڈرامے سے قبل جوتی ملہوترا وہاں اپنے معمول کے مطابق گئی اس نے وہاں لطف اٹھایا اور لطف اٹھانے کیلئے آئے، مرد وزون سے ملاقاتیں بھی کیں ، ان کے انٹرویو بھی دکھائے، پہلگام واقعے کے بعد اس نے جو سوال اٹھائے وہ یہ تھے کہ واقعے کے وقت بھارتی سکیورٹی فورسز کہاں تھیں، بھارتی خفیہ ادارے کیا کر رہے تھے، کہاں سوئے ہوئے تھے، یہ وہ سوال ہیں جو صرف جوتی نے نہیں اٹھائے بلکہ تمام دنیا اٹھا رہی ہے۔ بھارتی حکومت کے پاس جوتی کے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں، جوتی کا کمال یہ ہے کہ اس نے نہایت معصومیت سے بھارتی حکومت کی کارکردگی کے کئی پول کھول دیئے ہیں، ایسی لڑکی کو بھارتی حکومت کیوں نظر انداز کرے گی اور کیوں معاف کرے گی۔
حصار پولیس کے ایس پی کی پریس کانفرنس نے تو بھارتی حکومت کو کہیں منہ دکھانے کا نہیں چھوڑا، ان کے مطابق جوتی سے کسی بھی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس کے پاس کوئی ایسی اطلاع، ڈاکومنٹ، تصویر یا فلم تھی ہی نہیں جسے وہ بھارت کے خلاف استعمال کرتی یا کسی غیرملکی ایجنسی تک پہنچاتی۔ جوتی کو کسی اہم دفتر یا ملٹری عمارت تک بھی رسائی حاصل نہیں تھی۔ تحقیقات کے بعد یہ ایک رپورٹ جوتی کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ پراپیگنڈے کیلئے بھارتی حکومت اس کا تعلق پاکستان کی اہم ترین شخصیت سے جوڑ سکتی ہے اور چاہے تو ایک فرضی نکاح نامہ بھی پیش کر سکتی ہے۔ جوتی سے ہریانہ حصار پولیس کے علاوہ ان کی قومی تحقیقاتی ایجنسی اور خفیہ ادارے بھی تحقیق کر چکے ہیں، اس سے کچھ برآمد نہیں ہوا۔ جوتی ملہوترا بھارتی حکومت کے منہ پر ایک بڑا جوتا ہے۔ جوتی تیرے جانثار بے شمار بے شمار، جوتی مستقبل کی سپرسٹار ہے۔