Wed, September 16, 2026

پاکستان کا مذاکراتی مشن 

پاکستان کا مذاکراتی مشن 

امریکہ کی پندرہ شرائط میں نا معقولیت اور ایرانی پانچ شرائط میں معقولیت آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ یا اسرائیل پر گزشتہ سال جون میں حملہ کیا تھا نہ اس بار فروری میں کیا۔ دونوں بار امریکہ نے ایران کو دھوکہ دیا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ آور ہو گیا۔ ایران ثالثوں سے امریکی سنجیدگی اور ایران ہر تیسری بار حملہ نہ کرنے کی ضمانت مانگ رہا ہے لیکن کوئی ملک یا عالمی ادارہ امریکہ کی ضمانت دینے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ امریکہ کا ماضی کا رویہ ہی مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹ ہے۔ 
 غیر مستحکم جیوپولیٹیکل ماحول میں پاکستان کی امن مذاکرات کی سنجیدہ کوشش سے پاکستان کی امن پسندانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ پاکستان کا یہ اقدام دانشمندانہ سفارتی کوشش ہے۔ یہ محض ثالثی ہی نہیں بلکہ پاکستانی سول اور عسکری قیادت کی سٹرٹیجک بصیرت، سفارتی ساکھ اور عالمی سطح پر مو¿ثر کردار ادا کرنے کی خواہش اور صلاحیت کا فیصلہ کن امتحان ہے۔ پاکستان کی۔کوشش ہے کہ فوری جنگ بندی ہو اور خطے کو مزید غیر مستحکم ہونے سے بچایا جا سکے ۔
مذاکرات کا فریم ورک علاقائی تنازعات کے سفارتی حل تک ہی محدود ہونا چاہئے۔ ایسے فیصلے کئے جانے چاہئیں جو وسیع تر علاقائی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ خطے کے عرب ممالک میں امریکی اڈے ہیں جو امریکہ نے انہی ممالک کو ایران سے ڈرا کر انہیں تحفظ فراہم کرنے کے نام پر قائم کئے تھے۔ یہی امریکی اڈے خطے کے ممالک کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان اڈوں سے ایران پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ جواباً ایران انہی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک پر جب چاہیں حملے کریں لیکن کوئی ملک انہیں جواب دینے کی جرا¿ت نہ کرے اور ان ممالک میں حملوں کا جواب دینے کی صلاحیت ہی ختم کر دی جائے۔
شام ، لبنان اور فلسطین جیسے تنازع زدہ ممالک میں کشیدگی کا پر امن حل بھی تلاش کیا جائے جہاں طویل عرصے سے اسرائیلی بربریت جاری ہے۔ بیت المقدس کا حل بھی اس فریم ورک کا ایک اہم جزو ہو کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی امن عمل کی کامیابی اس بنیادی مسئلے کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ آبنائے ہرمز کوئی متنازع بحری گزرگاہ نہیں۔ اسے امریکی جارحیت نے پیچیدہ بنایا ہے۔ ایران نے اس گزرگاہ 
کی کبھی ناکہ بندی نہیں کی۔ اگر امریکہ خطے میں اپنی بدمعاشی ختم کر کے آبنائے ہرمز سے چلا جائے تو آبنائے ہرمز میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مضبوط کردار اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام پر زور دیا جائے تاکہ عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ایران کی شرائط جامع نقطہ نظر کی نمائندگی کرتی ہیں جو نہ صرف فوری مسائل بلکہ ان بنیادی اسباب کو بھی مدنظر رکھتی ہیں جو تنازعے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔اس بحران کے مرکز میں ایک گہرا سٹرٹیجک اختلاف موجود ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کی عسکری طاقت ختم کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اپنے عزائم کی تکمیل کے راستے میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام اور اسکے علاقائی اثر و رسوخ کو حائل سمجھتے ہیں ۔ دوسری جانب ایران اپنے جوہری پروگرام کو ایک خودمختار حق اور بیرونی جارحیت کے خلاف ضروری دفاعی ذریعہ قرار دیتا ہے۔ یہ اختلاف صرف سیاسی نہیں بلکہ تاریخی شکایات، سکیورٹی خدشات اور علاقائی طاقت کے مختلف تصورات پر مبنی ہے۔
اسی طرح فلسطین بھی تنازعے کا مرکزی پہلو ہے جو مسلم دنیا میں مظلومیت اور ناانصافی کی علامت ہے۔ جب تک اس مسئلے پر کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہوتی ہر سفارتی کوشش کی ساکھ اور پائیداری متاثر رہیگی۔ فلسطین کا مسئلہ کسی الگ تھلگ تنازعے کا نام نہیں بلکہ یہ وسیع تر علاقائی حرکیات سے جڑا ہوا ہے اور عوامی جذبات اور سیاسی تحریکوں کو متاثر کرتا ہے۔
موجودہ کشیدگی میں برتری کا تعین کرنا مشکل نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل روایتی فوجی طاقت ، جدید ٹیکنالوجی کی بدولت واضح برتری رکھتے ہیں۔ انکی طاقت کا دائرہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا ہے جو انہیں براہِ راست جنگ میں نمایاں فائدہ دیتا ہے۔ ایران نے مختلف نوعیت کی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران امریکی اور صیہونی جارحیت کیخلاف مضبوط مزاحمت بن کر ابھرا ہے۔ غیر متناسب جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے ایران نے اپنی روایتی کمزوریوں کو کافی حد تک متوازن کیا ہے۔ ایران کے میزائل نظام اور ڈرون ٹیکنالوجی اسے طویل عرصے تک مزاحمت کرنے اور اپنے مخالفین پر نمایاں دباﺅ ڈالنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ ایران کی حکمتِ عملی فیصلہ کن فتح حاصل کرنے کے بجائے شکست سے بچنے پر مرکوز ہے اور یہی اسکی بڑی فتح ہے ۔ جنگ کو طول دیکر اور اسکے اخراجات بڑھا کر ایران نے اپنے مخالفین کیلئے اسے مہنگی اور تھکا دینے والی کشمکش میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس لحاظ سے اگرچہ ایران نے مکمل فتح حاصل نہیں کی، لیکن اسنے اپنے مخالفین کو واضح اور فیصلہ کن کامیابی سے ضرور محروم رکھا ہے۔ ایران کی دشمنوں پر اسی برتری کو فتح قرار دیا جا سکتا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی رویے کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات غیر یقینی ہیں، تاہم ناممکن بھی نہیں۔ اسکا انحصار فریقین کی سیاسی خواہش اور حقیقی مفاہمت پر آمادگی پر ہوگا۔ امریکہ اور اسرائیل کو کسی اسلامی ملک سے کوئی خطرہ نہیں لیکن اسرائیل کی بربریت سے خطے کے ممالک محفوظ نہیں۔ یہ امکان کلی طور پر موجود ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مذاکرات کو بہانہ بنا کر محض ایک وقتی وقفہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایران پر بھر پور حملہ کرکے اپنی پوزیشن کو مستحکم کر سکیں۔
پاکستان کیلئے یہ مذاکرات ایک موقع بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ پاکستان فریقین کے درمیان کامیابی سے ثالثی کا کردار ادا کر لیتا ہے تو اسکی عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوگا اور اسے ایک ذمہ دار سفارتی قوت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کو موقع مل سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔
فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی، متضاد سٹرٹیجک مفادات اور بیرونی جیوپولیٹیکل دباﺅ ایسے عوامل ہیں جو اس عمل کو نازک اور کمزور بناتے ہیں۔ معمولی غلطی یا غیر متوقع صورتحال بھی اس عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ یہ صرف عدم استحکام، معاشی نقصان اور انسانی المیے کو جنم دیتی ہے۔ مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دیرپا امن کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی یہ سفارتی کوشش اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ تصادم کی بجائے مکالمہ ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں جو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور اتحادوں کو ازسرِنو تشکیل دینے کا باعث بنیں گے۔ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں خطہ مزید انتشار اور بدترین غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔ حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے غیر منطقی مو¿قف سے آگے بڑھ کر مفاہمت اور طویل المدتی استحکام کو ترجیح دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔

ٹیگز: