سنی سنائی باتوں پر 2003 میںامریکہ کے باجماعت بندے مار اتحاد نے عراق پر حملہ کیا تھا جس میں جواز گڑا گیا تھا کہ صدام حسین نے تباہی پھیلانے والے بنا رکھے ہیں جنگ کا اختتام صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ کر ہوا بش انتظامیہ نے ہاں میں ہاں ملانے والی حکومت بنا لی جب حکومت بن گئی اور صدام حسین کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا پھر جارج ڈبلیو بش نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ عراق پر حملہ غلط فہمی کی بنا پر کیا گیاعراق کے پاس کوئی مہلک ہتھیار نہ تھے آج برس ہا برس کے بعد پھر وہی تاریخ ایران میں دہرائی جا نے لگی تھی اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا جس کے جواب میں ایران نے اپنا مکمل دفاع کرتے ہوئے نیتن یاہوکو ناکوں چنے چبوائے ٹرمپ امریکی طوطے کو مار پڑتی دیکھ کر اوراسرائیل کو خوش کرنے کیلئے 22جون کو امریکہ بھی جارحیت کی جنگ میں کود پڑاآپریشن مڈ نائٹ ہمبر کے دوران ایران میں دو مقامات پر 14 میسیو آرڈیننس بم استعمال کئے گئے اور اصفہان تنصیبات پر دو درجن سے زائد ٹام ہاک میزائل داغے گئے، آپریشن مڈ نائب ہیمر میں 145 امریکی طیاروں کے علاوہ آبدوزوں نے بھی حصہ لیا ،ایران پر حملے میں سات بی ٹو بمبار طیارے بھی شامل تھے، ایرانی وقت کے مطابق 2 بجکر 40 منٹ پر فردو تنصیبات پر حملہ کیا گیا ،حملے کے بعد امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری عزائم خاک میں مل چکے،جنگ ایران کیخلاف نہیں دنیا چوبیس گھنٹے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ محفوظ اور مستحکم ہے جواز بنایا گیاکہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کیلئے سب کچھ موجود ہے ایران نے یورینیم اتنی مقدار میں افزودہ کی جس سے نو سے 10 بم بنائے جا سکتے ہیں ،عراق میں اسی طرح جھوٹ کی بنیاد پر کارروائی کی گئی جس طرح اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے ایران میں امریکہ نے حملہ کیا ہے جبکہ نائن الیون کے کمیشن نے کہا تھا کہ صدام حسین حکومت اور القاعدہ کے مابین آپریشنل تعلقات کا کوئی ثبوت نہیں ملا اورنہ ہی عراق میں ڈبلیو ایم ڈی کا کوئی ذخیرہ یا ایک فعال ڈبلیو ایم ڈی پروگرام ملا ہو؟ اعتراف کیا گیا کہ عراق پر امریکی حملے سے قبل بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود نہیں تھے امریکہ نے ہمیشہ اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کیلئے مسلم ممالک جو کبھی امریکہ کے یار خاص تھے کو اسی طرح ہی مختلف بہانوں سے تہس نہس کیا جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ایران سے مذاکرات ہو رہے تھے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے اس کی لیڈر شپ کو شہید کر دیا اسرائیل کو شائد اندازہ نہیں تھا کہ ایران پر حملہ گلے پڑ جائے گا اور اسی غلط اندازے نے ’’کُٹ ‘‘پوانی شروع کردی اور پھر نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کیلئے اکسایا جس میں وہ کامیاب ہو ا اور امریکہ نے رات کے اندھیرے میں ایران کے پر امن جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا حملے کے بعد دنیا نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پرائی آگ میں کود پڑا ہے جس سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گا آج تقریباً 22 سال بعد ایک بار پھر وہی جملے، وہی الزامات لگا کر امریکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا تھا لیکن روس سے مدد کی اپیل نے ٹرمپ کو سوچنے پر مجبور کیابے شک روس یوکرین میں پھنسا ہوا ہے اس کے باوجود اگر وہ ایران میں آ کر بیٹھ جاتا تو ماہرین جانتے ہیں کہ امریکہ کی پگ بھی مٹی میں مل جاتی اورخطہ مزید مسائل کا شکار ہو جاتا اس جنگ میں چین اعلانیہ تو شامل نہ ہوتا مگروہ ڈائریکٹرکا کام ضرورکرتا اس سے پہلے کہ ایران ،روس اور چین مل کر اسرائیل کی دھلائی کرتے نیتن یاہو نے ایران سے ٹھکائی کے بعد مودی کی طرح امریکہ سے جنگ بندی کے ترلے کیے جس کے بعد قطرنے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیامغرب کو ماننا پڑے گا کہ ایران نے جارحیت کا بھرپور دفاع کیا ہے جنگ بندی اچھی بات ہے کیونکہ جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوتے جس طرح ایران نے سعودیہ بحرین اور قطر میں امریکی اڈوں پر حملے کیے تھے سے مسلم ملکوں میں مزید پھوٹ پڑ سکتی تھی اور ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ جانے کا بھی اندیشہ تھا تاہم معاملہ دونوں ملکوں میں سیز فائر سے ٹھنڈا ہو گیا جو اچھی بات ہے تاہم اس سارے کھیل میں غزہ والوں کا کیا بنے گا جو روزانہ زندگی سے محروم ہو رہے ہیں اس جارحیت میں 18 ہزارسے زائد بچے شہید ہوئے ہیں یہ سب امریکہ کو کیوں نظر نہیں آتا دنیا کیوں خاموش ہے غزہ میں جنگ بندی کیوں نہیں کرائی جا رہی کیا ایران اس سلسلے میں کوئی رول پلے کر سکتا ہے ؟کیا وہ مستقل جنگ بندی کیلئے غزہ میں جارحیت بند کرانے پر زور دے سکتا ہے یا سب تماشا ہی دیکھتے رہیں گے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب حل طلب ہیں اب سوال یہ ہے کہ اگر ایران واقعی جوہری ہتھیار بنا رہا ہے تو اس کا ٹھوس ثبوت کہاں ہے اسرائیل تیس برس سے یہ دعویٰ کرتا آ رہا ہے ایران جوہری بم بنانے کے قریب ہے، بالکل ایسے ہی جیسے 2002 میں امریکی کانگریس کو قائل کیا تھا کہ عراق کے پاس مہلک ہتھیار موجود ہیں اور پھر کھوداپہاڑ نکلا چوہا کے مصداق نکلا کچھ بھی نہ ملا؟ آج ایک بار پھرکہاجا رہا ہے کہ دشمن انتہائی خطرناک ہے اور دنیا کو اس کے خلاف متحد ہونا ہوگا اگر ایران غیر مستحکم ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان سمیت خطے کے دیگر ملکوں پربھی
پڑ یںگے جبکہ امریکہ نے رجیم چینج سے شائد اس لئے توبہ کرلی ہے کہ وہ اس سے قبل عراق میں رجیم چینج کا ناکام تجربہ کر چکا ہے ایران پر حملہ امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر کیا گیااب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ جاتے ہیں یاپھر نیتن یاہوکیونکہ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اب کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اب جبکہ ٹرمپ نے اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے ایران پرحملہ کیا ہے تو امریکی عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ٹرمپ نے ایسا کیوں کیا اور عوام امریکی صدرکیخلاف سڑکوں پر آ سکتے تھے جبکہ دوسری طرف ایران پر حملے کیلئے کانگریس سے منظوری نہ لینے پر صدرٹرمپ کا مواخذہ بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایران پر خطرناک حملے کے ساتھ ٹرمپ نے اپنی صدارت بھی داؤ پر لگا دی ہے، اگر ایران کی جوابی کارروائی میں امریکی شہری مرے تو ٹرمپ حکومت کے خاتمے کی جنگ کے نعرے بلند ہوں گے ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے قاتل غزہ میں نسل کشی کے ذمہ دارامریکہ کے صدرٹرمپ کیلئے نوبل انعام کیلئے نامزدگی کا اعلان کیا ہے یہ بھول کر کہ چین سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں اور ایران ہمارا مسلم ملک ہے جہاں غزہ کے بعد اسرائیل اور امریکہ مل کر خون کی ہو لی کھیلنا چاہتے ہیں پاکستان کو اس بارے میں فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ امریکہ کا یار ہے یاچین اور ایران کا؟؟؟۔