Wed, September 16, 2026

غزہ امن بورڈ دھوکہ

 غزہ امن بورڈ دھوکہ

آج ایک بار پھر حماس کو غیر مسلح کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں آج پھرایک نیا جال بچھایا جا رہا ہے کوئی اسرائیل کو نہیں پوچھتا کہ جنگ بندی کے باجود نسل کشی کیوں نہیں رک رہی حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات مظلوم قوموں سے آزادی کی جنگ کا حق چھیننے کے مترادف ہے اور اس سے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ مکمل ہو گا جو اقوام متحدہ کے فلسطین کے بارے میں دو ریاستی حل کی بھی نفی ہے،بد قسمتی سے تاریخ کی اس سب سے بڑی نا انصافی میں مسلم حکومتیں بھی شامل ہیں حالانکہ فلسطینیوں کے خلاف ہمیں فریق نہیں بننا چاہیے،برصغیر پاک و ہند پر فرنگی استعمار کے قبضہ کے بعد آزادی کی جو مسلح جنگیں لڑی گئیں ان میں نواب سراج الدولہ ، سلطان ٹیپو شہید ، شہدائے بالا کو ٹ ، بنگال کے حاجی شریعت اللہ ،تیتو میر شہید ، سند ھ کے پیر پگاڑا شہید ، پنجاب کے سر دار احمد خان کھرل ، سرحد کے حاجی صاحب ترنگ زئی اور فقیر ایپی شہید اور 1857ء کی جنگ آزادی ہماری قومی اور ملی تاریخ کا ہم حصہ ہیں اور انہی مجاہدوں کی جد و جہد اور قربانیوں کا ثمرہ ہے کہ فرنگی استعمار کو جنوبی ایشیا سے بو ریا بستر سمیٹنے پر مجبور ہونا پڑا اور پاکستان کے نام سے اسلامی ریاست قائم ہوئی،حماس بھی اسی نہج پر چل رہی ہے اور اسرئیلی تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے، جائز اور قانونی حکومتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا بلا شبہ دہشت گردی ہے مگر ناجائز اور قابض حکومتوں سے جنگ لڑنا مظلوم قومو ں کا حق ہے جسے دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا اور سراج الدولہ ،سلطان ٹیپوشہید ، شہدائے بالا کو ٹ ، پیر پگاڑا شہید ، رائے احمد خان کھرل ، اور فقیر ایپی شہید کے نام لیوائوں کو اس کا حصہ بن کر خود اپنے ان محسنین کی قر بانیوں کا مذاق اڑانے سے گریز کرنا چاہیے امریکی صدر ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق مشرق وسطی میں جغرافیائی تبدیلیاں لانے کا پر و گرام رکھتے ہیں جس کی کسی صور ت حمایت نہیں کی جاسکتی، گریٹرا سرائیل کا خواب اہل غزہ نے اپنے خون سے غزہ میں دفن کر دیا ہے، اگر اس کے باوجود کسی کو سمجھ نہیں آتی تو وہ گزشتہ دو سال کی فلسطینیوں کی جدوجہد کو دیکھ لے جو تن تنہا اپنے وطن ، اپنی مٹی ، اپنی عزت و وقار کو باقی رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں عالم اسلام کسی بھی صورت نہ گریٹر اسرائیل کی حمایت کر سکتا ہے نہ اس کا تصور کر سکتا ہے، پاکستان کا امن بورڈ میں جانے کا واحد مقصد اہل فلسطین کیلئے امن لینا ہے اور اگر خدانخواستہ امن بورڈ بھی اس میں ناکام ہوتا ہے تو پھر صرف مشرق وسطیٰ نہیں پوری دنیا میں جو بد امنی پھیلے گی اس کے اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا اسرائیلی پارلیمنٹ ایک ایسے نازی طرزکے بل کو آگے بڑھا رہی ہے جس کے منظور ہونے کی صورت میں قابض حکام کو فلسطینیوں کو قانونی طور پر سزائے موت دینے کی اجازت مل جائے گی،یہ بل اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت 2022 کے آخر میں نیتن یاہو کی مخلوط حکومت بنی تھی، اس کا مطالبہ ایٹمار بن گویر نے کیا تھا جو اب قومی سلامتی کے وزیر ہیں ، نومبر میں اس بل کو پہلی خواندگی میں پاس کر لیا گیا اور جنوری میں اس کی دفعات سامنے آئیں ان کے تحت سزا سنانے کے 90 دنوں کے اندر پھانسی کی صورت میں عملدرآمد کیا جائے گا اوراپیل کا حق نہیں ہوگا، حملوں کی منصوبہ بندی یا اسرائیلیوں کو قتل کرنے کے الزام پرفلسطینیوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑے گا، بن گویر بارہا فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں، دہائیوں سے بین الاقوامی برادری نے فلسطینی قیدیوں کی قسمت کو نظر انداز کررکھا ہے، گزشتہ ڈھائی سال میں اسرائیلی جیلوں میں بغیر کسی الزام کے قید فلسطینیوں پر ہونے والے تشدد پر عالمی سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، فلسطینیوں کی سزائے موت کو قانونی شکل دینے کی اسرائیلی کوششیں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اگلے اقدامات کا حصہ ہیں دوسری طرف دنیا نے غزہ میں مظالم پر سوائے مذمتوں کے کچھ نہیں کیاجبکہ آج بھی اسرائیل کی جانب سے ایک تہائی سے زیادہ فلسطینی انتظامی حراست میں ہیں، اس تناظر میں سزائے موت کا بل فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جاری سلوک کے تسلسل کا حصہ ہے، فلسطینیوں کے نکتہ نظر سے یہ بل انتقام کا ایک اور حربہ ہے،یہ بل ان تمام خاندانوں کے لیے بھی ایک بھیانک خواب ہے جن کا کوئی فرد اسرائیلی جیل میں ہے۔اس سے بھی زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ اس بل کے اطلاق سے کسی اسرائیلی کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں پہلے سے قید کسی بھی شخص کو سزائے موت دی جا سکے گی اسرائیل آج بھی بین الاقوامی قانون کو بلڈوز کرنے کی راہ پر گامزن ہے،عالمی برادری بین الاقوامی قانونی نظام کے بچے کھچے وقار کو بچانا چاہتی ہے تو اب وقت آگیا ہے وہ اپنا رویہ یکسر تبدیل کرے، بین الاقوامی قانون کے احترام کے بارے میں کمزور بیانات دینے کے بجائے اسرائیل پر پابندیاں لگائی جائیں، فلسطینیوں کے خلاف جرائم کے مرتکب اسرائیلی حکام کا محاسبہ کیا جانا چاہیے، ہمیں حماس کو غیر مسلح کرکے اسرائیلی قبضہ کو مزید مستحکم کرنے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیے غزہ امن بورڈ دھوکہ ہے اس سے ہوشیاررہنا ضروری ہے مسلم ممالک کو ٹرمپ کی کارستانیوں کو سمجھ لینا چاہیے ورنہ کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گاآج جوممالک ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں انہیں عقل کے ناخن لینا ہونگے۔

ٹیگز: