Wed, September 16, 2026

پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ رشوت مافیا

پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ رشوت مافیا

جب میں نے پہلی بار اس موضوع کو چھیڑا تو محفل میں بیٹھے لوگوں نے ایسے دیکھا جیسے کوئی انوکھی بات کر دی گئی ہو، یا محض شور مچایا جا رہا ہو۔ حالانکہ بعض موضوعات کو مکمل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ خود مکمل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی موضوع ہے۔ یہ چیختا ہے، لیکن کوئی پورا دھیان نہیں دیتا۔ ہم دوست بیٹھے تھے، عام سی محفل، عام سی گفتگو۔ کسی نے کہا: فلاں بندہ بہت رشوت لے رہا ہے۔‘‘
کمرے میں خاموشی رہی۔ کسی نے چونک کر نہیں دیکھا۔ کسی نے سوال نہیں کیا۔ پھر بات دوبارہ دہرائی گئی، زور دے کر کہا گیا کہ واقعی فلاں بندہ حد سے زیادہ رشوت لے رہا ہے۔ تب بھی کوئی خاص ردِعمل پیدا نہ ہوا۔ آخر ایک شخص نے وہ جملہ کہہ دیا جو دراصل ہمارے پورے سماج کا خلاصہ ہے: اس میں نئی بات کیا ہے؟ خبر تو یہ ہوتی ہے کہ فلاں بندہ رشوت نہیں لیتا۔‘‘ یہ جملہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی رپورٹ ہے۔ کیونکہ آج اس ملک میں رشوت لینا معمول بن چکا ہے اور ایمانداری ایک عجوبہ، ایک استثنا، ایک حادثہ۔کچھ عرصہ پہلے واقعی ایک خبر میڈیا میں آئی۔ ذرا دیر سے سہی، مگر آئی ضرور۔ خبر یہ تھی کہ ایک خاتون پولیس اہلکار نے زیر حراست خاتون کی تحویل کے لئے رشوت کا مطالبہ کر دیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہا: ’’یہ میرا کام ہے، اس کے پیسے چاہئیں۔‘‘ 
میرے گھر ایک بچی کام کرتی تھی ۔ کوئی اسے بھگا کر لے گیا۔تھانہ سندر میں ورچا نے رپورٹ کرائی، تفتیشی اس کے دل کے مریض باپ اور گھر والوں کو پھیرے لگوا رہا تھا۔ آخر پیسے مانگ لئے۔ ورثا وہیں رونے لگے کہ ایک تو ہم مظلوم  اور غریب ہیں اوپر سے  رشوت کا مطالبہ۔ میں نے تفتیشی کو فون کیا، اسے شرم دلائی کہ غریبوں سے کس بات کی رشوت مانگ رہے ہو۔ملزم حوالات میں ہیں، کارروائی کرو۔تھانوں میں فرنٹ ڈیسک ہیں ، رپورٹ کے لئے جائیں تو کبھی فون نمبر کبھی شناختی کارڈ پر اعتراضات، ایک ہزار روپے دیں سب اعتراض ختم۔ پولیس کلچر میں یہ معمول ہے کہ اپنے ساتھیوں کا کام بھی بنا رشوت نہیں کیا جاتا۔ پاکستان میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹس کے مطابق ہر سال اربوں روپے کی کرپشن نچلی سطح پر ہوتی ہے۔وہ کرپشن جو فائل کے ایک دستخط، ایک کنکشن، ایک رپورٹ اور ایک ’’مہربانی‘‘ کے نام پر وصول کی جاتی ہے۔ سروے بتاتے ہیں کہ عام شہری کا سب سے زیادہ واسطہ پولیس، پٹواری، میونسپل اداروں اور لوکل انتظامیہ سے پڑتا ہے،  یہی وہ مقامات ہیں جہاں رشوت ایک ریٹ لسٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
یہ اب کوئی راز نہیں رہا، یہ ایک طے شدہ بات ہے۔ آپ کسی کو بھی اٹھا لیں،پولیس والا، لائن مین، کلرک یا کوئی درمیانی کردار،سب کے  پاس اپنے نرخ نامے موجود ہیں۔ لائن مین بڑے سلیقے سے سمجھاتا ہے: ’’میرے تک کام رکھو گے تو بیس ہزار۔ اگر ایس ڈی او تک بات لے جانی ہے تو چالیس۔ اور اگر اوپر جانا ہے تو پچاس ہزار۔‘‘ساتھ یہ وضاحت بھی کر دی جاتی ہے کہ ’’اس میں اوپر والوں کا حصہ بھی ہے، کمیشن ہے۔ میرے پاس آؤ، کام کراؤ، اور گھر چلے جاؤ۔‘‘ یہ پورا نظام اس آسانی سے چل رہا ہے جیسے کوئی قانونی سروس ہو، جیسے کوئی موبائل پیکیج ہو جس کے مختلف درجے ہوں۔ اگر کوئی سادہ دل شہری یہ سوچ لے کہ نہیں، میں شکایت کروں گا، میں افسر کے پاس جاؤں گاتو کہانی وہاں اور بھی دلچسپ ہو جاتی ہے۔ افسر بڑے تپاک سے بٹھاتا ہے، چائے پلاتا ہے، ہمدردی جتاتا ہے اور کہتا ہے:آپ کا کام ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘لیکن جیسے ہی شکایت کنندہ کمرے سے نکلتا ہے، وہی افسر راشی ماتحت کو بلا لیتا ہے کہ ’’یہ تم نے کیا کیا؟ میرے بتائے بغیر کام کر لیا؟ اس کا مطلب ہے تم میرے ساتھ بھی فراڈ کر رہے ہو۔ پتہ نہیں کتنے کام تم ایسے ہی کرتے ہو۔‘‘نتیجہ؟۔
ڈانٹ، دباؤ اور ایک نیا جرمانہ۔یوں شکایت بھی کمائی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور انصاف بھی ایک نرخ پر دستیاب شے۔ اس پورے کھیل میں شہری کہیں نہیں ہوتا۔ وہ صرف ایک فائل ہے، ایک درخواست، ایک مسئلہ،جس کی قیمت مختلف سطح پر مختلف لگتی ہے۔ یہاں جرم رشوت لینا نہیں رہا، جرم صرف یہ ہے کہ آپ غلط آدمی کے پاس یا بغیر قیمت ادا کئے پہنچ گئے۔ اب یہ معاملہ صرف شکوے یا تجزیے کا نہیں رہا۔گورنمنٹ، وزیراعظم، وفاقی اور صوبائی نظامِ حکومت سب کو سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا کہ رشوت کو مکمل طور پر ختم نہیں تو کم از کم  محدود کیسے کیا جائے کیونکہ  حالات لمحہ بہ لمحہ مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک مثال ذہن میں رکھ لیجیے۔ سانپ کا کام ڈسنا ہے۔ اگر کوئی شخص سانپ کو مار دے تو وہ خبر بنتی ہے، کیونکہ وہ معمول کے خلاف عمل ہے۔ بالکل اسی طرح آج رشوت لینا معمول ہے اور رشوت نہ لینا غیر معمولی واقعہ۔ اس لیے وہ خبر بنتی ہے۔یہ ماننا پڑے گا کہ پنجاب حکومت نے حالیہ دنوں میں قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کچھ سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جو لوگ ان آپریشنز کے نام پر خود پیسے لے رہے ہیں، ان کی جانچ کون کرے گا؟ اگر احتساب وہاں رک جائے تو اصلاح محض دکھاوا رہ جاتی ہے۔میری رائے میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہر سطح پر ایک موثر، بااختیار اور عوامی رسائی والا سیل قائم کیا جائے۔ ماضی میں میاں نواز شریف نے ایک قابلِ تقلید قدم اٹھایا تھا۔ وہ ہفتے میں ایک دن عوامی شکایات سنتے تھے اور اس سے لوگوں کو یہ احساس ہوتا تھا کہ بات اوپر تک جا سکتی ہے۔آج کے وزیراعظم کے پاس شاید روزمرہ شکایات سننے کا وقت نہ ہو، مگر ہفتے میں ایک دن، دو گھنٹے مختص کرنا ناممکن بھی نہیں۔ اگر مرکز میں یہ مشکل ہے تو پنجاب میں مریم نواز  کم از کم ادارہ جاتی سطح پر، یہ کام ضرور کر سکتی ہیں ۔رشوت کم نہیں ہوئی ، اس کا نام اب فیس رکھ دیا گیا ہے۔ہر میز پر فائل رک جاتی ہے، ہڈی ڈالیں تو وہ آگے بڑھتی ہے۔حکومت نے جس طرح بدمعاشوں کو لگام ڈالی ہے اسی طرح رشوت خور مافیا کو بھی پھڑکانے کی ضرورت ہے۔
میں اپنے کالموں میں جو تجاویز پیش کرتا ہوں، خوشی ہے کہ ان میں سے کئی پر حکومتوں نے عمل درآمد کیا اب واضح تجویز یہ ہے کہ:ہر صوبائی ادارے کا سربراہ مہینے میں باقاعدہ اپنا ایک نمبر اور شیڈول جاری کرے۔ وہ اعلان کرے کہ ہفتے میں دو گھنٹے عوامی شکایات سنے گا۔یہ سماعت آن لائن ہواور اسے سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر کیا جائے۔پولیس بھی سنے، انتظامیہ بھی، ایگزیکٹو بھی،سب کے سامنے، سب کے لیے۔ رشوت کے خلاف جنگ نعروں، بینرز اور تقاریر سے نہیں جیتی جا سکتی۔یہ جنگ  شفافیت، براہِ راست جواب دہی اور عوامی نگرانی سے جیتی جا سکتی ہے۔اگر ہر ادارے کا سربراہ ہفتے میں دو گھنٹے عوام کے سامنے بیٹھ جائے، تو بہت سی رشوتیں خودبخود دم توڑ دیں گی۔کیونکہ جہاں خوف ختم ہو، وہاں لالچ پنپتا ہے اور جہاں جواب دہی ہو، وہاں کرپشن کا دم گھٹ جاتا ہے۔یہی اصل اصلاح ہے۔

ٹیگز: