غلط فیصلوں کی کوکھ سے جس طرح روشن مستقبل پر ہنریمت کی تاریکیاں ڈالنے والے نتائج جنم لیتے ہیں اسی طرح غلط مشورے بھی تباہ کن نتائج کے گڑھے میں ڈالنے گا ذریعہ بن جاتے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مادری زبان سے اپنے والہانہ جذبوں کا اظہار کیا ہے، یا پنجابیوں کے دل جیت کر ان کی ٹھوس حمایت حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے یا کسی قریب کے بزرجمہر نے اس راستے پر ڈالا ہے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اس فیصلے یا اقدام کے محاسن و قباحت کا جائزہ ضرور لیا جا سکتا ہے ۔
بلوچستان میں پنجابیوں کے قتل ، پنجاب کے خلاف بے بنیاد زہریلا پروپیگنڈا پنجاب کے مجموعی مفاد کے خلاف لاف زنی کا منہ توڑ جواب مریم نواز کی پنجابیت نہیں پنجاب کا انتظامی سربراہ ہونے کے ناطے فرض بھی بنتا ہے اور اس فرض کو بخوبی نبھانے پر اہل پنجاب کی جانب سے ستائش اس کا حق بنتا ہے۔ مریم کے حوالے سے عمومی تاثر مستقبل کی وزیر اعظم ہے اس لئے مریم کی بہت بڑی کامیابی اس تاثر کو زیادہ گہرا کرنے میں ہے اور ہر اس فیصلے قدم حتی کہ بیان سے بھی گریز کرنا اس کے سیاسی مفاد میں ہے جو اس تاثر پر منفی اثرات کی نذر کر دے۔
میں خود پنجابی ہوں لیکن میرا تعلق پنجابی زبان بولے جانے والی سرزمین سے نہیں بلکہ پنجاب کے اس خطے سے ہے جہاں ہندکو بولی جاتی ہے۔ پنجاب لسانی اکائیوں کا گلدستہ ہے۔ لاہور کو مرکز مان لیا جائے تو ایک جانب ساہیوال تک دوسری جانب وزیر آباد و گجرات تک اور گوجرانوالہ سے حافظ آباد ، سیالکوٹ تک پنجابی سپیکنگ علاقہ ہے ۔ ساہیوال سے پاکپتن کی جانب حجرہ شاہ مقیم و ملحقہ علاقوں میں پنجاب اور سرائیکی کے اشتراک جیسا محسوس ہونا مختلف لہجہ ہے۔ ساہیوال سے آگے خانیوال ، ملتان سے رحیم یار خان و صادق آباد تک سرائیکی بولی کا غلبہ ہے گجرات سے آگے جہلم ، راولپنڈی ، سوہاوہ ، چکوال سے تلہ گنگ تک پوٹھواری زبان کا راج ہے ۔ تلہ گنگ سے موسیٰ خیل ، میانوالی دانیں جانب پائی خیل دائود خیل ، کالا باغ ، عیسیٰ خیل تک اور بائیں جانب میانوالی سے کندیاں، پپلاں ، کلور کوٹ ، دریا خان ، بھکر سے لیہ تک ہند کو زبان بولی جاتی ہے اس لئے لسانی حوالے سے کوئی فیصلہ کرتے وقت ان حقائق کو سامنے رکھنا ناگزیر ہے بالخصوص یہ جو پنجابی زبان کے حوالے سے اچانک ابال اٹھا ہے اس پر نظرثانی مریم نواز کے سیاسی مفاد کا اولین تقاضا ہے۔ کیونکہ اگر غیر پنجابی لسانی حصوں میں پنجابی زبان کو حکومتی اختیارات کے ذریعہ رواج دینے کی کوشش شدید مزاحمت کا سامنا کر سکتی ہے۔یاد رہے بانی پاکستان جیسی شخصیت دوسری زبان تسلیم نہیں کرا سکی تھی تو کیا پنجاب کے مختلف لسانی حصوں میں بولی جانے والی زبانوں کے سائین بورڈز شاہراہوں کے اشارات ،سنگ میل، شہروں کے نام ان زبانوں میں لکھے جائیں گے تو کیا اس طرح پنجاب مجوزہ تین صوبوں کی بجائے کئی لسانی حصوں میں تقسیم نہیں ہو جائے گا ۔ دو تین روز قبل فون پر ایک پنجابی دانشور دوست سے بات ہوئی پنجاب میں پنجابی زبان کے حوالے سے اقدامات کی حمایت میں بہت مضبوط دلیل دی ’’کیا سندھ میں سب کچھ سندھی میں نہیں ہے‘‘۔ عرض کیا آپ کی بات ہزار دفعہ درست ہے مگر پنجاب کی طرح سندھ لسانی اکائیوں میں تقسیم نہیں ہے۔ پنجاب کے آخری شہر صادق آباد کے بعد سندھ کے پہلے شہر گھوٹکی سے آخری شہر بدین و کلاچی تک سندھی زبان بولنے والے سندھی آباد ہیں۔ کراچی، حیدر آباد میں کبھی اردو سپیکنگ افراد کی اکثریت تھی مگر اب دونوں شہروں میں سندھی اور پٹھان بڑی تعداد میں شہری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی طرح سکھر ، میر پور خاص ، کوٹری میں اردو سپیکنگ ضرور ہیں مگر غالب اکثریت نہیں رکھتے، جہاں تک پنجابیوں کا تعلق ہے میری ذاتی معلومات کے مطابق کراچی میں ان کی سٹیل مل میں ملازمتوں کے باعث گلشن حدید اور سٹیل ٹائون میں ان کی تعداد زیادہ ہے ۔ یہاں یہ جماعت اسلامی ، پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور دیگر جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں لیکن اگر یہ سب کسی ایک واحد جماعت میں بھی ہوں تو ایک پنجابی ایم این اے یا ایم پی اے منتخب کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں یہی صورت حیدر آباد کی بھی ہے ان دونوں شہروں کے دیگر حصوں میں منتشر صورت میں پنجابی ضرور آباد ہیں میں گزشتہ پانچ سال سے زائد ہوئے سندھ میں ہوںمیرا مشاہدہ ہے کراچی ، حیدر آباد سمیت سندھ کے دیگرعلاقوں میں آباد اردو سپیکنگ، پٹھان ، پنجابی اور سرائیکی جس طرح پنجاب میں سرائیکی ، پوٹھوہاری اور ہند کو زبان بولنے والے پنجابی زبان اس روانی سے نہیں بولتے ہیں اس لئے پنجاب میں پنجابی زبان کے حوالے سے سندھ کو مثال نہیں بنایا جا سکتا۔
مریم نواز کا مادری زبان سے جذباتی لگائو غیر فطری نہیں ہے نہ ہی اس کے فروغ کی خواہش اور کوشش کوئی قابل اعتراض بات ہے البتہ اگر جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا مستقبل کے حوالے سے نظر وزارت عظمیٰ پر ہے تو پھر اپنی سیاسی شناخت پنجابی لیڈر کو نہیں بلکہ قومی لیڈر کی بنانی ہوگی۔ میری رائے میں جس کسی نے بھی پنجابی زبان کے حوالے سے مریم کے جذبات کو بڑھانا ہے اس نے بڑی ہوشیاری سے یا پھول پن سے اس کی سیاسی لیڈر شپ کو پنجاب کے تین چار ڈویژنوں تک محدود کرنے کی غلطی یا سازش کی ہے ۔
اگر مقصد پنجابی زبان کو فروغ دینا ہے تو اس کا حکومتی اقدامات کو بجائے دیگر بہتر طریقہ بھی ہے اور وہ یہ کہ ’’فروغ پنجابی زبان‘‘ نام کی کوئی تنظیم بنائی جاتی اور اس کے نام یا حوالے سے ہی پنجابی زبان میں سائین بورڈ لگانے سمیت دیگر اقدامات کئے جاتے تا کہ مریم نواز کی ذات پر کسی جانب سے حرف گیری نہ ہو سکتی میرا یہ خدشہ بے بنیاد بھی ہو سکتا ہے کہ پنجابی زبان کے حوالے سے سرائیکی ، پوٹھوہاری اور ہندکو زبانوں کے علاقوں میں غیرضروری مزاحمتی طوفانی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی اور دیگر (ن) لیگ مخالف جماعتیں اور افراد یہاں کے لوگوں کواس گمراہ کن پروپیگنڈے سے کہ ان پر زبردستی پنجابی زبان مسلط کی جا رہی ہے حالات میں مزید بگاڑ پیدا ککرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تا کہ مریم نواز کی قومی لیڈر شپ کی جانب بڑھتی شناخت کو پنجابی لیڈر کی سطح پر لایا جائے ۔ میری ذاتی رائے ہے اگر کیپٹن صفدر کو مریم نواز اپنے مشاورتی عمل میں دوبارہ شریک کر لے تو اس کے بہت سے کام سیدھے ہو سکتے ہیں۔