سینیٹر مشاہد حسین سید صحافی سے سیاستدان بنے اور سیاستدان سے ماہر سفارتکار، صحافت، سیاست اور سفارت تینوں میدانوں میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں سی پیک 2.0 کے حوالے سے ایک شاندار سیمینار کا اہتمام کیا. مجھے بھی انکی جانب سے شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ سو حاضر ہوگیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) اس وقت ایک ایسے تاریخی اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جسے محض منصوبوں کا تسلسل نہیں بلکہ ایک نئے ترقیاتی وژن کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ سی پیک کا ابتدائی مرحلہ بنیادی ڈھانچے، توانائی کے بحران کے خاتمے اور علاقائی روابط کی بحالی تک محدود تھا، تاہم آج سی پیک 2.0 ایک اعلیٰ معیار، ماحول دوست، صنعتی، ڈیجیٹل اور عوامی فلاح پر مبنی ترقیاتی ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف عالمی معاشی رجحانات کی عکاس ہے بلکہ پاک چین تعلقات کی گہرائی اور سٹرٹیجک بلوغت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
سی پیک کے پہلے مرحلے کا بنیادی مقصد پاکستان کو درپیش فوری معاشی مسائل کا حل تھا۔ کئی دہائیوں سے جاری توانائی بحران، خستہ حال شاہراہیں، ناکافی ریلوے و بندرگاہی سہولیات اور کمزور لاجسٹک سسٹم نے ملکی معیشت کو مفلوج کر رکھا تھا۔ ایسے حالات میں توانائی کے منصوبے، موٹرویز، گوادر پورٹ کی ترقی اور شمال سے جنوب تک روابط کی بحالی ناگزیر تھی۔ ان منصوبوں نے اگرچہ پاکستان کی تمام معاشی مشکلات حل نہیں کیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ بجلی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئی، نقل و حمل کا نظام بہتر ہوا اور علاقائی تجارت کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔
تاہم، وقت کے ساتھ یہ حقیقت بھی واضح ہوتی گئی کہ محض انفراسٹرکچر پر انحصار طویل المدتی ترقی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ماحولیاتی تبدیلی، موسمیاتی خطرات، گرین اکانومی، کم کاربن ترقی اور پائیدار صنعتی ماڈلز اب عالمی ترجیحات بن چکے ہیں۔ چین نے بھی اپنی اندرونی معاشی حکمتِ عملی میں ’’ہائی کوالٹی ڈویلپمنٹ‘‘ کو مرکزی حیثیت دی ہے اور بیرونِ ملک سرمایہ کاری میں ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جو ماحول دوست، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مقامی آبادی کے لیے فائدہ مند ہوں۔ اسی تناظر میں سی پیک 2.0 ایک فطری ارتقا ہے، نہ کہ کسی دباؤ یا پسپائی کا نتیجہ۔
پاک چین تعاون کے نئے خدوخال پر دونوں ممالک اصولی طور پر متفق ہو چکے ہیں۔ مشترکہ تعاون کمیٹی (JCC) کے حالیہ اجلاسوں میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آئندہ مرحلے میں سی پیک کا مرکز و محور خصوصی اقتصادی زونز، قابلِ تجدید توانائی، زراعت کی جدت کاری، ڈیجیٹل معیشت ، آئی ٹی تعاون اور ماحول دوست ترقی جیسے منصوبے ہوں گے۔ چینی قیادت بارہا اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ سی پیک محض چند منصوبوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سٹرٹیجک شراکت داری ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھی سی پیک 2.0 کو وژن 2025، صنعتی پالیسی اور قومی ماحولیاتی حکمتِ عملی سے جوڑنے کے اعلانات کیے گئے ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ عملی پیش رفت اب بھی توقعات سے کم ہے۔ پالیسیوں کا عدم تسلسل، ادارہ جاتی کمزوریاں اور فیصلہ سازی میں تاخیر نے کئی مواقع ضائع کیے ہیں، جن کا ازالہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ سی پیک 2.0 کی کامیابی کے لیے سب سے پہلا اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ پاکستان انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی کو اپنا مرکزی ہدف بنائے۔ رشہ کئی (خیبر پختونخوا)، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی (پنجاب) اور دھابے جی (سندھ) جیسے خصوصی اقتصادی زونز کو محض فائلوں اور بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر فعال بنانا ہوگا۔ زمین کی دستیابی، بجلی و گیس کی فراہمی، ٹیکس مراعات، ون ونڈو آپریشن اور قانونی تحفظ کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول ممکن نہیں۔
دوسرا اہم ستون گرین انرجی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ مستقبل کا سی پیک شمسی، ہوائی، پن بجلی، بیٹری سٹوریج اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ سے جڑا ہوگا۔ کوئلے پر انحصار کم کرنا اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ چین کے پاس گرین ٹیکنالوجی میں وسیع تجربہ اور وسائل موجود ہیں، جن سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
تیسرا اہم شعبہ زراعت ہے، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے باوجود بد انتظامی اور فرسودہ طریقوں کا شکار ہے۔ چین کے ساتھ جدید بیج، سمارٹ آبپاشی، زرعی مشینری، کولڈ سٹوریج اور فوڈ پروسیسنگ میں تعاون نہ صرف پیداوار بڑھا سکتا ہے بلکہ پاکستان کو غذائی خود کفالت اور زرعی برآمدات کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
چوتھا اور سب سے اہم عنصر انسانی وسائل کی ترقی ہے۔ اگر سی پیک 2.0 کو واقعی ایک اعلیٰ معیار کا منصوبہ بنانا ہے تو ٹیکنیکل ایجوکیشن ، ووکیشنل ٹریننگ، تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر بھرپور سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ہنر مند افرادی قوت کے بغیر کوئی بھی صنعتی یا تکنیکی انقلاب ممکن نہیں۔
سی پیک 2.0 کو کئی سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ گورننس کا فقدان ہے۔ پالیسیوں میں بار بار تبدیلی، بیوروکریسی کی سستی، ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی اور صوبائی اختلافات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے اس حوالے سے نمایاں اقدامات کیے ہیں، مگر پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں شریک نہ کیا جائے۔
تیسرا چیلنج مالی نظم و ضبط سے متعلق ہے۔ قرضوں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے سے قطع نظر، پاکستان کو شفاف، پائیدار اور ذمہ دار مالی ماڈل اپنانا ہوگا۔ چوتھا اہم پہلو ماحولیاتی تحفظ ہے۔ گرین سی پیک محض نعرہ نہیں بلکہ عملی اقدامات، سخت قوانین اور مؤثر نگرانی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر سی پیک 2.0 درست سمت میں آگے بڑھا تو یہ پاکستان کی معاشی تقدیر بدل سکتا ہے۔ برآمدات پر مبنی صنعتوں کا فروغ، توانائی میں خود کفالت ، روزگار کے وسیع مواقع ، علاقائی عدم مساوات میں کمی اور خطے میں پاکستان کی سٹرٹیجک اہمیت میں اضافہ ایسے فوائد ہیں جو اس منصوبے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔
سی پیک 2.0 محض منصوبوں کا نیا مرحلہ نہیں بلکہ پاکستان کی اصلاحاتی صلاحیت ، ریاستی سنجیدگی اور قومی عزم کا امتحان ہے۔ چین نے اپنی نیت ، سرمایہ کاری اور وژن سے اپنی سنجیدگی ثابت کر دی ہے۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ پالیسیوں ، ادارہ جاتی اصلاحات اور عملی اقدامات کے ذریعے اس شراکت داری کو حقیقی معنوں میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔ اگر ہم گرین ، اعلیٰ معیار اور عوام دوست ترقی کے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے تو یہ تاریخ کا ایک اور ضائع شدہ موقع ہوگا ، اور اگر درست فیصلے کیے گئے تو سی پیک 2.0 پاکستان کو ایک نئی معاشی سمت دے سکتا ہے۔