Wed, September 16, 2026

روس کیوں ٹوٹا؟ سنگاپور نے ترقی کیسے کی؟

 روس کیوں ٹوٹا؟ سنگاپور نے ترقی کیسے کی؟

محترمہ بے نظیر بھٹو پر اسمبلی ہال میں آوازیں کسنے والے کون تھے جو آج نشان عبرت ہو گئے۔ دنیا کی تاریخ میں جمہوریت کی بحالی کیلئے جیسی تحریک پیپلز پارٹی نے چلائی جو ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے تھی مگر اصل قوت پیپلز پارٹی تھی، پھر وہ کون تھے جنہوں نے ضیاء الحق کے ہاتھ مضبوط کیے۔ کئی کتابیں درکار ہیں بھٹو خاندان، زرداری اور پیپلز پارٹی نے تمام مخالف قوتوں کا جبر سہا، یہ تاریخ ہے۔ بعد میں میاں نوازشریف بھی چلتے گئے اور جدو جہد کی ایک داستان بن گئے مگر ان دونوں جماعتوں نے بلکہ کسی سیاسی جماعت نے ریاست کیخلاف بیانیہ نہیں بنایا نہ دشمن قوتوں کیلئے خوشخبری بنی مگر اب کیا ہے۔ لمبی داستان کو چھوڑیں آتے ہیں آج کے حالات کی طرف۔ چاروں صوبوں و کشمیر بلتستان میں عوامی حکومتیں ہیں۔ وفاق میں بھی حکومت ہے۔ اسٹیبلشمنٹ مؤثر ہے۔ اگلے روز مزمل سہروردی نے اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سول حکومت سے چاہتی ہے کہ وہ بیانیہ بنائیں، خود کہتے ہیں کہ حکومت کیا بیانیہ بنائے جب سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ دراصل عمران خان ایک ایسا پروپیگنڈہ کرنے والا سیاست دان ہے وہ کسی نہ کسی کو ٹارگٹ رکھتا ہے۔ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی مخالفت حتیٰ کہ نفرت اور گالیاں دے دے کر اسٹیبلشمنٹ کی خوشامدیں کر کر کے اس نے اقتدار لیا۔ ہر محسن کو ڈسا۔ اب فیلڈ مارشل نے عمران نیازی کا بھی کچھ نہیں بگاڑا تھا سوائے اس کے کہ ایک ڈیوٹی پوری کی جو بطور ڈی جی آئی ایس آئی انہوں نے وزیراعظم (عمران خان) کے کہنے پر کرپشن کی رپورٹ دی جس کے بارہ دروازے اور 100 دریچے عمران خان کے گھر کی طرف ہی کھلتے اور بند ہوتے تھے جس کے سنگھاسن پر بشریٰ مانیکا، فرح گوگی اور بزدار تھے۔ وزیراعظم نے ان کو ٹرانسفر کر دیا پھر ان کے آرمی چیف بننے کی راہ میں وہ دھما چوکڑی مچائی کہ الامان الحفیظ۔ جنرل فیض حمید اور جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر پتہ نہیں کیا کیا۔ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے جھوٹ کے نیٹ ورک سے پھیلائے گند سے اسٹیبلشمنٹ کو اتنا گندا کیا کہ بھارت سمجھ بیٹھا شاید مشرقی پاکستان والا معاملہ ہو چکا۔ اس نے جنگ مسلط کر دی مگر اللہ جسے عزت دے۔ وطن عزیز کی مسلح افواج نے 4/5 گھنٹے میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ اس کو بھی موجودہ سول حکومت ٹھیک طرح کیا بالکل کیش نہ کرا سکی۔ ملکی مسائل کیا ہیں اور ہماری ترجیحات کیا ہیں۔ یہ جو متضاد معاملات ہیں۔ مسائل بیروزگاری، ناخواندگی، بیماری، بھارت جیسا مکار دشمن، بیوروکریسی کی ریشہ دوانیاں، بدعنوانی اور غیر واضح پالیسیاں ہیں جبکہ ترجیحات اختیارات کا زیادہ سے زیادہ حصول ہے۔ تین چار سوال ہیں۔ کیا پوری دنیا میں عمران خان کے کہے پر قائم رہنے کی کوئی ضمانت دے سکتا ہے؟ اگر آج ہماری افواج کمزور ہوں تو کیا وطن عزیز کی سلامتی کی ذمہ داری کوئی دے سکتا ہے؟ فیلڈ مارشل نے جمہوریت پر بات کرتے ہوئے درست کہا کہ ہر ملک کی اپنی اپنی جمہوریت ہے۔ روس، چائنہ، بھارت، امریکہ کہیں بھی چلے جائیں، جمہوری نظام ملکی ضروریات کے تابع ہیں۔ بھارت جیسا منحوس اور مکار ہمسایہ ہو تو ملک طاقتور فوج کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ رہی بات خفیہ اداروں کی آج دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیوں کی بنیاد پر ہر قسم کی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ بہت کم لوگ ادراک رکھتے ہیں روس کیوں ٹوٹا؟ یہ افغانستان کا معاملہ کوئی معاملہ نہ تھا دراصل وہاں کا سیاسی نظام جوہڑ بن چکا تھا جیسے ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں جوہڑ بن چکی ہیں۔ کم از کم صوبائی اور ضلعی سطح پر نئی قیادتوں کی ضرورت ہے۔ روس مخالف عالمی قوت نے بس اتنا کام کیا تھا کہ اس مشورے یا سازش کو عملی جامہ پہنا دیا کہ نااہل لوگوں کو اعلیٰ عہدوں خصوصاً بیوروکریسی میں تعیناتیاں دی جائیں جیسے واپڈا کے چیئرمین کو ایف بی آر کا چیئرمین، ایف بی آر چیئرمین کو چیف سیکرٹری، چیف سیکرٹری کو وزارت خزانہ اور پھر خفیہ اداروں کی کاکٹیل بنا کر ان کی حیثیت کو بھی داغدار کر دیا جائے۔ اعلیٰ اسامیوں پر ناواقف اور نااہل لوگوں کی ذمہ داری دی جائے جیسے ہمارے ہاں وزیراعظم ہائوس سے ڈی ایم جی کے ریٹائرڈ آفیسر ایف بی آر میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر کے افسران کی گھبراہٹ کا یہ عالم ہے ان کو خفیہ ادارے اطلاعات دے رہے ہیں کہ فلاں جگہ کام خلاف قانون ہو رہا ہے۔ کسی بھی جگہ اصول پسندی اور شرافت قانون اور اخلاق کی عملداری ممکن نہیں۔ اگر اس کے ساتھ طاقت نہ ہو۔ یہ حقیقت نہیں ہے کیا کہ آج جو ملک کو سنبھالا دیا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ اور فیلڈ مارشل کے بے داغ کردار، دو ٹوک فیصلوں، مصمم ارادوں نے دیا ہے۔ اگر سول اداروں کو خفیہ ادارے ہی چلاتے رہے تو سول ادارے اور خفیہ ادارے ایک جیسی شہرت میں داخل ہو جائیں گے۔ وہ شہرت کیسی ہوتی ہے سب جانتے ہیں۔ جب خفیہ ادارے میں بھٹو صاحب نے سیاسی ونگ بھٹو بنایا تو اس وقت ملکی اہداف بہت ہی نازک تھے، جن میں ایٹمی قوت کا حصول اور عالمی حیثیت میں مقام حاصل کرنا تھا جس میں سیاست دانوں اور دیگر لوگوں کی خبر رکھنا ضروری تھا۔ اب آتے ہیں سنگاپور نے ترقی کیسے کی؟ پہلی بات یہ ہے کہ اس کا ہمسایہ بھارت نہیں تھا لیکن ہماری ترقی کی راہ میں صرف بھارت رکاوٹ نہیں ہے، اس کا گند صرف ہمارے دفاعی اخراجات کا بہت بڑھ جانا ہے جس کو عسکری اور سیاسی قوتوں کے تسلسل نے خارجہ پالیسی سے کافی حد تک قابو کر لیا ہے۔ سنگاپور کے لی کوان پی کی محنت لگن اور پالیسیوں کا نتیجہ حلیہ یعقوب تھی۔ انہوں نے Right Job For Right Person کا اصول اپنایا۔ بیوروکریسی کی تعمیر نو کی، اس کو جواب دہ بنایا۔ وزیر کو محکمہ کا سربراہ بنایا۔ کرپشن پر وزارت سے فارغ کر کے جیل بھیجا۔ سادہ طرز زندگی، عاجزی، پروٹوکول کو خیرباد، میرٹ، ملٹی کلچرل ازم، موٹیویشن، تین اصول بنائے اور آج چھوٹا سا ملک ہے، لوگ اس کی ترقی کو حیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم خود فیصلہ کر لیں کہ ہم سابقہ روس بن رہے ہیں یا آج کا سنگاپور۔ یہ درمیانی راستہ اور طریقہ کار ریاستی نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ سول حکومت کو اپنی ذمہ داری لینا ہو گی اور لینی چاہیے۔

ٹیگز: