Wed, September 16, 2026

پاک سعودیہ معاہدہ کے بعد

پاک سعودیہ معاہدہ کے بعد

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے ’’دشمنوں‘‘ کی چیخیں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ دشمنوں کا چیخنا تو ویسے بھی بنتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے خلاف واویلا کریں لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ پاکستان کے اندر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو معاہدے کو لے کر دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں حالانکہ اس معاہدے سے دنیا بھر میں پاکستان کی عزت و وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور دنیا پاکستان کے متعلق نئے زاویوں سے سوچنے لگی ہے اور جس طرح 9/11کے بعد دنیا کی سیاست ایک دم بدل گئی تھی تو بعینہ اسی طرح 10مئی کو ہندوستان کے خلاف فتح مبین کے بعد پاکستان کی اندرون اور بیرون ملک سیاست اور حیثیت میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی ہے لیکن کچھ عقل کے اندھے ایسے ہیں کہ جنہیں پاکستان پر ہندوستان کے حملے سے پہلے پھر حملے کے بعد اور پھر پاکستان کے ہندوستان پر حملے اور پانچ گھنٹے کی انتہائی قلیل مدت میں فتح مبین کے بعد بھی سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہوا تھا کیا ہو گیا اور کیا ہونے کے بعد پاکستان کو خدائے بزرگ و بر تر کی ذات نے دنیا میں عزت و احترام کے کس بلند منصب پر فائز کیا ہے ۔ آپ تھوڑی دیر کے لئے ان احمقانہ بیانات پر غور تو کریں کہ جنہیں سن کر کہنے والوں کی اور ان پر یقین کرنے والوں کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے ۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ جنگیں مضبوط معیشت سے لڑی جاتی ہیں اور پاکستان کے پاس تو جنگی طیاروں میں تیل کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں تو انہوں نے جنگ کیا لڑنی ہے لیکن سب سے دلچسپ بیان تو علیمہ خان صاحبہ کے تھے کہ جب ہندوستان نے حملہ کیا تو پہلے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اِنہوں نے کوئی جواب نہیں دینا اور ایک اور بیان تو کمال کا ہے اور جسے ان کے عقل فہم و شور کے حوالے سے کوئی شک ہو تو وہ اس بیان کو فریم کرا کر رکھ لے تاکہ جب بھی کبھی کوئی شک ہو تو وہ اسے پڑھ کر ان کے متعلق اپنا شک دور لے ۔ انہوں نے کہا کہ ان سے تو کچھ نہیں ہو گا اور نہ ہی ان سے جنگ لڑی جانی ہے انہوں نے اگر جنگ لڑنا ہے یا ہندوستان کے حملے کا جواب دینا ہے تو اڈیالہ جائیں اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کر کے لائیں اور پھرہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگیں اور پھر ان سے پوچھیں کہ کیا کرنا ہے ۔ یہ خوش فہمی کی انتہا تھی خبط عظمت تھا یا حماقت اس کا فیصلہ قارئین خود کریں لیکن بانی پی ٹی آئی نے کیا بتانا تھا کہ کیا کرنا ہے فتح مبین کے بعد پوری دنیا پاکستان سے پوچھ رہی ہے کہ ’’ بھائی جی بتا تو سہی کہ ہندوستان کے ساتھ کیا کیا ہے ‘‘ ۔
جس طرح پاک بھارت جنگ سے پہلے اس کے دوران اور پھر بعد میں پاکستان میں موجود کچھ لوگوں کا بیانیہ مودی سرکار کے ساتھ ملتا تھا بالکل اسی طرح پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ معاہدے سے بھی ہندوستان کے ساتھ ایک قلیل تعداد میں جو پاکستانی مودی ہیں انہیں کسی پل چین نہیں آ رہااور بڑے عجیب عجیب سوال اور باتیں سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں ۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان پر ہندوستان حملہ کرتا ہے تو کیا سعودی عرب بھی پاکستان کی مدد کرے گاتو اس میں کیا شک ہے کہ سعودی عرب یقینا پاکستان کی مدد کرے گا لیکن وہ مددممکن ہے کہ اقتصادی ، معاشی لحاظ یا سفارتی محاذ پر ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ سعودی عرب کے پاس جو جنگی اسلحہ ہے اس سے پاکستان کی مددکرے لیکن یہ سوال طنزیہ پیرائے میں اس لئے سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے کہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے ۔اس کے علاوہ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران یا حوثیوں سے جنگ ہو گی تو کیا پھر پاکستان ایران کے خلاف لڑے گا ۔ عرض ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستان اور اسرائیل کا تڑپنا تو سمجھ آتا ہے لیکن پاکستان میں بیٹھ کرجو لوگ پاکستان کا کھاتے ہیں پاکستان کا پیتے ہیں جنہیں دنیا میں عزت پاکستان کی وجہ سے ملی ان کا سوشل میڈیا پر پاکستان دشمن پروپیگنڈا کرنا اور ریاست پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی سمجھ سے بالاتر ہے ۔
جو لوگ بھی یہ سب کر رہے ہیں ان کی دل کی حسرتیں دل میں ہی رہیں گی۔ سب کو علم ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر اسرائیل سے تحفظ کے لئے ہوا ہے لیکن حیرت یہ ہے کہ انہیں اسرائیل کے خلاف اس معاہدے سے تو بڑے مسائل ہو رہے ہیں لیکن اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھانے کے باوجود بھی اڈیالہ میں قید ان کے قائد کی جانب سے اب تک ایک لفظ نہیں کہا گیا لیکن ویسے وہ بقول ان کے وہ امت مسلمہ کالیڈر ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یہ معاہدہ اس خطے میں ایک طرح سے گیم چینجر ثابت ہونے جا رہا ہے ۔ معاہدے کے بعد شنید ہے کہ سعودی عرب پاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور اس کے علاوہ اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ بحرین ، قطر اور یو اے ای کے ساتھ بھی اسی طرح کے دفاعی معاہدے ہو جائیں بلکہ کچھ تجزیہ کار تو اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر اسلامی ممالک میں بھی نیٹو طرز کے اتحاد کی باتیں کر رہے ہیں لیکن یہ سب ظاہر ہے کہ ابھی قبل از وقت ہو گا اور اگر ایسانہیں بھی ہوتااور عرب ممالک بھی اس کا حصہ بنتے ہیں اور ان کے دفاع کی ذمہ داری پاکستان کے ذمہ آ جاتی ہے تو یہ بات پاکستان کے عزت و وقار میں بے پناہ اضافہ کرے گی ۔

ٹیگز: