Wed, September 16, 2026

اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم؛ بھارتی پالیسیوں کے خلاف سکھوں کا بھرپور احتجاج

اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم؛ بھارتی پالیسیوں کے خلاف سکھوں کا بھرپور احتجاج

اوٹاوا:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان کے حق میں ایک بڑا ریفرنڈم منعقد ہوا، جس میں ہزاروں سکھوں نے شرکت کر کے بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر شدید عدم اطمینان ظاہر کیا۔

علیحدگی پسند تنظیم سکھ فار جسٹس (SFJ) کے مطابق 53 ہزار سے زائد سکھوں نے ریفرنڈم میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ شدید سردی کے باوجود سکھ برادری کے افراد طویل قطاروں میں کھڑے رہے، جس سے اس معاملے کے بارے میں ان کے مضبوط جذبات اور سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔

سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے ریفرنڈم کو بھارتی پالیسیوں کے خلاف ’’پرامن اور جمہوری اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا سیاست کے بڑھتے ہوئے اثرات نے سکھوں کو عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ان کے مطابق 1984 کے واقعات کے بعد سے سکھ کمیونٹی کو مسلسل سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔

تنظیم نے دعویٰ کیا کہ کینیڈا کی سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی بھارت کے کچھ ریاستی عناصر کو سکھوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث قرار دیا ہے۔ ووٹ ڈالنے والوں کی بڑی تعداد نے بھارت میں مبینہ جبر، حقوق کی عدم فراہمی اور عدم تحفظ کے خدشات کا اظہار کیا۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوٹاوا میں ہونے والا یہ ریفرنڈم خالصتان تحریک کو عالمی سطح پر نئی توجہ دلا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بھارت اور کینیڈا کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ دونوں حکومتیں اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔

ٹیگز: