Wed, September 16, 2026

آج دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

آج دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

لاہور : آج دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں آگاہی پھیلانا اور اس کے خاتمے کے لیے مضبوط اور مؤثر اقدامات کرنا ہے۔ ہر سال 25 نومبر کو اس دن کو منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں اس مسئلے کے بارے میں شعور بیدار کیا جا سکے اور حکومتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں روزانہ سیکڑوں خواتین اور لڑکیاں اپنے قریبی ساتھیوں کے ہاتھوں جسمانی، جنسی تشدد یا قتل کا شکار ہوتی ہیں۔ خواتین پر تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے معاشروں کو ایک مضبوط، یکجہتی کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی معاشرہ خود کو محفوظ یا انصاف پسند نہیں کہہ سکتا جب تک کہ اس کی نصف آبادی خوف میں جی رہی ہو۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، خاص طور پر جنگی علاقوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں خواتین تشدد کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ اسی لیے، اس سال کا تھیم ’’تمام خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں‘‘ رکھا گیا ہے، تاکہ آن لائن تشدد اور ہراسانی کے مسئلے پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس دن کے موقع پر کہا ہے کہ دنیا کو اس مسئلے کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی، تاکہ ہم خواتین کے خلاف تشدد کو تاریخ کا حصہ بنا سکیں۔

پاکستان بھی اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ حکومت نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات کیے ہیں اور مختلف اداروں کو مضبوط کیا ہے تاکہ خواتین کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ملک بھر میں شیلٹر ہومز قائم کیے گئے ہیں جہاں خواتین کو پناہ، تحفظ اور قانونی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ قومی ایکشن پلان کے تحت خواتین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے اور انہیں تحفظ دینے کے لیے حکومت اور معاشرے دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک محفوظ، عزت دار اور تشدد سے آزاد معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہو اور وہ بلا خوف زندگی گزار سکیں۔

ٹیگز: