اس میں کوئی شک نہیں اس ملک میں رائج کریمینل اور کرپٹ سسٹم مزید پھلتا پھولتا جا رہا ہے اور کوئی دیوار کوئی رکاوٹ اس کے آگے کھڑی نہیں کی جا رہی، شاید اس لیے کہ اس کریمینل اور کرپٹ سسٹم کے ہم سب بینیفیشری ہیں، ہم سسٹم کی تبدیلی کی صرف باتیں کرتے ہیں اس کے لیے عملی جدوجہد کا کوئی تصور بھی ہمارے ہاں نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں’’ہم سب جنت میں جانا چاہتے ہیں مرنا نہیں چاہتے‘‘، ویسے تو بغیر مرے ہی یہ ملک ظالم کرپٹ اور منافق لوگوں کی ایک جنت ہی ہے مگر یہ عارضی جنت ہے جسے اْنہوں نے مستقل سمجھ رکھا ہے، ظالموں کی رسی دراز ہے، اللہ اْنہیں موقع دیتا ہے جہاں تک بھاگ سکتے ہو بھاگ لو ، پھر اْن کی پکڑ ہے جو بہت سخت ہے، بڑے بڑے فرعون اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکے فرعون کے چھوٹے چھوٹے چیلے کیسے بچ سکیں گے؟ ایک بے قصور نوجوان احمد جاوید کے اصل قاتل بھی نہیں بچ سکیں گے، اپنی طاقت، تعلقات اور دولت کے بل بوتے پر وہ صرف بھاگ سکتے ہیں، جتنا چاہیں بھاگ لیں اس کرپٹ اور کریمینل نظام کی زد میں وہ اگر نہ بھی آئے قدرت کی زد میں ضرور آئیں گے، قدرت کی پکڑ میں ایک طرح سے وہ آئے بھی ہوئے ہیں کہ سوائے اْن کے کچھ کاروباری شراکت داروں کے کوئی اْن کے لئے کلمہ خیر نہیں کہتا، اْن کے تکبر کا یہ عالم ہے ایک نوجوان کو قتل کیا پھر اْس سے بھی بڑا تکبر یا جرم اْس کی کردار کشی کا کیا، اس پر مزید لعنتیں ہی اْن پر پڑیں، مجھے بھی نشانہ بنایا گیا، دس ہزار ویڈیوز اپنے ’’ملازم کریمینل رپور ٹر ‘‘ سے میری کردار کشی کی وہ مزید بنوا لیں مجھے اْس رستے سے نہیں ہٹا سکتے جو حق اور سچ کا ہے، زندگی و موت، عزت و ذلت کا مالک رب ہے ، یہ اختیارات اللہ نے ظالموں کو دئیے ہوتے یہ کائنات کب کی ختم ہو چکی ہوتی، تکبر صرف اللہ کو جچتا ہے، زمینی خدا کب تک اس تکبر کو اپنی ’’شان‘‘ بنائے رکھیں گے؟ ایک نہ ایک دن اْنہیں اْس مظلوم باپ کا صبر ضرور پڑے گا جو ایک طرف اپنی بیماریوں کی جنگ لڑ رہا ہے، دوسری طرف انصاف کے حصول کی جنگ لڑ رہا ہے اور سب سے بڑی جنگ وہ یہ لڑ رہا ہے روز جب شام کو وہ اپنے گھر واپس جاتا ہے اْس کی بیوی، اْس کی بہو (مقتول احمد جاوید کی بیوہ) اْس کی اسی سالہ بوڑھی بیمار ماں اور سب سے بڑھ کر مقتول احمد جاوید کا اڑھائی سالہ بچہ یعنی اْس کا پوتا اپنی توتلی زبان میں اْس سے پوچھتا ہے، ’’عادل صاحب میرے بابا کے اصل قاتل کا کیا بنا؟‘‘ (یاد رہے مقتول احمد جاوید کا بیٹا اپنے دادا کو عادل صاحب کہتا ہے)، گھر کے باہر کسی گاڑی کا ہارن بجے وہ دوڑ کر گیٹ کی طرف بھاگتا ہے، وہ سمجھتا ہے اْس کے بابا لوٹ آئے ہیں، گھر میں تعزیت کے لیے ابھی تک آنے والے مہمانوں کے پاس آ کر خاموشی سے وہ بیٹھ جاتا ہے، پھر اچانک اْن سے سوال کرتا ہے، ’’میرے بابا کب آئیں گے؟‘‘۔ اس کی باتیں سن کر مہمان رو پڑتے ہیں، کیا کریں دکھ ہی ایسا ہے۔
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
مقتول کے والد میاں عادل رشید پر مگر منیر نیازی کا یہ شعر فٹ بیٹھتا ہے
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں
ایک لمحہ آیا جب مجھے یقین تھا وہ رو پڑے گا، وہ لمحہ احمد جاوید کو آخری غسل دینے کا تھا، وہ دیکھ رہا تھا اْس کے بیٹے کا جسم گولیوں سے چھلنی ہے مگر وہ نہیں رویا، اْس وقت بھی نہیں رویا جب احمد جاوید کا جنازہ اْٹھا ہر انکھ اشکبار تھی ہر طرف بین تھے چیخ و پکار تھی، اپنی بیمار و بوڑھی ماں کی معمولی سی تکلیف جس سے برداشت نہیں ہوتی اْس روز وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی وہ اپنی ماں کے رونے پر بھی اْس روز نہیں رویا، وہ اْس وقت بھی نہیں رویا جب اْس کے اکلوتے لخت جگر کو لحد میں اْتارا گیا، کل بھی ایک لمحہ آیا، میرا بیٹا جب اْس کے گھر سے جانے لگا ابھی دروازے سے وہ باہر نہیں نکلا تھا اْس نے آواز دے کر اْسے واپس بلایا اور کہا ’’یار پْتر میرے سینے سے لگ جاؤ، میں نے کبھی احمد جاوید کو سینے سے نہیں لگایا تھا، میں یہ کمی اب بہت محسوس کرتا ہوں، مجھے اگر پتہ ہوتا اْس ’’خبیث‘‘ نے اتنی جلدی ہمیں چھوڑ جانا ہے میں روز اْسے سینے سے لگاتا‘‘۔ یہ بات کہتے ہوئے بھی وہ مسکرا رہا تھا اور اْس کے پاس کھڑے لوگ اْس کی یہ بات سن کر رو رہے تھے، کیا یہ ممکن ہے اللہ اْس کے اس صبر اور شکر کا انعام اْسے نہ دے؟ یار کیسا شاندار شخص ہے اپنے بیٹے کے جنازے سے لے کر ابھی تک کسی کو یہ کہنے کا اْس نے موقع ہی فراہم نہیں کیا کہ ’’میاں صاحب صبر کریں‘‘، میاں صاحب کسی کے سامنے روتے ہی نہیں تو کوئی کیوں اْن سے یہ کہے گا ’’میاں صاحب صبر کریں؟‘‘، وہ ابھی تک شْکر کے مقام پر ہے
جے سوہنا میرے دْکھاں وچ راضی
تے میں سْکھاں نْوں چولہے ڈانواں
صبر کا مقام بعد کا ہے اور وہ شْکر کے مقام سے شاید ہلکا ہے۔ میرٹ پر تفتیش مکمل ہو گئی تھی، جج فیصلہ سنانے کے قریب تھا مگر ملزم عبداللہ کھوکھر کے عزیزوں نے تبدیلی تفتیش کی درخواست دے دی جو فوراً منظور کر لی گئی، ظاہر ہے یہ اْن کا حق تھا، اب اپنا یہ حق مقتول احمد جاوید کے والد بھی آگے چل کر شاید استعمال کریں مگر اس مْلک میں تاریخ پہ تاریخ اور جائز ناجائز حقوق کا یہ کیسا نظام رائج ہے جس میں ملزمان آزاد اور مقتول کے ورثا دربدر ہوتے ہیں؟ میں اکثر سوچتا ہوں اللہ کو پتہ تھا زمین پر لوگ ایک دوسرے کو انصاف نہیں دیں گے اسی لیے اللہ نے اپنا ایک ’’یوم انصاف‘‘ مقرر کیا، روز محشر کوئی قاتل کوئی ظالم نہیں بچ سکے گا، کوئی تفتیش تبدیل نہیں کرا سکے گا نہ کوئی اپنی اندھا دْھند طاقت کا دھونس جما سکے گا، پاکستان میں اب قتل کرنا جْرم نہیں قتل ہونا جْرم ہے، مقتول کو قبر سے نکال کر اس ’’جْرم‘‘ میں اْس کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے کہ تم اتنی آسانی سے آخر قتل کیسے ہو گئے؟، ملزم یا اْس کے عزیزوں کی درخواست پر تبدیلی تفتیش کس بنیاد پر ہوئی؟ مجھے نہیں معلوم، ممکن ہے میاں عادل رشید کو اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہو ’’آپ چونکہ تبدیلی تفتیش کے اس بورڈ میں اپنے مقتول بیٹے احمد جاوید کو ساتھ لے کر نہیں آئے چنانچہ ملزمان کی درخواست پر تفتیش تبدیل کی جاتی ہے‘‘۔