گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کو گورنر کا منصب سنبھالے دو سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ ان دو برسوں میں بطور گورنر انہوں نے نہایت سنجیدگی اور بردباری سے اپنے فرائض منصبی سر انجام دئیے ہیں۔ ماضی میں ہم نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب گورنر ہاو¿س سیاست کا اکھاڑہ بنا رہا۔ تاہم اس وقت حالات مختلف ہیں۔ اگرچہ آج گورنر ہاو¿س کے دروازے پیپلز پارٹی کے جیالوں، کارکنوں اور تمام سائلوں کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ سیاسی سرگرمیاں اور میل ملاقاتیں بھی جاری رہتی ہیں۔ لیکن حکومت مخالف بیان بازی اور تلخ نعرے بازی سننے کو نہیں ملتی۔ سر دار سلیم حیدر خان صاحب کا تعلق پیپلز پارٹی سے نہایت پرانا ہے۔ یہ صدر پاکستان آصف زرداری کے بااعتماد ساتھی ہیں۔ آپ تین وزرائے اعظم بشمول راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی اور شہباز شریف کی کابینہ میں مختلف وزارتوں کے وزیر رہے ہیں۔ تاہم گورنر کے طور پر ان کا نام سامنے آیا تو بیشتر لوگ انہیں جانتے تک نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ کہ پارٹی قیادت کے قریب ہونے اور تین مرتبہ وزیر رہنے کے باوجود انہوں نے نہایت خاموشی سے سیاست کرنے کو ترجیح دی۔ اپنی جماعت، کارکنوں اور اپنے حلقے کے لوگوں کیساتھ روابط قائم رکھے۔ تاہم تشہیر سے ہمیشہ دور رہے۔ گزشتہ دو سال میں پنجاب حکومت کے ساتھ بھی ان کے معاملات متوازن رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے کبھی حکومت کے کسی کام یا قانون سازی پر اعتراض یا تنقید نہیں کی۔ اپنے آئینی اختیارات کے دائرہ میں رہتے ہوئے، انہوں نے اپنے اعتراضات اور تجاویز حکومت تک پہنچائیں، تاہم ان معاملات کو خبروں کی زینت نہیں بنایا۔
چند دن پہلے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے جامعہ پنجاب کے فلم اینڈ براڈ کاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے طالب علموں کیساتھ گورنر ہاو¿س میں ایک نشست رکھی۔ نشست کا مقصد تھا کہ مختلف تعلیمی امور پر طالب علموں کے ذہنوں میں جو سوالات ہیں گورنر صاحب ان کے جواب دے سکیں۔ طالب علموں کے اس گروپ میں ایسے نوجوان بھی شامل تھے جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ مختلف اخباروں اور ٹیلی ویژن چینلوں کیساتھ بھی منسلک ہیں۔ لہٰذا گفتگو تعلیمی معاملات تک محدود نہیں رہی۔ نوجوانوں نے تعلیمی امور کیساتھ ساتھ، مختلف سیاسی سوالات بھی کئے۔ ان کی ذاتی زندگی ، بچپن ، تعلیم، رہن سہن، مذہب کے بارے میں سوالات پوچھے۔ یہاں تک کہ پنجاب حکومت کیساتھ گورنر کے تعلقات پر بھی سوالات کئے۔ اس طویل نشست کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ نوجوانوں کو ہر قسم کا سوال پوچھنے کی آزادی تھی۔ روائتی سیاست دانوں کے برعکس، گورنر صاحب نے جواب بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے دئیے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے ہماری سیاست میں تلخ اور زہریلے لہجے عام ہو گئے ہیں۔ سیاسی عدم برداشت بھی عروج پر ہے۔ ان حالات میں یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ گورنر پنجاب نے اپنے سیاسی مخالفین کے نام بھی احترام سے لئے اور بعض مواقع پر ان کی کھلے دل سے تعریف بھی کی۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور بلاول بھٹو کا عمدہ الفاظ میں ذکر کیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام، اسلامی ممالک کی کانفرنس اور دفاعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کا احاطہ کیا۔ صدر زرداری کے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی اہمیت بیان کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے میاں نواز شریف کا بھی مثبت انداز میں ذکر کیا۔ کچھ نوجوانوں نے پنجاب گورنمنٹ کیساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں پوچھا اور گورنر کے اختیارات کے بارے میں سوال کیا۔ گورنر صاحب کا جواب حیران کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ بطور گورنر میں کون سا ووٹ لے کر آیا ہوں؟۔ جو لوگ ووٹ لے کر آئے ہیں (یعنی وزیر اعلیٰ اور اسمبلی) فیصلہ سازی کے زیادہ اختیارات ان کے پاس ہی ہونے چاہئیں۔ فلم انڈسٹری کے زوال کی بات چلی تو انہوں نے پنجاب حکومت کے فلم سٹی پروجیکٹ کی تعریف کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز اور سینئر وزیر مریم اورنگ زیب کو خراج تحسین پیش کیا۔ حکومت کے فلم اتھارٹی بل کی نہایت تعریف کی۔
نوجوانوں نے ملازمتوں اور آگے بڑھنے کے مواقع کی کمی کا ذکر کیا۔ سرکاری یونیورسٹیوں کی فیسوں میں اضافے کا شکوہ کیا۔ گورنر صاحب نے یہ بات تسلیم کی کہ واقعتاً یہ مسائل موجود ہیں اور عوام نہایت مشکل میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ اس مشکل صورتحال کے سیاست دان ذمہ دار ہیں اور تمام بااختیار طبقات بھی۔ لیکن انہوں نے امید کا پیغام بھی دیا۔ فرمایا کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ پروٹوکول پر بات چلی تو انہوں نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر پروٹوکول کے مخالف ہیں۔ لیکن سکیورٹی کی صورتحال اچھی نہیں ہے اس وجہ سے ہمارے منصب کا تقاضا ہے کہ ہمیں سکیورٹی فراہم کی جائے۔ آخر میں یہ بھی کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہمارے پروٹوکول کا بوجھ عوام کو سہنا پڑتا ہے۔ فلم ڈیپارٹمنٹ کے طالب علموں کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ پچپن میں وہ بے حد شرارتی تھے۔ والدین کی ڈانٹ ڈپٹ کے کچھ واقعات بھی سنائے۔ بتایا کہ نوجوانی میں چھپ چھپا کر سینما میں جا کر فلم دیکھا کرتے تھے۔ تاہم بعد ازاں سیاسی مصروفیات کی وجہ سے کسی اور شے کا وقت نہیں مل سکا۔ کم و بیش چالیس سال سے کوئی فلم مکمل نہیں دیکھ سکے۔ پھر ہنستے ہوئے کہنے لگے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ میرا فلم دیکھنے کے بارے میں کوئی فتویٰ ہے۔ ہر وقت تسبیح پڑھنے کا سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو میرے رب کا حکم ہے کہ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے، پھرتے، اللہ کو یاد کرو۔ تو بس اللہ کے اس حکم پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بنیادی طور پر گورنر صاحب ایک دین دار آدمی ہیں۔ گورنر ہاو¿س میں وقتاً فوقتاً مختلف مذہبی اور فلاحی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ میلاد کی محفلیں بھی سجتی ہیں۔ ان کی جماعت کے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ پیپلز پارٹی کے بجائے کسی مذہبی تنظیم کا گورنر لگتا ہے۔ اس نشست میں انہوں نے خواتین اور بچیوں کے پردے کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔ بتایا کہ اپنی بیٹی کے لئے ان کی خواہش تھی کہ وہ عبایا پہن کر یونیورسٹی جایا کرے۔ نوجوانوں کو پیغام دیا کہ دنیا ضرور کمائیں تاہم اللہ کے ساتھ بھی اپنا رابطہ رکھیں۔ انہوں نے بچوں کو دین اور اخلاقیات پر عمل کرنے کا ایک مثبت پیغام دیا۔
آخر میں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ انہوں نے گورنر کا عہدہ سنبھالا تو جامعات کی اپیلیں دو سال سے زیر التوا تھیں۔ صوبائی محتسب کی اپیلوں پر بھی تین سال سے فیصلے نہیں ہو رہے تھے۔ انہوں نے یہ تمام اپیلیں نمٹائیں اور فیصلے جاری کیے۔ کچھ دن پہلے گورنر صاحب سے میری ملاقات ہوئی تو وہ مختلف جامعات کی اپیلیں سن رہے تھے۔ میں بھی خاموشی سے اس کارروائی کو دیکھتی رہی۔ میں نے مشاہدہ کیا کہ چند اپیلوں پر انہوں نے قانونی پہلوو¿ں کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھ کر فیصلے جا ری کیے۔ یہ واقعہ بھی قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے انہیں ایک ایسی اپیل سننا پڑی جس میں ان کے ایک نہایت قریبی عزیز کی بیٹی فریق تھی۔ سٹاف کا خیال تھا کہ فیصلہ اس بچی کے حق میں ہی آئے گا۔ تاہم گورنر صاحب نے نہ صر ف فیصلہ انصاف اور قانون کے مطابق کیا بلکہ اس بچی کو بطور بزرگ اضافی تنبیہ بھی کی۔