Wed, September 16, 2026

پاکستان اور افواج پاکستان کیساتھ کھڑے ہونے کا وقت

پاکستان اور افواج پاکستان کیساتھ کھڑے ہونے کا وقت

مصور، ادیب، شاعر، مکالمہ نگار ہی نہیں بلکہ ہر تخلیق کار حساس ہوتا ہے۔ بے حس انسان درد آشنا نہیں ہو سکتا جو کسی کی مدد کو محسوس نہیں کر سکتا وہ کچھ بھی تخلیق نہیں کر سکتا۔ ایک شاعر بے مثال نے کہا۔
دو ہی وقت زندگی میں مجھ پہ گزرے ہیں گراں
ایک تیرے آنے سے پہلے ایک تیرے جانے کے بعد
وطن عزیز پاکستان پر متعدد وقت بہت گراں گزرے ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ پاکستان میں ہر خاص و عام بے سروسامانی کی حالت میں تھا، ایسے میں بھارتی جارحیت کا مقابلہ آسان نہ تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل گریسی کو حکم دیا کہ اس جارحیت کا مقابلہ کیا جائے۔ جنرل گریسی برطانوی فوجی تھے، ان کی ہمدردیاں پاکستان کی نسبت برطانیہ کے ساتھ تھیں۔ وہ برطانیہ سے احکامات لیتے رہتے تھے۔ انہوں نے بانی پاکستان کی بات پر کان نہ دھرا۔ بعدازاں جنرل گریسی کا چال چلن دیکھنے کے بعد متبادل کے طور پر مجاہدین کی طرف توجہ ہوئی جو جوق در جوق کشمیر پہنچے۔ انہوں نے بے مثال جرأت و بہادری سے بھارتی فوج کا مقابلہ کیا اور ان سے کچھ علاقہ خالی کرانے میں کامیاب رہے، یہ معرکہ کیسے لڑا گیا اس کا سہرا مجاہدین کے علاوہ ان فرزندان پاکستان کے سر بھی ہے جنہوں نے اس حوالے سے روابط لاجسٹک انتظامات کئے، ان کے نام جانے کن وجوہات کی بنا پر سامنے نہیں لائے گئے۔ عقل حیران ہے ہم روز اول سے مصلحتوں کے اسیر رہے۔ جنگ ستمبر تو ابھی کل کی بات ہے ،6ستمبر کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، قریباً گیارہ بجے صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا۔ ٹھیک چند گھنٹوں میں نہیں بلکہ لمحوں میں پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔ وقت نے ثابت کیا عوام فوج ہیں اور فوج عوام کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتی، وقت آگے بڑھ گیا۔ جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان تھے۔ راجیوگاندھی بھارت کے وزیراعظم تھے، ان کے دماغ میں خلل پیدا ہو گیا کہ وہ کوئی بڑی مہم جوئی کر کے بھارتی عوام کو خوشخبری دے سکتے ہیں۔ پاکستان افغانستان پر توجہ مذکور کئے ہوئے تھا، جہاں روس کے خلاف معرکہ آرائی جاری تھی۔ بھارتی افواج ہدایات کے مطابق پاکستانی سرحدوں پر جمع ہو رہی تھیں۔ انٹیلی جنس نے ثبوت کے ساتھ خبر دی کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سفارتی ذرائع سے بھارت کو سمجھانے کی کوشش کی گئی تو بھارتی حکومت نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ بھارتی افواج اپنی روٹین کی مشقیں کر رہی ہیں۔ انہی ایام میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کے دورے پر تھی۔ بھارتی حکومت بظاہر کرکٹ میلے میں مصروف نظر آئی لیکن درپردہ جارحیت کی تیاریاں جاری تھیں۔ بھارتی منصوبہ یہ تھا کہ جیسے ہی پاکستان کی کرکٹ ٹیم اپنا دورہ مکمل کر کے پاکستان واپس پہنچے گی، بھارت ہمیں سرپرائز دے گا اور بھارتی فوج حملہ آور ہو جائے گی۔ جنرل ضیاء الحق نے کمال جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچانک بھارت جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو فقط چند گھنٹے قبل مطلع کیا کہ وہ پاکستان و بھارت کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے کیلئے بھارت پہنچ رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم اور حکومت جنرل ضیاء الحق کے اس فیصلے سے ہکابکا رہ گئی۔ پاکستان میں بھی متعدد شخصیات نے انہیں بھارت کے دورے سے روکنے کی کوششیں کرتے ہوئے کئی تاویلیں پیش کیں لیکن وہ نہ مانے، وہ دھڑلے سے بھارت گئے۔ انہوں نے پرسکون انداز میں میچ دیکھا۔ بھارتی فوجی حکام انٹیلی جنس کے لوگ اور اعلیٰ بھارتی سرکاری حکام جنرل ضیاء الحق کو پرسکون دیکھ کر حیران و پریشان تھے۔ جنرل ضیاء الحق واپسی کیلئے ائیرپورٹ پہنچے، سب سے الوداعی مصافحہ کیا اور اپنے طیارے کی طرف بڑھ گئے۔ وہ طیارے کی سیڑھی تک پہنچ کر واپس آگئے۔ انہوں نے راجیوگاندھی کو اشارے سے اپنے قریب بلایا اور ان کے کان میں کہا۔ مسٹر راجیو میں صرف یہ کہنے کیلئے واپس پلٹا ہوں کہ ہم نے جو پٹاخہ بنایا ہے وہ الماری میں سجانے کیلئے نہیں چلانے کیلئے بنایا ہے، وقت پڑنے پر ہم اسے چلا دیں گے۔ جنرل ضیاء الحق یہ کہہ کر طیارے میں سوار ہو گئے۔ راجیوگاندھی کے ساتھ ائیرپورٹ پر جو اہم شخصیات موجود تھیں، ان کا کہنا ہے کہ راجیوگاندھی کے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا، وہ واپس اپنے دفتر پہنچے تو انہوں نے اپنے آرمی چیف کو فوراً فوجیں پاکستان کی سرحد سے واپس بلانے کا حکم دیا تو وہ بھی بہت حیران ہوئے۔ یوں جنرل ضیاء الحق کی جرأت مندی سے ایک یقینی جنگ ٹل گئی۔
جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو ایک مرتبہ پھر بھارت کے دل میں یہ خیال انگڑائیاں لینے لگا کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی کامیاب مہم جوئی کر سکتا ہے۔ عجب اتفاق ہے بھارت میں جب بھی حکومت کمزور پڑتی ہے وہ پاکستان پر حملے کا ارادہ باندھ کر اپنے اندرونی خلفشار پر قابو پانے کی کوششیں کرتی ہے۔ جنرل مشرف مضبوط اعصاب کے آدمی تھے۔ انہوںنے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے بھارتی حکومت کو دوٹوک الفاظ میں پرامن رہنے کا پیغام بھیجا لیکن جب دیکھا کہ بھارت امن کی زبان سمجھنے کیلئے تیار نہیں اور فوجیں پاکستان کی سرحد پر اور کشمیر میں اکٹھی کر رہا ہے تو انہوں نے بھارت کو موثر جواب دینے کی ہدایات جاری کر دیں۔ پاکستان کی فوج سرحدوں پر پہنچ گئی۔ فضائیہ اور نیوی نے اہم مقامات سنبھال لئے۔ بھارت نے جنرل مشرف اور پاکستانی فوج کے ساتھ عوام کا موڈ دیکھا تو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ آج بھارت کے اندر خلفشار ہے جس سے توجہ ہٹانے کیلئے اس نے ایک مرتبہ پھر وہی طریقہ آزمانے کی کوشش کی ہے جو وہ پہلے بھی آزما کر ندامت اٹھا چکا ہے۔ پاکستان کو دھمکی دے کر حالت جنگ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تعلقات میں سدھار کی بجائے بگاڑ پیدا کرنے سے اسے کچھ حاصل نہیں ہو گا حالانکہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں متعدد مرتبہ خیرسگالی کا ہاتھ بڑھایا لیکن پاکستان کو مثبت جواب نہ ملا، پاکستان کے اندر تخریب کاروں کو اسلحہ ٹریننگ دے کر درجنوں مرتبہ بھجوایا گیا۔ کلبھوشن اور ابھینندن کسی کو نہیں بھولے، دہشت گردی کی واردات کے ڈانڈے بھارت سے ملتے ہیں۔ لگتا ہے اس نے پرامن انداز میں کسی مسئلے کو حل نہیں کرنا۔ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزیاں اس کا شغل ہے۔ ہمیں ابھی دشمن کے بچوں کو پڑھانے کی بجائے اب دشمن کو سبق پڑھانا ہو گا، اس کے مکروہ فعل کی مذمت کی بجائے اب اس کی مرمت کرنا ہو گی۔ ہمیں ہمیشہ کی طرح آج بھی پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ سیاست کیلئے کوئی اور وقت منتخب کرلیں۔ پچیس کروڑ اہل وطن کے امتحان کا وقت آن پہنچا ہے۔

ٹیگز: