Wed, September 16, 2026

بڑا مقصد اور بڑی سوچ فتح پاتے ہیں

بڑا مقصد اور بڑی سوچ فتح پاتے ہیں

 1989ء  میں ہیلے کالج آف کامرس پنجاب یونیورسٹی سے کامرس میں ماسٹرز کیا وہاں بہترین اساتذہ موجود تھے جن میں پروفیسر انیس احمد صدیقی، پروفیسر سعید، پروفیسر نذیر احمد چوہدری، پروفیسر عبد الرحیم، پروفیسر عبدالغنی ،پروفیسر طیب گلزار ،پروفیسر سعید نعیم  پروفیسر لیاقت علی، خالد محمود چیمہ اورپروفیسر ناصر علی سید جیسے کہنہ مشق اساتذہ کا طوطی بولتا تھا۔
یہ سب اپنی اپنی جگہ سپر سٹار تھے، پروفیسر ناصر علی سید یوں توStatistics کے ٹیچر تھے، لیکن عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل بھی ہمیں بتایا کرتے۔ یہ کوئی نہ کوئی حکایت یا واقعہ ایسا سناتے کہ عقل دنگ رہ جاتی، وہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کا فن خوب جانتے تھے۔ ایک دن سنانے لگے، جنگل میں شیر کوبھوک لگی تو وہ ہرنی کے شکار کے لیے اس کے پیچھے بھاگا۔ ہرنی نے جان بچانے کے لیے دوڑ لگا دی اور جھاڑیوں میں روپوش ہو گئی۔اورشیر اسے ڈھونڈتا رہ گیایہ سب کچھ ہاتھی دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا ہاتھی نے شیر کو طعنہ دیا کہ ہرنی تمہارے قابو نہیں آئی تم کیسے شیر ہو؟ شیر نے ہاتھی کو کہا ہاتھی صاحب یہ شیر اور ہرنی کا مقابلہ نہیں تھا یہ دو مقاصد اور دو سوچ کا مقابلہ تھا میرا مقصد اور سوچ اپنی بھوک مٹانا تھا اور ہرنی کا مقصد اور سوچ اپنی جان بچانا تھا اس کی سوچ اور مقصد میری سوچ اور مقصد سے اعلیٰ تھی لہٰذا کامیابی ہرنی کو ملی یہ حکایت یا واقعہ سنانے کے بعد پروفیسر ناصر علی سید نے ہمیں کہا کہ آپ اپنی سوچ اور زندگی کے مقاصداعلیٰ اورارفع رکھیں کامیابی آپ کا مقدر بنے گی۔
 6مئی سے 10 مئی 2025ئ، انڈیا پاکستان کے واقعات پر غور کریں، تو نظر آئے گاکہ انڈیا اپنی طاقت، جنگی سازو سامان، ریزر وفنڈ، رافیل طیارے، براہموس میزائل اور جدید ترین توپوں اور ٹینکوں کے بل بوتے پر پاکستان پر چڑھ دوڑا۔ جنوبی ایشیا میں وہ اپنی چوہدراہٹ اور تھانیداری قائم کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ خود غرضی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی کے گھوڑے پر سوار تھا وہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا پاکستان کو غزہ بنانا چاہتا تھا جو کہ گھٹیا سوچ تھی۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کی سوچ یہ تھی کہ کس طرح انڈیا کو جنگ سے روکا جائے، کس طرح پاکستان کے عوام کے جان و مال کی حفاظت کی جائے، اب مقابلہ ان دو سوچوں، دو مقاصد کے درمیان تھا، پاکستان کی سوچ، انڈیا کی سوچ سے بہت اعلیٰ اور ارفع تھی رزلٹ کیا آیا، اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ سوچ اور اعلیٰ مقاصد کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ دنیا میں پاکستان سرخرو ہوا چرچا ہوا پاکستان کا اور دنیا نے رائے تبدیل کی کہ انڈیا نے بہت زیادتی کی ہے۔ اور انڈیا کا نام نہاد پہلگام واقعہ دریا برد ہو گیا اب مودی سرکار ذلت کی آگ میں جل رہی ہے کوئی ملک بھی پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو اہمیت نہیں دے رہا۔
10 مئی2025 ء کے بعد دنیا کے سامنے ایک نیا پاکستان وجود میں آیا۔ ایک ایسا پاکستان جس میں نہ کوئی پنجابی تھا، نہ کوئی سندھی، نہ کوئی پٹھان تھا، نہ کوئی بلوچی، نہ کوئی امیر تھا، نہ کوئی غریب، نہ کوئی مالک تھا، نہ کوئی نوکر، سب پاکستانی تھے، سب ایک تھے، سب کا مقصد اور سوچ ایک تھی، سب متحد تھے، سب ایک قوم تھے۔سب مل گئے ایک ہو گئے اور بہت بڑی طاقت بن گئے۔
آپس میں اتحاد کسی بھی ملک کی طاقت ہوتی ہے۔ اتفاق میں برکت بھی ہے اور طاقت بھی۔ میں نے پہلے بھی ایک  کالم میں لکھا تھا اس طاقت کو بکھرنے نہیں دینا۔ مگر افسوس تقریبا ًہر سیاسی جماعت میں کچھ کارندے ایسے ہیں جنہوں نے اس طاقت پرنفرت کی چوٹیں لگانی شروع کر دی ہیں۔ میری طاقتور اداروں سے گزارش ہے کہ وہ ان جماعتوں کو وارننگ دیں کہ وہ ایسے ٹویٹ اور پریس ٹاک سے اپنے کارندوں کو دور رکھیں۔ افواجِ پاکستان نے اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے  اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا جس کے نتیجے میں قوم نے افواجِ پاکستان کو بے پناہ عزت دی ہے یہ ادارہ اب اپنے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیر کی قیادت میں انشاء اللہ اپنی حکمت عملی ازسرے نو ترتیب دے گا اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے جہاں جہاں بہتری کی گنجائش ہو جہاں جہاں مزیدتبدیلی کی ضرورت ہو جہاں جہاں بیک فٹ پر جانے کی ضرورت ہو جہاں جہاں فرنٹ فٹ پر جانے کی ضرورت ہو عاصم منیر آپ فوراً بہتری کے لیے قدم اٹھائیں قوم آپ کے ساتھ ہے کہ اعلیٰ مقاصد کو جلدپانے کے لئے سیاسی قیادت اپنی اپنی انا کے بت پاش پاش کریں کیونکہ پاکستان کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
 ہندو بنیا آرام سے بیٹھنے والا نہیں آج بھی پسِ پردہ بہت سی قوتیں انڈیا کے ساتھ ہیں۔سرحدوں پر جاگتے رہنے اور آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے اسرائیل اور مغربی طاقتیں ہماری آزادی کی دشمن ہیں کچھ اسلامی ممالک بھی اپنے اپنے مفادات کے لیے ہندوستان پر مہربان ہیں سفارتی محاذ پر حکومتی ٹیم تشکیل پا چکی ہے جس کی سربراہی بلاول بھٹو زرداری کو سونپی گئی ہے اللہ تعالیٰ اس ٹیم کو اپنے فرائض سرانجام دینے کے لئے مطلوبہ عقل اور شعور عطا فرمائے اللہ کرے یہ ٹیم دنیا کے سامنے اپنے مؤقف کو بہتر انداز میں پیش کر سکے بھارت کو دہشت گرد اور پاکستان کو مظلوم ثابت کرسکے۔ 
جو ذمہ داری اس ٹیم کے کندھوں پر آئی ہے یہ کوئی آسان ذمہ داری نہیں بلاول بھٹو کے نانا مرحوم ذوالفقار علی بھٹو صاحب سابقہ وزیراعظم اور والدہ بے نظیر بھٹو صاحبہ سابقہ وزیراعظم سفارت کاری کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دے چکے اور اپنا لوہامنوا چکے اب بلاول بھٹو کو چاہئے کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بھرپور تیاری کے ساتھ میدان  کارزار میں اتریں اور کامیابی کے جھنڈے گاڑیں قوم ان کے ساتھ ہے۔

ٹیگز: