Wed, September 16, 2026

ٹرمپ کی فوجی اکیڈمی میں پرجوش تقریر، نیٹو اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید

ٹرمپ کی فوجی اکیڈمی میں پرجوش تقریر، نیٹو اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید

نیو یارک : سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کی مشہور ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی فوج، نیٹو اتحادیوں اور موجودہ حکومت کی تنوع و مساوات کی پالیسیوں پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ ٹرمپ نے خود کو فوجی طاقت کی بحالی کا اصل محرک قرار دیا۔

ٹرمپ نے کیڈٹس، ان کے اہلِ خانہ اور ہزاروں حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کا اصل مشن ملک کے دشمنوں کو شکست دینا اور قومی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنانا ہے، نہ کہ ثقافتی اصلاحات یا شوز کی میزبانی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں فوج کو سیاسی نظریات سے پاک کر دیا گیا ہے، اور انہوں نے صدر بائیڈن کے دور میں رائج کیے گئے مساوات، شمولیت اور تنوع کے منصوبوں کو ختم کر دیا ہے۔

سابق صدر کا کہنا تھا:"ہم نے اپنی مسلح افواج کو نظریاتی دباؤ سے آزاد کیا ہے۔ نہ کوئی زبردستی کا ایجنڈا ہوگا، نہ نسلی تعصب پر مبنی تعلیمات۔"

ٹرمپ نے نیٹو اتحادی ممالک پر تنقید دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے لیے امریکا پر انحصار کرتے ہیں لیکن دفاعی اخراجات میں اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں بھی امریکا کو کئی دہائیوں سے دھوکہ دیا جاتا رہا ہے، لیکن "اب ہم مزید یہ برداشت نہیں کریں گے۔"

یہ خطاب بظاہر ٹرمپ کی آئندہ صدارتی مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس میں وہ فوجی امور کو اپنے سیاسی بیانیے کا مرکزی نکتہ بنا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرمپ 14 جون کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والی امریکی فوج کے 250 ویں یومِ تاسیس کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوں گے۔ اسی دن ان کی سالگرہ بھی ہے۔

ٹیگز: