19مارچ کو فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب نے شیعہ علماءسے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں انھوں نے اپنی تقریر میں ایک جملہ کہا جسے ایک سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا ہینڈلرز نے اس کے اصل مفہوم سے ہٹ کر انتہائی غلط پیرائے میں پیش کیا اور پھر اس کے بعد اس گمراہ کن پروپیگنڈا کو ایک انتہائی گھناﺅنی سازش کے تحت سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیا گیا ۔ کہا گیا کہ فیلڈ مارشل صاحب نے کہا ہے کہ ” جسے ایران سے زیادہ محبت ہے وہ ایران چلا جائے “ ۔ فیلڈ مارشل صاحب کی پوری تقریر سے اس ایک جملہ کو لیا گیا اور اسے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پروپیگنڈا مہم کے طور پر وائرل کیا جانے لگا ۔ فیلڈ مارشل صاحب نے یہ جملہ کس پیرائے میں کہا تھا اس پر بات کرنے سے پہلے چند گذارشات ان ملک دشمن عناصر کے لئے کہ جنھوں نے فقط اپنے مذموم مقاصد کی خاطر اس گھناﺅنی سازش کے ذریعے ملک میں نفرت اور فساد پھیلانے کی ناکام کوشش کی ۔ سیاست کرنا ہر کسی کا حق ہے اور سیاست میں اختلافات بھی ہوتے ہیں لیکن ان اختلافات کو بنیاد بنا کر ماضی میں کبھی کوئی انھیں ملک دشمنی کی حد تک نہیں لے کر گیا ۔ سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب تھا ۔ اس وقت بھی ملک میں ایک انتہائی طاقتور اور موثر حزب اختلاف موجود تھی اور اس حزب اختلاف میں ملکی تاریخ کی بلند پایہ شخصیات شامل تھی جن میں مولانا شاہ احمد نورانی ، مولانا مفتی محمود ، ولی خان اور دیگر شامل تھے اور ان سب کے بھٹو صاحب کے ساتھ شدید نظریاتی اختلافات بھی تھے لیکن بھٹو صاحب جب ہندوستانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ مذاکرات کے لئے شملہ روانہ ہوئے تو ایئر پورٹ پر اس وقت کی پوری حزب اختلاف انھیں رخصت کرنے کے لئے موجود تھی اور اس کا مقصد بڑا واضح تھا کہ ہمارے آپس میں بے شک سیاسی اختلافات ہیں لیکن ہم دشمن کے مقابلے میں متحد ہیں ۔ یہ تو جنگ کے بعد اس وقت کی حزب اختلاف کی اعلیٰ ظرفی تھی لیکن اس کے مقابلہ میں گذشتہ سال جب پاک بھارت جنگ ہوئی تو جنگ سے پہلے دوران جنگ اور جنگ کے بعد فیلڈ مارشل صاحب سے ذاتی رنجش کی بنیاد پر ملک دشمنی کی تمام حدیں پار کر دی گئیں اور پوری دنیا حتیٰ کہ ہندوستان کے مودیوں نے تو پاکستان کی فتح اور ہندوستان کی شکست کو تسلیم کر لیا لیکن پاکستان کے مودیوں کو آج تک یہ حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ فیلڈ مارشل صاحب کی سربراہی میں اس بے مثال فتح کو تسلیم کر لیں ۔ ان جیسوں کے متعلق ہی علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ ملت ، ننگ ِ دین ، ننگ ِ وطن
موجودہ صورت حال دیکھیں تو اس خطہ کے سنگین حالات کہ جس میں جنگ دو ملکوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ اس میں وقت کی سپر پاور کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور آدھی درجن سے زیادہ عرب ممالک بھی شامل ہیں ۔ اس میں سعودی عرب بھی شامل ہے کہ جس کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ ہے اور دوسری جانب ایران جو کہ برادر پڑوسی ملک ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادس کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ اس کو اس جنگ کے دوران کہ جب امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شدید حملوں کا سامنا ہے اسے پاکستان یا کسی برادر عرب ملک سے کسی بھی قسم کا کوئی نقصان پہنچے اور اسی بات کا اظہار فیلڈ مارشل صاحب نے اپنی تقریر میں کیا تھا ۔ انھوں نے بڑا کھل کر ایران کے سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنائی کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار بھی کیا ۔ اب ہوا کیا تھا کہ علی خامنائی کی شہادت پر ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا اور یہ ایک فطری امر بھی تھا لیکن کراچی میں جس طرح اموات ہوئیں اور پھر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے جو لوگ اس فائرنگ میں ملوث پائے گئے وہ کسی شیعہ مذہبی جماعت کے رکن نہیں تھے بلکہ ایک خاص سیاسی جماعت کے رکن تھے جو ایک سازش کے تحت اس پر امن احتجاج کو خونی احتجاج میں بدل کر شیعہ برادری کو بدنام کر رہے تھے ۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں جو احتجاج ہوا تو اس میں بھی کچھ شر پسندو ںنے فوجی تنصیبات میں داخل ہو کر نہ صرف یہ کہ انھیں نقصان پہنچایا بلکہ شیعہ برادری اور ریاست کو آپس میں لڑوانے کے لئے کئی اہل کاروں کو شہید بھی کر ڈالا لیکن ریاست نے پھر بھی تحمل سے کام لیا ۔
اس صورت حال کا ذکر کر کے فیلڈ مارشل صاحب نے کہا تھا کہ اگر کسی کو پاکستان سے زیادہ ایران سے پیار ہے تو وہ ایران چلا جائے ۔ ہمیں فیلڈ مارشل صاحب کی اس بات سے ایک لمحہ کے لئے اختلاف نہیں ہوا اور اس کی ایک وجہ تو یہی تھی کہ انھوں نے یہ بات مفہوم عام میں نہیں بلکہ مفہوم خاص میں کہی تھی اور دوسری بات کہ ہم اپنی انہی تحریروں میں درجنوں بار یہی بات دہشت گردوں کے حماتیوں سے کہہ چکے ہیں کہ جنھیں پاکستان سے زیادہ افغانستان کی قیادت اچھی لگتی ہے جنھیں دہشت گردوں سے پیار ہے تو وہ افغانستان چلے جائیں لیکن ان کی بات نے جیسے بندر کے ہاتھ میں ماچس دے دی اور انھوں نے آگ لگانی شروع کر دی اور مزید بد قسمتی یہ ہوئی کہ شیعہ مسلک کے وہ علماءکہ جن کا تعلق اس مذہبی جماعت سے تھا کہ جن کا اتحاد تحریک انصاف سے ہے وہ بھی اس سازش کا آلہ کار بن گئے لیکن پھر عارف حسین واحدی ایسے غیر جانبدار اور حق پرست علماءنے عوام الناس اور خاص طور پر شیعہ برادری کے لوگوں کو اصل حقیقت بتانی شروع کی اور خدائے بزرگ و برتر کا بڑا کرم ہوا کہ ماضی کی طرح یہ سازش بھی اپنی موت آپ مر گئی۔