یروشلم/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اسرائیل کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے کے جواب میں ایران نے تل ابیب کے مضافاتی علاقوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 12 افراد کے زخمی ہونے اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں نے بنی براک اور گیوات شموئیل کے علاقوں میں تباہی مچائی۔ بنی براک میں ایک میزائل کے براہِ راست گرنے سے کثیر المنزلہ عمارتوں کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں 9 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک 23 سالہ نوجوان کی حالت سر اور پیٹ میں زخموں کے باعث تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی دفاعی نظام کے فعال ہونے کے باوجود پورے ملک میں 12 سے زائد فضائی الرٹس جاری کیے گئے۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے احاطے میں ایک اسرائیلی پروجیکٹائل گرا ہے، تاہم خوش قسمتی سے پلانٹ کی بنیادی تنصیبات اور عملہ محفوظ رہا۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے، جو ایٹمی مراکز کو فوجی حملوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔