Wed, September 16, 2026

گنڈاسہ کلچر

گنڈاسہ کلچر

گزشتہ دنوں گنڈاسہ کلچر کے بارے کچھ یادیں سمیٹ رہا تھا۔ وجہ یہ بنی کہ کراچی میں ایک دوست نے دوسرے دوست کو قتل کر دیا اگر پاکستانی ماحول میں آتے ہیں تو یہ کلچر آزادی 1947ء کے بعد ہی سے سیاسی لیڈروں نے متعارف کروا دیا اور پھر یہ سیاسی گنڈاسہ کلچر ہماری نسلوں کے حوالے کر دیا گیا۔ دیکھا جائے تو کل کے مقابلے میں گنڈاسہ کلچر کچھ زیادہ ہی ہر شعبے میں حملہ آور ہو رہا ہے۔ سیاست، کھیل، سول سوسائٹی اور خاص کر سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان ہر طرح کا گنڈاسہ چل رہا ہے اور اس سے بڑھ کر اب تو سوشل میڈیا نے گنڈاسہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور وہ اسے اس طرح چلا رہا ہے جس کا ذکر اس دور میں بھی نہیں تھا جب پاکستان کی فلم انڈسٹری کے اندر کہانی لکھنے والے نے بھی اس کو فلم کہانی کی حد تک لکھا ہوگا۔ گنڈاسہ کہانی ہے کیا آج میں آپ کو پہلے فلمی گنڈاسے کی کہانی سناتا چلوں تاکہ اس نسل کو گنڈاسہ کے بارے علم ہو سکے۔ 
اردو فلموں کے بعد فلم وحشی جٹ 1975ء نے پنجابی فلموں کے انداز کی بنیاد رکھ دی۔ ان دنوں روایتی ہیروز سدھیر ، حبیب، اعجاز ، بھٹی برادران زوال اور یوسف خان، اقبال حسن اور سلطان راہی کے عروج کا دور شروع ہو گیا اور سوشل اور رومانٹک فلموں کی جگہ پر تشدد ایکشن فلموں نے لے لی۔ اس میں غنڈے، بدمعاش ہیرو بنا کر پیش کئے جانے لگے۔ وحشی جٹ کے بعد ایکشن فلمیں بننے لگیں لیکن ان میں گنڈاسہ کلچر نہیں تھا۔ 
1979ء میں پاکستانی فلموں میں انقلاب آیا جب ہدایت کار یونس ملک کی فلم مولا جٹ نے باکس آفس پر تمام اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیئے۔ حالانکہ یہ فلم ایک ایسے دور میں آئی تھی جب پاکستان پر جنرل ضیاء الحق کی پرو اسلامک حکومت تھی۔ فلم وحشی جٹ کے بعد آنے والی فلموں میں ڈانگ سوٹے کی جگہ گنڈاسہ نے لے لی۔ فلموں سے روایتی مجرہ سین ختم کر دیئے گئے کیونکہ اب یہ خدمت فلمی ہیروئن سے لی جانے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کامیڈی کردار بھی ختم ہو گئے۔ اسی دور میں ویڈیو تکنیک بھی عام ہوگئی اور پڑوسی ملک کی فلمیںبھی ویڈیو پر نظر آنے لگیں جس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کی اردو فلموں کو پہنچا جو صرف کراچی اور حیدر آباد علاقوں تک محدود ہوکر رہ گئیں جبکہ پنجاب میں ایکشن پنجابی فلموں کا راج بڑھنے لگا۔ فلم کے ہیرو کا کام انسانوں کو گاجر مولیوں کی طرح کاٹنا اور ہیروئن کا مصرف پیشہ ور طوائفوں کی طرح ناچنا اور گانا ہی رہ گیا۔ گو بیشتر فلموں کا مرکزی خیال پاکستانی معاشرے کی سو فیصدی عکاسی ہوتی جہاں عدم انصاف کی صورت میں جرائم کا ارتکاب کرنا اور ایک مظلوم کا بدمعاش اور قانون شکن بن کر اپنے حقوق کے لئے لڑنا، کرپٹ پولیس، بد عنوان با اثر افراد اور معاشی بد حالی ان فلموں کا عام موضوع تھا۔اس دور میں سلطان راہی کا نام ایک ایسا برانڈ بن گیا تھا جو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا اور فلم بین فلم صرف سلطان راہی ہی کے لئے دیکھتے۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہ ہوتی کہ فلم بنانے والا یا اس میں اور کون ہے بس سلطان راہی نظر آنا چاہیے۔ اس وقت ملک بھر خصوصاً پنجاب میں سینماؤں کی بھرمار ہوتی تھی۔ یہ اور بات تھی کہ ٹیکس چوری کی وجہ سے خسارہ شوکر کے کالے دھن کو فروغ دیا جاتا اور بیشتر فلمیں بھی اسی کالے دھن سے بنائی جانے لگیں۔1979ء میں شروع ہونے والی اس پر تشدد جٹ اور گجر سیریز کا اختتام طویل عرصہ تک نہیں چل سکا۔ سلطان راہی کے بعد شان معمر رانا سعود اور بابر علی کو بھی اسی رنگ میں پیش کیا جاتا رہا۔ دیکھا جائے تو اس دور میں بعض فلمیں بڑے کمال کی بنیں جن میں وحشی گجر ، شیرخان، سالا صاحب، چن وریام اور اتھرا پتر، شعلے، قیدی اور آخری جنگ ، مولا بخش، کالے چور ۔ یہ سب ڈائمنڈ جوبلی سپر ہٹ فلمیں تھیں لیکن فلم چوروں کا قطب تو لازوال تھی۔ ہدایت کار وحید ڈار کی نغماتی فلم ’’کالیا‘‘ بھی یاد آتی ہے جس میں سلطان راہی نے ایک نیم پاگل شخص کا کردار بڑی عمدگی سے کیا۔ ہدایت کار حسن عسکری کی فلمیں طوفان اور مفرور میں متاثر کن ایکشن سے بھرپور تھیں۔ 
بیسویں صدی کے آخری دہائی میں جب پاکستانی فلم انڈسٹری کی کمر ٹوٹ چکی اور فلمی صنعت کا شیش محل زمین بوس ہو چکا تھا۔ تب بھی ماضی کی اس شاندار عمارت کا کچھ حصہ ایک مضبوط ستون کے سہارے کھڑا رہ گیا اور یہ ستون سلطان راہی کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ 9 جنوری 1996ء کی رات کو جب اسے نامعلوم لٹیروں نے قتل کر ڈالا۔ پاکستان کا مصروف ترین اداکار اور اسکی 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں۔ اسکی موت سے وہ آخری ستون بھی کھسک گیا اور فلمی صنعت کی رہی سہی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ اس جانکاہ حادثے کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری آج تک پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی۔ 
اور آخری بات…
یہ تو فلمی گنڈاسے کا دور تھا اب جدید دور میں جو گنڈاسہ کلچر پیش کیا جا رہا ہے اس نے تو فلمی دور کے گنڈاسہ کلچر کو بھی مات دے دی ہے جس کی مثال ٹیپو ٹرکاں والے کے قتل میں ملوث طیفی بٹ جیسے کردار پوری سوسائٹی پر چھائے ہوئے ہیں۔ پلس مقابلوں سے لے کر بدمعاش بنانے کے کلچر نے سب کو پریشان کر رکھا ہے اور نہ ختم ہونے والے اس سلسلے نے ایک پریشان کن ماحول بنا رکھا ہے نہ جانے کب کون کس پر گنڈاسہ چلا دے۔ خاص کر نوجوان نسل نے جو گنڈاسہ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ہے یہ ہمیں تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ 

ٹیگز: