(گزشتہ سے پیوستہ)
مسٹر ٹرنک کا ذاتی خدمت گار حالات کا جائزہ لینے کیلئے کمرے سے باہر نکلا تو میں سوچنے لگا کہ ٹرنک نے اصرار سے مجھے بلایا ہے تو اسے مجھ سے کیا کام ہو سکتا ہے، اچانک خیال آیا کسی لڑکی وڑکی کا چکر ہوگا یا پھر کسی بیوی سے کوئی پھڈا ہو گیا ہوگا، ابھی میں کسی نتیجے پر نہ پہنچا تھا کہ ملازم کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے بتایا صاحب واش روم سے باہر آ چکے ہیں اور آپ کے منتظر ہیں۔ ہم سب دوسرے کمرے کی طرف بڑھے تو دربان نے ہمیں روک کر کہا کہ صرف دو آدمی اندر جا سکتے ہیں، تیسرا نہیں۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب نے دو مہمانوں کے کھانے کا انتظام کیا ہے تیسرے کا نہیں، وہ بھی آپ کے ساتھ گیا تو روٹی تھُڑ جائیگی۔ مجھے یہ سن کر بہت غصہ آیا۔ میں نے اسے کہا کہ ہم پاکستان میں اگر صرف مسٹر اینڈ مسز کو دعوت پر بلائیں تو بھی دس آدمیوں کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں کیونکہ اکثر ہمارے مہمان اپنے مہمانوں کو ساتھ لے آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ اچانک آ گئے تھے، اب انہیں گھر چھوڑ کر تو نہیں آ سکتے تھے لہٰذا سوچا انہیں بھی ساتھ لے چلیں۔ دربان نے میری بات سنی تو کہنے لگا یہ امریکہ ہے پاکستان نہیں، مجھے اندازہ ہو گیا آج مسٹر ٹرنک اپنے پلے سے کھانا کھلائیں گے۔ اب شاید انہیں ایلون مسک جیسے اے ٹی ایم کارڈ کی سہولت میسر نہیں۔ میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اپنے تیسرے ساتھی کھٹمل شاہ کو اپنی جیب سے سو ڈالر کا نوٹ نکال کر دیا اور کہا آج ہم ایک کمینے شخص کے مہمان ہیں لہٰذا تم بازار سے نان چھولے کھا لو۔ میکڈونلڈ ہرگز نہ جانا۔ کھٹمل شاہ کو رخصت کرکے میں اور میرا ہم ناک ٹرنک کے کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ ایک صوفے پر نیم دراز تھا۔ وہ بمشکل اٹھا اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور زبردستی کی جپھی ڈالی۔ میں نے پہلے اس کے ہاتھ کے کڑاکے نکالے پھر اسے بازوئوں میں اٹھا کر پورا چکر لگا کر زمین پر کھڑا کیا تو وہ لڑکھڑا گیا۔ ٹرنک دراصل بیاسی برس کا بابا ہو چکا ہے اور کافی حد تک کھڑک چکا ہے اس لئے سلطان راہی سٹائل میں اب صرف بڑھکیں لگا سکتا ہے۔
میں نے نیلے رنگ کا سوٹ اور ٹائی پہن رکھی تھی۔ اس رنگ کا پیغام ہوتا ہے کہ میں آپ کے لئے خیرسگالی کے جذبات رکھتا ہوں، امریکہ میں نیلے سوٹ کے ساتھ کسی نے سرخ ٹائی پہنی ہو تو اس کا پیغام ہوتا ہے کہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے اور اس رشتے کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے نیلے سوٹ کے ساتھ پیلے رنگ کی ٹائی پہن رکھی تھی جس کا پیغام تھا کہ اس کے نزدیک ہماری کوئی اہمیت نہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر کچھ افسوس ہوا لیکن میں ضبط کئے رہا۔ ٹرنک نے بیٹھتے ہی یہ کہہ کر حملہ کیا کہ آج تو پورے سکیورٹی گارڈ ہی لگ رہے ہو۔ میں نے کہا ہاں میں اپنے ملک کا سکیورٹی گارڈ ہوں جبکہ تم اپنے ملک کے لئے سکیورٹی رسک ہو۔ میرا جواب سن کر وہ بھنا گیا، لاہور میں رہ رہ کر مجھ پر بھی لاہوری رنگ چڑھ چکا ہے۔ میں نے بھی کچھ لاہوری رنگ بازیاں سیکھ لی ہیں۔ میں نے درمیان رکھی میز ایک طرف ہٹائی اپنی ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی اور جوتے کا رخ ٹرنک کی طرف کر دیا، وہ ابھی کوئی اور جگت سوچ ہی رہا تھا کہ میں نے میز پر رکھے سگریٹ کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکالا، ماچس کی تیلی سے اسے سلگایا اور جان بوجھ کر جلتی ہوئی تیلی ٹرنک کی طرف اچھال دی جو اس کی ٹائی کا بوسہ لیتے ہوئے اس کی گود میں جا گری۔ میں نے سگریٹ کا بھرپور کش لگایا اور دھواں ٹرنک کے منہ پر چھوڑتے ہوئے کہا سوری، میری اس حرکت سے ٹرنک غصے میں لال پیلا ہو گیا، میں سگریٹ نہیں پیتا لیکن میں نے یہ سب کچھ ٹرنک کو اوقات میں لانے کے لئے کیا، نسخہ کارگر ثابت ہوا۔ ٹرنک نے جلتی ہوئی تیلی پرے پھینکی اور کہنے لگا کہ تمہارے سوری کہنے سے میری جلی ہوئی ٹائی اور سوٹ تو ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ میں نے لاپروائی سے جواب دیا ہاں ایسا ہی ہے لیکن تم لوگوں نے فلسطین اور غزہ میں ایک لاکھ افراد کو گولیوں اور بموں سے بھون دیا اور ایک مرتبہ بھی سوری نہیں کیا۔ تم لوگوں نے جھوٹ کو بنیاد بنا کر عراق کو برباد کر دیا اور سوری نہیں کہا، میں نے سوری کہہ دیا ہے اسے قبول کرو، ٹرنک کے پاس میری کسی بات کا جواب نہ تھا وہ کچھ سوچ رہا تھا کہ کھانا لگا دیا گیا۔ میں اور میرا ہم ناک ٹرنک اور اس کے دو ساتھی تھے میز پر کل پانچ برگر تھے۔ ٹرنک اور اس کے ساتھیوں نے سور برگر لے لئے اور ریڈ وائن کی چسکی لینے لگے۔ میں نے اور میرے ساتھی نے فش برگر لے لئے۔ ہم اپنا پانی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ٹرنک کا اعتبار نہ تھا کہ ٹوٹی کے پانی سے بھری بوتلیں ہمیں پیش کر دیتا، اس جیسا شخص کوئی بھی گری ہوئی حرکت کر سکتا ہے۔
کھانے سے فارغ ہوئے تو کہنے لگا تم تو جانتے ہو میں اس علاقے کا بڑا غنڈہ ہوں لیکن پہلے تم نے اور اب تمہارے ایک کزن نے میرے دو کزنوں کا مار مار کے بھرکس نکال دیا ہے جس سے میری ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اب لوگ مجھ سے ڈرنا چھوڑ دیں گے اور مجھے بھتہ نہیں دیا کریں گے لہٰذا تم اور تمہارا کزن میرے دونوں کزنوں سے معافی مانگو۔
میں نے اسے جواب دیا کہ تمہارے کزن نے پہلے مجھ پر حملہ کیا۔ میں نے برداشت کیا پھر تیسرے دن اسے جواب دیا اگر اس نے آئندہ ایسی حرکت کی تو اسے ایسا ہی جواب ملے گا جبکہ تمہارے ایک اور کزن نے میرے کزن پر پہلے خواہ مخواہ ہی حملہ کر دیا حالانکہ اس کے پاس ایٹم بم ہے ہی نہیں، نہ ہی وہ بم تیار کر رہا ہے اس نے تمہاری شہہ پر حملہ کیا ہے، اب اسے جواب مل رہا ہے، اسے برداشت کرو اور آئندہ محتاط رہو اور بندے کے پتر بنو۔ میرا ٹکا سا جواب سن کر ٹرنک کو یقین ہو گیا کہ ہم اتنے کمزور نہیں جتنا وہ ہمیں سمجھ رہا تھا لہٰذا اس نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔
ٹرنک کہنے لگا مجھے بلوچستان میں کچھ زمین دے دو میں وہاں فارم ہائوس بنانا چاہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا اگر تم نے واقعی فارم ہائوس بنانا ہوتا تو میں تمہیں زمین دے دیتا لیکن مجھے معلوم ہے تم نے وہاں جا کر کیا کنجر خانہ کرنا ہے لہٰذا سوری میں تمہیں ایک انچ بھی اپنی زمین نہیں دے سکتا، ٹرنک کو میری طرف سے ایسے جواب کی توقع نہ تھی اس کے کان لال ہونا شروع ہو گئے۔ میں نے بھی اپنی آنکھیں لال کر لیں۔ ٹرنک کچھ دیر رکا پھر کہنے لگا اچھا زمین نہیں دے سکتے تو ایک چھوٹا سا کام ہی کر دو۔ میں نے پوچھا وہ کیا تو کہنے لگا میرے شانے پر ایک فیتی لگوانے کیلئے میری مدد کرو اور مجھے اس کیلئے نامزد کر دو۔ میں نے اسے کہا کہ اس نے زندگی میں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا جس کے لئے اسے کسی اعزاز کیلئے نامزد کیا جا سکے۔ میرا جواب سن کر وہ آپے سے باہر ہو گیا اور کہنے لگا تمہارا باس میرا دوست ہے میں یہ کام ایک فون پر کروا سکتا ہوں۔ اس نے فون ملانا شروع کیا تو میں اس سے ہاتھ ملائے بغیر ہی واپس آ گیا۔ پہلی فلائٹ سے پاکستان پہنچا تو اطلاع ملی ٹرنک نے ایک فون پر اپنے کام کرا لئے ہیں لیکن مجھے یقین ہے ٹرنک یہ فیتی لگوانے کے بعد بھی دنیا بھر میں ذلیل ہوتا رہے گا۔ (ختم شد)