Wed, September 16, 2026

برکس کا قیام، طاقت کے روایتی مراکز میں تبدیلی

برکس کا قیام، طاقت کے روایتی مراکز میں تبدیلی

برکس ممالک دنیا کے زمینی رقبے کی تقریباً 27 فیصد اور عالمی آبادی کے 45 فیصد پر محیط ہیں جب کہ ان ممالک کی مجموعی قومی پیداوار 30 فیصد ہے۔ برکس کے قیام سے طاقت کے روایتی مراکز تبدیل ہو رہے ہیں۔ اقتصادی اور معاشی اجارہ داریاں توڑی جا رہی ہیں۔ یک محوری دنیا کا خاتمہ ہونے کو ہے۔ برکس ممالک امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کو چیلنج کر رہے ہیں جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعے ساری دنیا میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل اور قرضوں کی فراہمی پر اپنا تسلط اور اجارہ داری قائم کر رکھی تھی۔قدرت کے رنگ نیارے ہیں آج امریکی اور مغربی ممالک شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ شرح نمو میں کمی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کے مقابل دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں نے عالمی اقتصادی نظام میں بتدریج غیر محسوس انداز میں اپنا حصہ بہت بڑھا لیا ہے سب سے بڑھ کر برکس ممالک میں باہمی تجارت کے فروغ کی امکانات بہت زیادہ ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے اقتصادی جائزوں کے مطابق امریکہ اور اس کے حامی ترقی یافتہ ممالک کے درمیان تجارت میں 10 فیصد کمی ہوئی ہے جب کہ اس کے مقابل دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان تجارت میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں ہونے والے برکس اجلاس نے امریکی صدر کو اس قدر انڈر پریشر کیا ہوا تھا کہ انہیں یہ بیان دینا پڑا کہ برکس کے ساتھ ہم آہنگ ہونے والے ممالک کے خلاف 10 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل میڈیا نیٹ ورک پر ایک پوسٹ میں لکھا کوئی بھی ملک جو خود کو برکس کی امریکہ مخالف پالیسیوں سے ہم آہنگ کرتا ہے اس پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس پالیسی میں کوئی بھی رعایت نہیں ہو گی۔
ترقی پذیر ممالک کے وسیع تر ہوتے گروپ کے رہنماؤں نے گزشتہ اتوار برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو میں ملاقات کی جس میں کثیر الجہتی سفارت کاری کے لئے بلاک کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دنیا کی معیشت پر امریکی اجارہ داری اور یک محوری دنیا کے خاتمے کا اعلان ہو رہا ہے۔ اب کوئی واحد سپر پاور ہونے کا دعویدار نہیں رہے گا۔ برکس ممالک ترقی پذیر ممالک کے محافظ اور ساتھی ہونے ناتے عالمی امن کے فروغ میں مؤثر قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، جو میرے خیال میں اس وقت سب سے اہم چیز اورا سی بات نے امریکہ سمیت طاقت کے مراکز میں خطرے کی گھنٹیاں بجانا شروع کر دی ہیں۔ اب عالمی معاملات میں برکس ممالک ثابت قدمی سے اپنا مٔوقف کھل کر بیان کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے حواری ممالک پہلے بڑی آسانی سے اپنی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کو دبا دیا کرتے تھے یا ان کو نظر انداز کرتے ہوئے توجہ دینا ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن بدلی ہوئی صورت حال میں برکس رکن ممالک باہم متحد ہو کر اپنا مٔوقف پیش کر رہے ہیں۔ برکس ممالک کا جو عالمی ایجنڈا ہے اس کے مطابق انہوں نے عالمی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کو نئے انداز سے روشناس کرایا ہے۔عالمی سطح پر باہمی بھائی چارے، مستقل اور دیرپا امن کے لئے عالمی قوانین کی سختی سے پابندی اور برابری کی سطح پر تعلقات کے ذریعے خوشحالی اور امن کی منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
نیو ترقیاتی بینک سابقہ برکس ترقیاتی بینک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی اجارہ داری سے آزادی حاصل کرنے کے لئے بڑی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک جو ایک طویل عرصہ سے دنیا بھر کی معیشت اورا قتصادی معاملات کو اپنے شکنجے میں جکڑا چلا آ رہا ہے اس کی یک محوری معاشی اجارہ داری ختم ہونے کے قریب ہے۔ نیو ڈویلپمنٹ بینک ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کے لئے خوش کن ہے جو سخت اور کڑی شرائط پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لینے پر مجبور ہیں۔ آئی ایم ایف ان ممالک کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرضوں کی منظوری دینے سے قبل اپنی شرائط ہر صورت منواتی ہے۔ اس طرح آئی ایم ایف انہیں آہستہ آہستہ اپنے اقتصادی شکنجے میں جکڑتی چلی جاتی ہے اور یہ ممالک اس شکنجے سے کبھی آزاد نہیں ہو پاتے اورا س طرح ان قرضوں کا معمولی بوجھ بڑھتے بڑھتے پہاڑ بن جاتا ہے اور وہ قرضے کی قسط کی ادائیگی کے لئے مزید قرضہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ بینک دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جس سے دنیا میں معاشی طاقت کا روایتی مرکز تبدیل ہو جائے گا۔ دنیا میں اپنی معاشی اور اقتصادی بالادستی برقرار رکھنے کے لئے ان مالیاتی اداروں کو ہر حربہ استعمال کرنا پڑے گا۔ اگر ورلڈ بینک اور نیو ڈویلپمنٹ بینک کے درمیان معاشی مسابقت کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے تو اس کا لامحالہ فائدہ ترقی پذیر ممالک کو پہنچے گا اور ان ممالک میں بھی ترقی کا عمل تیز ہو گا۔ 
اگر نیو ڈویلپمنٹ بینک ترقی پذیر ممالک کو آسان شرائط پر قرضے دیتا اور ان کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے تو اس کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ اس طرح دنیا میں اپنی معاشی اور اقتصادی بالا دستی کو برقرار رکھنے کے لئے ورلڈ بینک کو بھی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔ یہ صورتحال پاکستان کے لئے بھی خوش کن ہے جسے اپنے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے قرضوں کے حصول کے لئے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو بادلِ نخواستہ تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے قرضے آج ایک وبال کی صورت میں کھڑے ہیں جن کی ادائیگی سمجھ سے باہر ہے۔پاکستان کو برکس ممالک میں ہونے والی اقتصادی ترقی سے فائدہ اٹھانے کے لئے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ پاکستان کی حکومت اور معاشی ماہرین کو اب اپنی معاشی پالیسیوں کو انقلابی سطح پر چلانے کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ اگر اس نے بدلتے ہوئے معاشی حالات کو نہ سمجھا اور ان کا ساتھ نہ دیا تو مستقبل میں عالمی معاشی میدان میں اس کا مقام بہت نیچے ہو گا۔

ٹیگز: