(گزشتہ سے پیوستہ)
دنیا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگرچہ مسلمان سیاست یا ثقافت میں اختلافات رکھتے ہیں، لیکن ایک بنیادی مسئلے پر وہ مکمل طور پر متحد ہیں اور وہ ہے حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے محبت، عقیدت اور عقیدہ ختمِ نبوت۔ ایشیا سے لے کر افریقہ، یورپ سے لے کر امریکہ تک، مسلمانوں نے بارہا اس اتحاد کو عملی طور پر ثابت کیا ہے۔ پُرامن احتجاج، علمی جوابات، قانونی درخواستیں اور بین الاقوامی سفارت کاری… سب ذرائع کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ نبی کریمﷺ کی عظمت اور حرمت کا دفاع کیا جا سکے۔ یہ عالمی اتحاد اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رسول اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کوئی معمولی سیاسی یا قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ مسلم شناخت کی روح پر حملہ ہے۔
قانونی اور سیاسی لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک ایسے قوانین رکھتے ہیں جو مذہبی جذبات کے تحفظ اور نفرت انگیز تقاریر کی ممانعت کو یقینی بناتے ہیں، جن میں مقدس مذہبی شخصیات کی توہین بھی شامل ہے۔ یورپ کے متعدد ممالک جیسے جرمنی اور آسٹریا میں اگر کسی شخص نے مذہبی جذبات کو مجروح کیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ حتیٰ کہ بھارت میں بھی تعزیراتِ ہند کی دفعات 295 اور 295 اے کے تحت مذہبی برادریوں کے مقدسات اور شخصیات کی توہین کے خلاف تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے بھی اپنے سابقہ فیصلوں میں اُن افراد کی سزاؤں کو برقرار رکھا ہے جنہوں نے حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی، اور ان اقدامات کو نفرت انگیزی پر اُکسانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے آزادی اظہار کے دائرہ کار سے باہر تصور کیا ہے۔ تاہم، کوئی بھی ملک عقیدہ ختمِ نبوت کے قانونی تحفظ کے معاملے میں پاکستان جتنا پُرعزم اور دوٹوک نہیں رہا۔ 1974ء میں ایک ملک گیر تحریک اور پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے بعد، پاکستان کے آئین میں ترمیم کی گئی جس کے تحت قادیانیوں (احمدیوں) کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔
یہ تاریخی فیصلہ مذہبی امتیاز کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ اسلام کے اس بنیادی عقیدے… ختمِ نبوت … کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔ اگرچہ احمدی جماعت اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے، لیکن ان کے عقائد اس بنیادی اسلامی نظریے سے متصادم تھے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ، جو عوام کی نمائندہ ہے، نے طویل سماعتوں کے بعد یہ طے کیا کہ اس گروہ کا نظریہ اسلام کے متفقہ عقائد سے انحراف کرتا ہے۔ چنانچہ، پاکستان کے آئین میں دوسری آئینی ترمیم کے تحت واضح طور پر یہ شق شامل کی گئی۔ ’’جو شخص حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان نہیں رکھتا، وہ آئین اور قانون کی رُو سے مسلمان نہیں ہے۔‘‘
بعد ازاں، 1984 میں آرڈیننس نافذ کیا گیا، جس کے تحت احمدیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہنے، اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے، یا اپنے عقائد کو اسلام کے طور پر پیش کرنے سے روک دیا گیا۔ یہ قانون 1993 کے معروف ’’ظہیر الدین کیس‘‘ میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے برقرار رکھا، جہاں عدالت نے قرار دیا کہ ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عوامی نظم و ضبط کو قائم رکھنے اور فریب دہی کو روکنے کے لیے مذہبی اظہار پر ضابطہ لگا سکے۔ عدالت نے بجا طور پر مشاہدہ کیا کہ مذہبی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی گروہ کسی دوسرے مذہب کی علامات اور عبادات کو غلط طریقے سے پیش کرے یا ان کی نقالی کرے۔
یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ پاکستان کا یہ قانونی مؤقف کسی بھی فرقے یا کمیونٹی کے خلاف نفرت یا تشدد کو ہوا دینے کے لیے نہیں، بلکہ اسلامی عقائد کے تقدس کے تحفظ کے لیے ایک واضح اور دوٹوک حد کھینچنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے تمام شہری، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، قانون کے تحت مساوی حقوق کے حامل ہیں، لیکن کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے کسی مذہب کے بنیادی عقائد کو مسخ کرے۔
حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی حرمت صرف ایک دینی مسئلہ نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے ایک جذباتی، ثقافتی اور سیاسی معاملہ بھی ہے۔ جب کبھی نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے… خواہ وہ گستاخانہ خاکوں، فلموں یا بیانات کی صورت میں ہو … تو پوری دنیا میں مسلمانوں کی جانب سے جو شدید ردِعمل سامنے آتا ہے، وہ عدم برداشت کی علامت نہیں، بلکہ آپﷺ سے گہری عقیدت اور محبت کا فطری اظہار ہے۔ آزادی اظہار کے نام پر اس قسم کی اشتعال انگیزی صرف تہذیبوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دیتی ہے اور باہمی غلط فہمیوں کو مزید گہرا کرتی ہے۔
دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ جس طرح یہودی اور عیسائی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے لیے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں، اسی طرح مسلمان اپنے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے کہیں زیادہ گہرا اور محافظانہ تعلق رکھتے ہیں۔ اسلام کے نبیﷺ نہ صرف آخری رسول ہیں بلکہ سچائی، رحمت اور عدل کا مجسم نمونہ ہیں۔ آپﷺ کا پیغام آج بھی اربوں لوگوں کے لیے ہدایت کا چراغ ہے، اور آپﷺ کی حرمت ہر چیز سے زیادہ مقدس ہے۔ لہٰذا دنیا کے ہر کونے میں … چاہے وہ عدالتیں ہوں، عبادت گاہیں، قدیم صحیفے یا اہلِ ایمان کے دل … نبی کریمﷺ کے احترام، عزت اور ختمِ نبوت کو تسلیم کرنا اور محفوظ رکھنا لازم ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پکار ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر اُس عظیم ہستی کی حرمت کو پہچانے، جنہوں نے دنیا کے اخلاقی معیار کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ (ختم شد)