لاہور : اردو کے مشہور شاعر احمد فراز کو دنیا سے رخصت ہوئے 17 برس بیت چکے ہیں، لیکن ان کا کلام آج بھی محبت کرنے والوں کے دلوں میں تازہ ہے۔
"اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں" جیسے اشعار فراز کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔
1931 میں کوہاٹ میں پیدا ہونے والے احمد فراز کو شاعری جیسے ورثے میں ملی۔ انہوں نے اردو، فارسی اور انگریزی میں ماسٹرز کیا اور 1960 کی دہائی میں بطور طالبعلم ہی ان کا پہلا شعری مجموعہ تنہا تنہا شائع ہوا۔
ان کی شاعری نے صرف لفظوں کو نہیں جگایا، بلکہ دلوں کو بھی چھوا۔ فراز کے کلام کو مہدی حسن، نور جہاں، اور کئی دوسرے بڑے گلوکاروں نے گایا اور چار چاند لگا دیے۔
محبت، تنہائی، بغاوت اور خوابوں کو جس انداز میں احمد فراز نے بیان کیا، وہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کی ادبی خدمات پر انہیں ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، ہلال پاکستان جیسے بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔
ان کے مشہور شعری مجموعوں میں جاناں جاناں، خواب گل پریشاں، نابینا شہر میں آئینہ، شب خون، میرے خواب ریزہ ریزہ جیسے بے شمار مجموعے شامل ہیں۔
احمد فراز 25 اگست 2008 کو دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کے اشعار آج بھی زندہ ہیں، سننے والوں کے دلوں کو چھوتے ہیں اور دیر تک یاد رہتے ہیں۔