دنیا میں آٹھ جنگیں کہاں کہاں ہو رہی تھیں یہ صرف اسے معلوم ہے جسے یہ جنگیں رکوانے کا دعویٰ ہے، مگر دنیا جانتی ہے یوکرین جنگ گزشتہ دو برس سے جاری ہے۔ یہ جنگ نہیں رک سکی اس میں ہزاروں ارب کا اسلحہ جھونک دیا گیا، نقد امداد برائے یوکرین بھی کئی ارب ڈالر پر مشتمل تھی، بلامبالغہ ہزاروں زندگیاں اس کی نذر ہو گئیں۔ ٹرمپ پیوٹن ملاقات کے اختتام پر بتایا گیا کہ بس اب جنگ کسی بھی دم ختم ہو جائے گی مگر نہ ہوئی، اسی جنگ کے خاتمے کے لئے ایک نئی ملاقات پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ پیوٹن نے گزشتہ ملاقات کے بعد واضح کر دیا تھا کہ آئندہ ملاقات ماسکو میں ہو گی جس پر امریکی صدر نے فوراً ہی اپنے تحفظات کا اعلان کرتے ہوئے نیم دلی سے اس پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن امریکی صدر کی نفسیات کو سمجھنے والے خوب جانتے تھے وہ جنگ بندی پر بات کرنے کے لئے دنیا کے کسی بھی کونے میں جا سکتے ہیں لیکن ماسکو نہیں جائیں گے۔ یہی ہوا وہ ماسکو نہ گئے لیکن ملاقات کے لئے بے چین بھی رہے، دوسری ٹرمپ پیوٹن ملاقات گزشتہ دنوں طے ہو چکی تھی لیکن اسے اچانک منسوخ کر دیا گیا ہے امریکی صدر نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ملاقات کے بطن سے کوئی نتیجہ برآمد ہوتا نہیں دیکھ رہے تھے انہوں نے ایک تلخ حقیقت کا اعتراف کیا ہے دوسری طرف اس ملاقات سے پہلے ہونے والی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے روسی صدر پیوٹن کابھی خیال تھا کہ یہ ملاقات بے نتیجہ رہے گی پس وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے سربراہ اپنے اپنے نکتہ نظر سے کامیابی چاہتے ہیں دونوں میں کوئی بھی کچھ کھونے کے لئے تیار نہیں بلکہ توجہ اس نکتے پر ہے کہ جنگ بندی کے نتیجے میں اسے مزید کیا فائدہ ہو سکتا ہے، جنگ بندی کی راہ میں دوسری بڑی رکاوٹ میدان جنگ میں روس کی مضبوط اور یوکرین کی کمزور پوزیشن ہے۔ روس یوکرین کے وسیع علاقے پر قبضہ کر چکا ہے جہاں سے وہ کسی بھی قیمت پر ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں مزید براں جو ہے جہاں ہے کے فارمولے کے تحت اگر جنگ بندی کی جاتی ہے تو روسی طاقت کی دھاک بیٹھ جاتی ہے وہ آج بھی فاتح ہے لیکن ان شرائط پر جنگ بندی کے بعد اس کی فتح مسلمہ ہو جائے گی یوں اس کے دامن پر لگا ایک داغ کسی حد تک پس منظر میں چلا جائے گا۔ روس اپنی پسندیدہ حکومت اور اس کے سربراہ بشارالاسد کو شام میں نہیں بچا سکا تھا اس کی وجہ روس یا پیوٹن کی طرف سے کوئی کمی نہ تھی، شامی فوج نے لڑنے سے انکار کر دیا تھا ایک عام شامی فوجی سپاہی کے پاس گولی کھا کر مرنے کے لئے کوئی اخلاقی روحانی یا مالی جواز نہ تھا پس اس نے اپنی زندگی سے پیار کیا اور یوں جوق در جوق شامی کمانڈر اور سپاہ نئے حکمران نئے کمانڈروں کے ہاتھ پر بیعت کرتے نظر آئے۔
جنگ بلاشبہ خطرناک ہوتی ہے تباہی لاتی ہے اس میں پھولوں کی نہیں بارود کی بارش ہوتی ہے لیکن متحارب فریق یہ دیکھتے ہیں اور ان کے ساتھیوں کی نظر بھی اس بات پر ہوتی ہے کہ بارود کی بارش کس کو زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے۔ نقصان کے تناظر میں دیکھیں تو یوکرین کا نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ روس اپنی قوت کے بل بوتے پر جنگ لڑ رہا ہے جبکہ یوکرین کی اپنی طاقت ختم ہو رہی ہے وہ اپنے امریکی اور یورپی حلیفوں کی طاقت سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اگر آئندہ چند ماہ میں یہ جنگ بند نہ ہوئی تو خدشہ ہے یوکرین اپنے مزید کچھ علاقے کھو دے گا اس کے ہلاک و زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ یوکرین کو اس کے نادان دوستوں نے عجیب موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ وہ جنگ جاری رکھتا ہے تو بھی تباہ ہوتا ہے اور اسے اپنے اتحادیوں کی خواہش کے خلاف بند کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو بھی وہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا، اتحادی امدادی رقم واپس مانگیں گے۔ جن ممالک کے سر پر جنگیں منڈلا رہی ہیں ان کی حکومتوں اور حربی ماہرین کو روس یوکرین جنگ سے کئی سبق مل سکتے ہیں اب یہ جاننا اور نتیجے پر پہنچنا مشکل نہیںرہا کہ غلطی کس سے اور کہاں ہوئی، کس نے اس غلطی کے بعد کیا کھویا اور کیا پایا۔ جنگ کے بارے میں ایک اور کہاوت درست ثابت ہوئی۔ جنگ چھیڑنے والا جنگ چھیڑ تو سکتا ہے لیکن بعض اوقات جنگ بند کرنا اس کے بس سے باہر ہو جاتا ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کی سو غلطیوں پر بھاری غلطی یہ ثابت ہوئی کہ اس نے ہمسائے میں موجود روس سے تعلقات بہتر کرنے کی بجائے ہزاروں میل کے فاصلے پر موجود ممالک سے تعلقات کو ترجیح دی۔ یوکرین جنگ میں اس کا مفاد کم اور اس کے اتحادیوں کا مفاد زیادہ تھا۔ زیلنسکی کو جھانسہ دیا گیا وہ جھانسے میں نہیں بلکہ ان کے جال میں پھانس گیا، روسی سرحدوں پر نیٹو افواج کو لا بٹھانے کا مقصد یوکرین کی معیشت میں کوئی اہم مثبت کردار ادا کرنا نہ تھا بلکہ روس پر نظر رکھتا پھر مناسب اقدامات، فوج میں اضافے اور روسی سرحد کے ساتھ ساتھ بنکرز اور پناہ گاہوں کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد کوئی بھی بہانہ بنا کر اس پر یلغار کر کے اس کی نیوکلیئر، فوجی اور اقتصادی قوت پر ضرب لگا کر اسے ہمیشہ کے لئے بے بس کرنا تھا، روس نے اپنے سب سے بڑے حریف کی چالبازی کو بروقت سمجھ لیا روسی فوج اور روسی قیادت اپنے دشمن کو افغانستان کی جنگ میں خوب بھگت چکی تھی اور خوب سمجھ چکی تھی بس اس نے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کر کے نقصان اٹھانے کی بجائے اپنی سرحدوں پر جمع ہوتی فوج کے خلاف اٹیک کو بہتر سمجھا۔ روس اگر حالات بہتر ہونے کا انتظار کرتا رہتا اور دشمن کو وقت مہیا کر دیتا تو روس کے دشمن کی پوزیشن مستحکم ہو جاتی، متوقع جنگ میں سب سے بڑی غلطی یہی ہوتی ہے اور دوسری غلطی جو اکثر فوجی کمانڈر کرتے دیکھے گئے وہ دشمن کو پسپا ہونے کے بعد اس کی قوت کو مجتمع ہونے کا موقع دینا سمجھی جاتی ہے۔ یہ دوسری غلطی فتح کو شکست میں
بدل دیتی ہے اور اس کا کم سے کم نقصان یہ ہوتا ہے کہ چند ہاتھ کے فاصلے پر پڑی ہوئی فتح کوسوں کے فاصلے پر چلی جاتی ہے پھر دوبارہ ہاتھ نہیں آتی ۔روس اور یوکرین جنگ میں بعض غیرجانبدار ذرائع ایک نئی سازش کی خبر دے رہے ہیں جس کے بارے میں مغربی میڈیا اور عالمی میڈیا کبھی بات نہیں کرے گا کیونکہ عالمی میڈیا پر ان کا قبضہ ہے جنہوں نے یہ سازش تیار کی ہے، روسی صدر کو منظر سے ہٹانے یعنی ان کی جان کو خطرات بڑھ رہے ہیں، دوران سفر ان کے خصوصی جہاز کو مار گرایا جا سکتا ہے کسی اور ملک کے دورے کے دوران ان کی جان لینے کی کوشش کی جاتی ہے، ان خدشات کے سبب روسی حکومت روسی انٹیلی جنس ایجنسیاں روس کے اتحادی اور ان کی انٹیلی جنس اپنی آنکھیں کھلی رکھے ہوئے ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ روسی صدر کو امریکی صدر سے ملاقات کرنے کے لئے جس سفر پر روانہ ہونا تھا انہیں اس سفر سے بھی اسی لئے منع کر دیا گیا ہو، اپنے دشمنوں کو راستے سے ہٹانے کے لئے دوران سفر ان کے جہاز ہیلی کاپٹر یا گاڑی کو نشانہ بنانا جدید فیشن ہے جبکہ کوئی اہم شخصیت اپنے گھر میں بھی مردہ پائی جا سکتی ہے، ہارٹ فیل تو کسی کا کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔